کیا غزہ جنگ کے دو سال بعد امن منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟

اسرائیل

?️

کیا غزہ جنگ کے دو سال بعد امن منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟
جنگِ غزہ کے دو سال مکمل ہونے پر مصر کے ساحلی شہر شرم‌الشیخ میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، ابتدائی بات چیت کا ماحول مثبت رہا اور فریقین نے آئندہ مرحلوں کے لیے ایک عمومی پلان تیار کر لیا ہے۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری فضائی اور زمینی حملوں کے باعث مذاکراتی پیش رفت اب بھی غیر یقینی ہے۔
یہ بات چیت کئی ماہ کے تعطل کے بعد مصر کی میزبانی میں دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مذاکرات کے پہلے مرحلے میں فریقین فوری جنگ بندی، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں فلسطینی اسیران کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی پر گفتگو کر رہے ہیں۔سیاسی انتظام اور غزہ کے مستقبل سے متعلق معاملات اگلے مرحلے میں زیرِ بحث آئیں گے۔
رپورٹوں کے مطابق، یہ مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت ہو رہے ہیں، اور امریکی صدر ان کی کامیابی کے لیے غیرمعمولی عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد جنگ بندی کو نوبل امن انعام کے اعلان سے پہلے حتمی شکل دینا ہے، جو چند دن بعد متوقع ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اگلے تین دنوں میں کسی حتمی معاہدے کا امکان کم ہے۔ امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کا دباؤ زیادہ تر فلسطینی فریقوں پر ہے تاکہ وہ امریکی شرائط، خصوصاً غزہ کی غیر فوجی حیثیت قبول کریں  جسے حماس نے صاف مسترد کر دیا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی وفد کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے ہیں، جو حال ہی میں اسرائیلی حملے میں بال بال بچے تھے۔اسرائیلی وفد کے ساتھ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق، امریکی ٹیم قیدیوں کے تبادلے کی فہرست اور قیدیوں کی رہائی کے مراحل پر اسرائیلی ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہے، جبکہ ٹرمپ کو ہر پیش رفت کی براہِ راست اطلاع دی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا اختلاف جنگ بندی کے بعد اسرائیلی افواج کے انخلا پر ہے۔حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو مکمل طور پر غزہ سے پیچھے ہٹنے کا واضح ٹائم فریم دینا ہوگا۔
ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے 72 گھنٹوں میں حماس کو 48 اسرائیلی قیدی آزاد کرنے ہیں۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم کی روسی صدر کے ساتھ ملاقات کے شیڈول میں تبدیلی

?️ 24 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات

امریکہ اپنے قونصلر کو قازقستان چھوڑنے پر راضی

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:  جیسا کہ قازقستان بدامنی کے چھٹے دن میں داخل ہو

بھارت افغانستان سے پاکستان کے خلاف ’کم شدت کی جنگ‘ لڑ رہا ہے، وزیرِ دفاع

?️ 30 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

شام کے سابق مفتی اعظم کی شہادت کی متضاد خبریں

?️ 11 جون 2025سچ خبریں: میڈیا نے سابق سوری مفتی شیخ احمد بدرالدین حسون کے

عالمی سطح پر شکست؛ ایران نئی بین الاقوامی طاقت

?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی اتحاد کی ایران کے خلاف جنگ کو عالمی

نئے نیب آرڈیننس کو حتمی قانونی حیثیت مل گئی

?️ 8 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نئے نیب آرڈیننس کو حتمی قانون کی حیثیت

وزیراعظم آج ” میراتھون ٹرانسمیشن” میں بذریعہ فون شرکت کریں گے

?️ 28 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے جاری بیان میں

علیمہ خان کا 8 فروری کے احتجاج میں عدم شرکت کا اعتراف

?️ 11 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) علیمہ خان نے 8 فروری کے احتجاج میں عدم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے