کیا برطانیہ میں سود کی شرح میں کمی سے  معیشت کو بحال ہو سکتی ہے؟

?️

 کیا برطانیہ میں سود کی شرح میں کمی سے  معیشت کو بحال ہو سکتی ہے؟
برطانیہ کے مرکزی بینک نے جمعرات کے روز بینکوں کے درمیان سود کی شرح کو ۴ فیصد سے کم کر کے ۳.۷۵ فیصد کر دیا، جس سے ملک میں قرضے کی لاگت تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ یہ فیصلہ پانچ ارکان کی حمایت کے مقابلے میں چار ارکان کی مخالفت کے بعد منظور ہوا، اور اس میں یہ واضح کیا گیا کہ شرح سود میں کمی کے باوجود مالی پالیسی محدود رہتی ہے اور مستقبل میں کسی بھی اضافی کمی کا انحصار اقتصادی ڈیٹا پر ہوگا۔
اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ کی معیشت ابھی بھی تقریباً صفر نمو، بلند مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ میں مبتلا ہے۔ تیسرے سہ ماہی میں جی ڈی پی میں صرف ۰.۱ فیصد اضافہ ہوا جبکہ اکتوبر میں معیشت میں ۰.۱ فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ بے روزگاری کی شرح تقریباً ۵.۱ فیصد ہے اور تنخواہوں میں کمی کے ساتھ نئے اخراجات بھی سامنے آئے ہیں۔
شرح سود میں کمی قرضداروں اور ہاؤسنگ لون رکھنے والوں کے لیے عارضی طور پر مثبت ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کا اثر مختصر مدت کا ہوگا کیونکہ زیادہ تر قرضے اور نئے معاہدے پہلے ہی شرح سود میں کمی کی توقع کے مطابق کیے گئے ہیں۔ سپردگار اور ریٹائرڈ افراد کو اب کم منافع پر رہنا ہوگا، جبکہ زندگی کے اخراجات کا دباؤ برقرار رہے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف شرح سود میں کمی سے معیشت میں پائیدار بہتری ممکن نہیں، اور اصلاحات جیسے پیداواریت، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صنعتی پالیسی میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔ ورنہ معیشت طویل عرصے تک کم نمو، گھریلو قرضے اور مہنگائی کے دباؤ میں پھنس سکتی ہے۔
سیاسی سطح پر، مرکزی بینک کا یہ فیصلہ کیر اسٹارمر کی حکومت کے لیے بھی اہم ہے۔ شرح سود میں کمی زیادہ تر اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ معیشت کمزور ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اگر مہنگائی دوبارہ بڑھ گئی یا توانائی و خوراک کے عالمی قیمتوں میں شوک آیا تو بینک مرکزی کو مہنگائی کنٹرول اور نمو کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔
مجموعی طور پر، شرح سود میں کمی ایک اہم اقدام ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اکیلا برطانیہ کی تھکی ہوئی معیشت کو مکمل طور پر بحال نہیں کر سکتا اور اصلاحات اور محتاط مالی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

مشہور خبریں۔

پاک بھارت تنازع میں پاکستان کو سفارتی برتری مل گئی، انڈیا کی ناکامی قرار

?️ 14 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع میں پاکستان

شہباز شریف 174 ووٹ لے کر پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم منتخب

?️ 11 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)مسلم لیگ (ن ) کے صدر شہباز شریف 174 ووٹ

پاک، افغان فلیگ میٹنگ کے بعد چمن بارڈر دوبارہ کھول دیا گیا

?️ 28 اپریل 2021بلوچستان( سچ خبریں ) بلوچستان سے افغانستان سے متصل چمن  بارڈر پاکستان

صیہونی رہنماؤں اور نیتن یاہو کے درمیان کیا چل رہا ہے؟

?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی قیدیوں اور

ایپسٹین کیس نے مغرب کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا:روس

?️ 9 فروری 2026سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ جفری ایپسٹین

چھوٹے کاروبار، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بلوچستان کی پہلی ’ایس ایم ای پالیسی‘ منظور

?️ 17 اپریل 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی پہلی

انصار اللہ اور مزاحمت کے ناقابل تسخیر ہونے کا راز کیا ہے؟

?️ 13 جنوری 2024سچ خبریں:امریکہ اور انگلینڈ نے کمانڈ، ٹریننگ اینڈ کنٹرول سینٹرز، گولہ بارود

جب بہن کو بھائی سے جائیداد میں حصہ دلوانے کے لیے ہندو جج نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیا

?️ 23 دسمبر 2024 سرینگر: (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کے رہائشی محمد یوسف بٹ جائیداد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے