کیا پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات جنگ کے خاتمے کی نئی امید بن سکتی ہے؟

پوتین

?️

کیا پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات جنگ کے خاتمے کی نئی امید بن سکتی ہے؟
روس اور امریکہ کے صدور ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعرات کے روز ہونے والی طویل ٹیلی فونک گفتگو کے بعد دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتوں میں ہنگری کے دارالحکومت بوداپسٹ میں براہِ راست ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔
یہ رابطہ روسی صدر کی جانب سے کیا گیا اور دو گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ گفتگو کے بعد ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا کہ بات چیت سازگار اور تعمیری رہی۔ کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے بھی اسے بامعنی قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق، پوتن نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کامیابیوں پر مبارکباد دی، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ یہ کامیابی یوکرین کے بحران کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جنگ کے خاتمے کے بعد روس-امریکہ تجارتی تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اگلے ہفتے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی ملاقات ہوگی جس کی قیادت امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر سرگئی لاوروف کریں گے۔ اسی سلسلے میں ٹرمپ اور پوتن کی بوداپسٹ ملاقات کی تیاری بھی شروع ہوگئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، پوتن اور ٹرمپ کی گفتگو نے یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی کو حیران کردیا، کیونکہ وہ امید کر رہے تھے کہ ٹرمپ سے ملاقات میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلز کی فراہمی پر بات ہوگی۔ لیکن پوتن-ٹرمپ رابطے کے بعد ان کے منصوبے متاثر ہوئے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق، یہ ملاقات یورپی یونین کے لیے ایک سیاسی دھچکا اور ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
ادھر امریکی خبررساں ادارہ بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے پوتن سے گفتگو کے دوران اپنے لہجے میں نرمی اختیار کی اور اشارہ دیا کہ وہ فی الحال یوکرین کو تاما ہاک میزائل فراہم کرنے کے حامی نہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کا کہنا ہے کہ ابھی روس اور یوکرین دونوں فریق امن معاہدے کے لیے تیار نہیں، تاہم صدر ٹرمپ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ بوداپسٹ میں ان کی پوتن سے ملاقات "تعمیری اور نتیجہ خیز ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کی جنگ ممکنہ طور پر تیسری عالمی جنگ بن سکتی تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ مناسب وقت نہیں کہ روس پر نئی پابندیاں لگائی جائیں، اگرچہ میں ان کے خلاف نہیں۔
اسی دوران ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اعلان کیا کہ پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات کی تیاری شروع ہوچکی ہے اور ان کا ملک امن کا جزیرہ بنا رہے گا۔
دوسری جانب، روسی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار ولادیسلاو ماسلینکوف نے کہا کہ یورپی یونین اور نیٹو یوکرین میں جنگ کے خاتمے میں نہیں بلکہ اس کے جاری رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

شہزاد اکبر کا شہباز شریف کو چیلنج

?️ 22 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا

مسجدالاقصی پر اسرائیل کی نئی پابندیوں پر شیخ عکرمہ کا رد عمل

?️ 27 فروری 2026مسجدالاقصی پر اسرائیل کی نئی پابندیوں پر شیخ عکرمہ کا رد عمل

سسٹم چلنے والا نہیں ہے، فکر ہے کہیں ملک نہ ڈھے جائے، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 27 فروری 2024پشاور: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے

’بھارت میں کام کرنے کیلئے تیار ہوں، ’جس دیش میں گنگا رہتا ہے‘ میرے ڈرامے کی کاپی ہے‘

?️ 19 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف ڈراما و فلم لکھاری خلیل الرحمٰن قمر نے

شوکت ترین کو وزیراعظم کا مشیر مقرر کر دیا گیا

?️ 18 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) شوکت ترین کووزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا

صیہونیوں کی خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایران مخالف اتحاد تشکیل دینے کی کوشش

?️ 3 مارچ 2021سچ خبریں:صیہونی حکام خلیج فارس کے تین عرب ممالک کے ساتھ ملک

آلاسکا میں ٹرمپ کا یوکرین کی سیاسی وراثت اور مستقبل پر بڑا داؤ

?️ 10 اگست 2025آلاسکا میں ٹرمپ کا یوکرین کی سیاسی وراثت اور مستقبل پر بڑا

آج دھوکے باز اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے دروازے بند کر رہا ہوں، عمران خان

?️ 10 ستمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم و بانی پی ٹی آئی عمران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے