کیا نیتن یاہو جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں؟

جنگ

?️

سچ خبریں: حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو جنگ کے خاتمے کے خواہاں نہیں ہیں اور غزہ سے حماس کے رہنماؤں کا انخلاء ایک احمقانہ خیال ہے۔

فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق تحریک حماس کے سربراہ اسامہ حمدان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بعد صیہونی حکومت کے ہاتھوں غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کو کسی بھی طرح سے زیر بحث نہیں لایا جائے گا، اس سلسلے میں فیصلہ فلسطینیوں کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کو کیا کرنا چاہیے؛اسرائیلی کیا کہتے ہیں؟

حمدان نے نشاندہی کی کہ ہم کسی بھی حالت میں صہیونی دشمن کی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور حماس کے رہنماؤں کا غزہ سے انخلاء ایک احمقانہ خیال ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک قابض حکومت ایک بھی قیدی کو رہا نہیں کر سکی ہے اور اس حکومت کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

حماس کے اس رہنما نے کہا کہ قابض حکومت حالیہ اندرونی بحرانوں کے بعد اسرائیلی رائے عامہ کی نظر میں اپنا امیج بہتر کرنا چاہتی ہے۔

اسامہ حمدان نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے صیہونی حکومت کے مطالبات قابل قبول نہیں ہیں اور اس حکومت کا حالیہ ردعمل بھی فلسطینیوں کے کم سے کم مطالبات بھی پورا نہیں کر رہا ہے جس کے بعد ہم نے ثالثی کرنے والے فریقین کو آگاہ کر دیا ہے کہ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔

حمدان نے واضح کیا کہ نیتن یاہو جنگ کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ مذاکرات کی راہ میں تاخیر اور رکاوٹیں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے القسام بٹالینز کے نائب کمانڈر مروان عیسیٰ کے قتل کے حوالے سے صہیونی فوج کے دعوے کے بارے میں کہا کہ ہمیں ابھی تک اس حوالے سے القسام کمانڈروں کی طرف سے کوئی تصدیق موصول نہیں ہوئی ہے۔

اسامہ حمدان نے بیان کیا کہ صیہونی دشمن نے جنگ کے آغاز سے اب تک اپنے کسی بھی اہداف کو حاصل نہیں کیا اور صرف قتل و غارت گری کا ارتکاب کیا ہے۔

حمدان نے کہا کہ مزاحمتی رہنماؤں کے قتل سے ہم کمزور نہیں ہوں گے اور مروان عیسیٰ کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ غزہ کی نسل کشی میں ملوث ہے۔

مزید پڑھیں: حماس کی شرطیں ماننے کا کیا مطلب ہے؟ نیتن یاہو کی زبانی

دوسری جانب امریکی ویب سائٹ Politico نے اپنی ایک رپورٹ میں سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی قرارداد پر صیہونی حکومت کے ردعمل کے بارے میں امریکی حکام کے تبصروں پر بحث کی ہے اور اس سلسلے میں امریکی سینیٹ کے سینیٹر کرس مرفی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ اسرائیل سلامتی کونسل کی قرارداد کی تعمیل کرے گا جبکہ اسے اقوام متحدہ کی اس کونسل کے فیصلوں کا پابند ہونا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

قازقستان صیہونی حکومت کی بین الاقوامی تنہائی کو توڑنے میں کیوں مدد کر رہا ہے؟

?️ 12 نومبر 2025بسچ خبریں: ین الاقوامی سفارتی ہلچل اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نئے

رفح میں قتل عام کے بعد؛ بائیڈن کی سرخ لکیر کہاں ہے؟

?️ 30 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی تباہ کن جنگ

خوشبو سے خصلت نہیں بدل سکتی

?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں:  بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کی ایسوسی ایشن کے رکن میس

فرانس کس حد تک یوکرین کی مدد کرتا ہے؛فرانسیسی صدر کی زبانی

?️ 8 مارچ 2024سچ خبریں: فرانسیسی صدر نے اندرونی تنقید اور روسی ریڈ لائنز کے

غزہ میں تعلیمی نظام کی تباہی سے ایک گمشدہ نسل کا خطرہ؛ یونیسف کا انتباہ

?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں:یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ صیہونی بمباری

بنگلادیش میں خوفناک حادثہ، درجنوں افراد ہلاک ہوگئے

?️ 6 اپریل 2021ڈھاکا (سچ خبریں) بنگلادیش میں جہاز اور کشتی کے مابین خوفناک تصادم

غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کا واحد راہ حل

?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں:برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون، جنہوں نے غزہ میں جنگ بندی

پرویز الہٰی کا گجرات سے متعلق بیان اُن کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ عظمی بخاری

?️ 13 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے