کیا اسرائیل ایک امریکی ریاست ہے

اسرائیل امریکہ

?️

کیا اسرائیل ایک امریکی ریاست ہے

امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی اسٹریٹجک وابستگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ ایک خودمختار ریاست کے بجائے امریکہ کے غیرسرکاری سامراجی ڈھانچے کے ایک حصے جیسی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں عالمی طاقت کے توازن کی تبدیلی کی صورت میں اسے ایک مشکل اور غیرمحفوظ مرحلے سے دوچار کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا اسرائیل ایک آزاد ریاست کی بجائے امریکہ کے غیر رسمی ’’امپیریل اسٹیٹ‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے؟ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق اگرچہ دونوں کے تعلقات کو ’’اسٹریٹجک شراکت‘‘ کہا جاتا ہے، مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کا انحصار اس سطح تک پہنچ چکا ہے کہ اسے جدید دور کی ایک تابع ریاست تصور کیا جا سکتا ہے۔

تحلیل کے مطابق اس انحصار کی سب سے بڑی علامت امریکہ کی جانب سے ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد ہے جس نے اسرائیل کی دفاعی صنعت کو گہرائی تک امریکی عسکری ڈھانچے کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں تل ابیب کے اہم عسکری فیصلے بھی مکمل طور پر خودمختار نہیں رہے اور واشنگٹن کی مشاورت کے بغیر حتمی شکل نہیں پاتے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی عالمی سطح پر سفارتی تنہائی بھی تقریباً مکمل طور پر امریکہ کی حمایت سے ہی کم ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور دیگر اداروں میں امریکی ویٹو اور دباؤ ہی اسے ممکنہ کارروائیوں اور پابندیوں سے بچاتے ہیں۔ اگر یہ حمایت نہ ہو تو اسرائیل شدید سفارتی دباؤ کا سامنا کرے۔

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق یہ تعلق اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں اسرائیل کی اسٹریٹجک آزادی مسلسل کم ہو رہی ہے اور اس کا خارجی و عسکری عمل ایک ایسے نظام سے مشروط ہوتا جا رہا ہے جو زیادہ تر واشنگٹن کے مفادات کے مطابق متعین ہوتا ہے۔ جب بھی اسرائیل نے آزادانہ پالیسی اپنانے کی کوشش کی، مثلاً چین کو اسلحے کی فروخت یا توسیعی آبادیاتی منصوبے، امریکہ کے دباؤ نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس وقت عالمی سیاست میں ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں وہ صرف ایک بڑے حامی پر تکیہ کیے ہوئے ہے، جبکہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور امریکہ کی عالمی طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں اس یک طرفہ انحصار سے کئی طویل المیعاد خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں نئی ابھرتی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی محدودیت، سفارتی کمزوری، طاقت کے استعمال پر حد سے زیادہ انحصار اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی کمزور ہوتی حیثیت شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تاریخ میں اکثر وہ ریاستیں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں جو زوال پذیر سامراجی طاقتوں پر حد سے زیادہ انحصار رکھتی ہیں۔ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق امریکہ کی طاقت میں نسبتی کمی اب کوئی مفروضہ نہیں رہی بلکہ ایک نظر آنے والی حقیقت ہے—افغانستان اور عراق میں تھکن، چین کا ابھار اور واشنگٹن کی داخلی سیاسی کمزوریاں اس کی مثال ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کا مکمل انحصار اسے مستقبل کے لیے مزید غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کردی

?️ 23 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے

اسرائیل نے خوراک کی تقسیم کے بہانے فلسطینیوں کو موت کا جال بنا رکھا ہے

?️ 10 جون 2025سچ خبریں: ھآرتض نے آج ایک رپورٹ میں جنوبی غزہ کی پٹی

7.41 روپے کا ریلیف عارضی، وزیر توانائی کا بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی نہ کرنے کا اعتراف

?️ 5 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اب

ہم تعلیم کے خلاف نہیں:طالبان

?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں:افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ہم لڑکیوں کے تعلیم حاصل

افغانستان میں عسکریت پسندوں پر متعدد فضائی حملے، درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️ 12 مارچ 2021 کابل (سچ خبریں) افغانستان میں سیکیورٹی فورسز  نے عسکریت پسندوں پر متعدد

جنگ بندی کے باوجود 6 ماہ میں 754 فلسطینی شہید

?️ 14 اپریل 2026سچ خبریں: غزہ میں سرکاری اطلاعاتی دفتر نے صیہونی حکومت کے حملوں

جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طاقت کی کشمکش میں شدت

?️ 19 دسمبر 2021سچ خبریں:  جیسا کہ یمنی انصار الاسلام فورسز ملک کے اسٹریٹجک علاقوں

طالبان اور دوحہ تیسری ملاقات

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: جون 1402 میں، قطر نے اقوام متحدہ کے نمائندے کے ساتھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے