?️
گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے نمائندے کے متضاد بیانات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے نے گرین لینڈ سے متعلق امریکی پالیسی پر ایسے متضاد بیانات دیے ہیں جن سے واشنگٹن کے اصل عزائم پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
جف لینڈری، جو لوزیانا کے ریپبلکن گورنر اور گرین لینڈ کے لیے ٹرمپ کے نئے خصوصی نمائندے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کسی دوسرے ملک پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ آزادی، معاشی طاقت اور حمایت کی علامت رہا ہے اور وہ کسی ملک کو فتح کرنے کے لیے نہیں جاتا۔
تاہم اسی گفتگو میں لینڈری نے لوزیانا کی تاریخ کا حوالہ دیا، جو بظاہر گرین لینڈ پر ممکنہ امریکی بالادستی کے جواز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوزیانا نے اپنی تاریخ میں مختلف پرچموں کے سائے تلے زندگی گزاری اور بالآخر امریکہ کا حصہ بننا اس کے لیے بہتر ثابت ہوا۔ ان کے مطابق، ان کا خاندان 300 سال سے لوزیانا میں آباد ہے اور اس ریاست نے امریکی تاریخ میں دیگر ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ تبدیلیاں دیکھی ہیں۔
لینڈری کے ان بیانات کو ناقدین واضح تضاد قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایک طرف وہ قبضے کے ارادے سے انکار کرتے ہیں اور دوسری جانب ایسی تاریخی مثالیں پیش کرتے ہیں جو بالواسطہ طور پر امریکی توسیع پسندی کی حمایت معلوم ہوتی ہیں۔
ادھر ڈنمارک کی حکومت نے گرین لینڈ کے لیے لینڈری کی بطور خصوصی نمائندہ تقرری پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے اسے ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے اس تقرری اور اس کے مقاصد سے متعلق بیانات تشویش ناک ہیں۔
یہ تنازع اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کھلے عام گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ جنوری میں اپنی دوسری حلف برداری سے قبل لینڈری نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی اور سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ گرین لینڈ کا امریکہ میں شامل ہونا دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
گرین لینڈ سے متعلق امریکی دعوؤں پر یورپی اتحادیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ اس کے عوام کی ملکیت ہے۔ اسی طرح یورپی کمیشن کی صدر نے بھی ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کے نمائندے کے متضاد بیانات نہ صرف امریکہ کی پالیسی میں ابہام کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس معاملے پر عالمی سطح پر بے اعتمادی کو بھی بڑھا رہے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
جنوبی لبنان پر صہیونی حملوں میں شدت
?️ 28 اپریل 2026سچ خبریں:صہیونی حکومت کی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں
اپریل
سعودی عرب نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا
?️ 26 مارچ 2022سچ خبریں: نیوز میڈیا کے مطابق، سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر
مارچ
’توشہ خانہ فہرست نامکمل‘، پی ٹی آئی کا جرنیلوں اور ججوں کی تفصیلات بھی جاری کرنے کا مطالبہ
?️ 13 مارچ 2023لاہور: (سچ خبریں) پی ٹی آئی نے توشہ خانہ کی فہرست کو
مارچ
تربیلا اور چشمہ کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ منگلا ڈیم مکمل بھرگیا
?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) تربیلا اور چشمہ کے بعد پاکستان کا سب
اکتوبر
2021 میں 31 اسرائیلی فوجی مارے گئے
?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں: عبرانی اخبار ہیوم نے رپورٹ کیا کہ 1988 میں تین
جنوری
امریکہ پاکستان میں خطرناک کھیل کھیلنے لگاہے،حافظ حسین احمد
?️ 27 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین
اپریل
ہماری حکومت نے قرضوں کی ادائگی میں ریکارڈ قائم کیا ہے: وزیراعظم
?️ 18 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کی
فروری
سستا پیٹرول یا مہنگا؛ اوپیک سے امارات کے انخلا کا لاطینی امریکہ پر کیا اثر ہوگا؟
?️ 30 اپریل 2026سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کی اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی
اپریل