گوگل اور سوشل میڈیا نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کے اوزار کیسے بن گئے

گوگل

?️

گوگل اور سوشل میڈیا نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کے اوزار کیسے بن گئے

ایک تازہ عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسرائیل کے ساتھ اشتراک کے ذریعے غزہ میں اس کے جنگی جرائم کو چھپانے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے 45 ملین ڈالر کا براہِ راست معاہدہ گوگل کے ساتھ کیا تاکہ غزہ میں قحط اور بھوک کے آثار کو پبلک پلیٹ فارمز سے غائب کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت گوگل نے ایسی اشتہاراتی مہم چلائی جس میں دکھایا گیا کہ غزہ میں خوراک موجود ہے اور باقی سب جھوٹ ہے۔
یہ مہم صرف گوگل تک محدود نہیں رہی بلکہ یوٹیوب، ایکس ، میٹا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی لاکھوں ڈالر کے اشتہارات دیے گئے۔ حتیٰ کہ امریکی انفلوئنسرز کو بھی اس پروپیگنڈے کا حصہ بنایا گیا تاکہ قحط اور نسل کشی کے بیانیے کو دبایا جا سکے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسرائیل نے ایک علیحدہ مہم کے ذریعے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے امداد فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کو بدنام کرنے اور اس کی امدادی سرگرمیوں کو مشکوک بنانے کے لیے فنڈنگ فراہم کی۔ اسی طرح فلسطین نواز تنظیموں اور تحقیقی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اقوامِ متحدہ کی نمائندہ فرانچسکا آلبانیز نے اس معاہدے کو "نسل کشی کو سہارا دینے والا اقدام” قرار دیا، تاہم گوگل کے شریک بانی سرگئی برن نے اقوامِ متحدہ کو یہودی مخالف کہہ کر جواب دیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گوگل اور ایمیزون کا 2021 کا پراجیکٹ نیمبوساسرائیلی فوج کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ خود اسرائیل کے سائبر سکیورٹی ادارے کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ اس منصوبے نے غزہ پر حملوں میں فوج کی کامیابی کو ممکن بنایا۔
امریکی جریدے دی نیشن کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس یونٹ 8200 امریکی کمپنی پلینٹیئر ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ہتھیار تیار کر رہا ہے، جو روزانہ درجنوں مقامات پر حملے کے لیے اہداف طے کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اشتراکی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسرائیل کی "مشینِ قتل” کو فعال رکھنے میں براہِ راست شریک ہیں، جبکہ دنیا کے سامنے غیر حقیقی بیانیہ پیش کر رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

سینے میں بہت راز دفن ہیں لیکن یہ وقت مناسب نہیں، عثمان بزدار کا پرویز الہٰی کے بیان پر ردعمل

?️ 19 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور تحریک انصاف کے رہنما

کسانوں کو 18 سو ارب روپے کے قرضہ جات دیے جائیں گے، شہباز شریف

?️ 31 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ کسانوں

بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر صیہونی حکومت کو شرم کی فہرست میں شامل کیا جائے: حماس

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: عالمی یومِ اطفال کے موقع پر فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک

ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل

?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف جاری جنگ پر عالمی میڈیا کے مختلف بیانیے،

کیا ٹرمپ ہندوستان کو چین کی طرف دھکیل رہے ہیں؟

?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہو

بھارتی وزیراعظم کی اسرائیلی کنیسٹ میں توہین 

?️ 26 فروری 2026 سچ خبریں:نریندر مودی، وزیراعظم بھارت جو مقبوضہ فلسطین کے دورے پر

بھارت نے کشمیریوں کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ رکھی ہے : کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 17 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

اسرائیل کو ایک خطرناک اندرونی بحران کا سامنا ہے:صیہونی حکومت کے سربراہ

?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ اس حکومت کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے