کیا اب اسرائیل رہنے کی جگہ نہیں رہا،خود اسرائیلی کیا کہتے ہیں؟

صہیونیوں

?️

سچ خبریں: صہیونیوں کے لیے ہجرت کوئی نیا اور عجیب مسئلہ نہیں ہے لیکن اب دستاویزی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صہیونیوں کی نقل مکانی کی نئی لہر مقبوضہ فلسطین کی طرف نہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں کو مستقل طور پر چھوڑنا ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں سیاسی بحران جو نیتن یاہو کے عدالتی نظام کے اختیارات کو کم کرنے کے منصوبے سے مزید شدت اختیار کر گیا ہے، اس میں نہ صرف صیہونی فوج اور خدمات کے شعبے شامل ہیں بلکہ پولیس فورس بھی اس لہر میں شامل ہو گئی ہے۔

عبرانی زبان کے ذرائع نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 54 فوجی افسران نے پولیس فورسز کے ساتھ رضاکارانہ تعاون ختم کر دیا اور پولیس فورسز کے ساتھ تعاون اور کام سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونیوں کی اسرائیل سے ہجرت کرنے کی وجوہات

ایک صہیونی ادارے کے سربراہ لو بیک مین نے صیہونی حکومت کے چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی اس حکومت میں ہونے والے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواستوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیلی غیر ملکی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ حکومت اب رہنے کے لیے اچھی جگہ نہیں ہے، تاہم آباد کاروں کے سامنے یہ سوال ہے کہ جائیداد خریدنے کے لیے صحیح جگہ کہاں ہے اور وہ سرمایہ کاری کے لیے اپنی جائیداد کہاں منتقل کر سکتے ہیں؟

یاد رہے کہ صہیونیوں کے لیے ہجرت کوئی نیا اور عجیب مسئلہ نہیں ہے لیکن اب دستاویزی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صہیونیوں کی نقل مکانی کی نئی لہر مقبوضہ فلسطین کی طرف نہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں کو مستقل طور پر چھوڑنا ہے۔

صیہونی ریاست کی اندرونی صورتحال بتلاتی ہے کہ اسرائیلیوں کے درمیان اندرونی کشیدگی ایک گہرے بحران میں تبدیل ہو چکی ہے جس سے نمٹنا مشکل ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ مقبوضہ فلسطین کے اندرونی تنازعات اب کوئی پارٹی یا سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ نفرت اور ایک دوسرے کو مسترد کرنے پر مبن یایک نظریاتی جنگ ہے جس نے صہیونی معاشرے میں "خود تباہی” کی کیفیت پیدا کردی ہے۔

ایک ایسا مسئلہ جو مقبوضہ سرزمین سے صہیونیوں کی ریورس ہجرت(ناقابل واپسی سفر) کے رجحان کو تیز کرنے کے اہم عوامل میں سے ایک ہے،صیہونی حکومت جس حقیقت کو چھپا نہیں سکتی وہ یہ ہے کہ تناؤ اور اختلافات کے بڑھنے سے وہ اپنے اندر سے ٹوٹ پھوٹ اور تباہی کا شکار ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی نوجوانوں میں سے ایک تہائی مقبوضہ علاقوں سے ہجرت کرنے کے لئے تیار

یہ مسئلہ صہیونیت کے وجود کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کی علامت ہے جس نے اپنی بقا کے لیے پوری دنیا سے یہودیوں کو مقبوضہ فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کے لیے تیارکیا تھا،تاہم اب شاید صہیونیوں کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ صہیونی منصوبہ اپنی زندگی کے خاتمے کے قریب ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی ریاست کی تعمیر کی امید ایک خواب ہے جو پورا نہیں ہو سکے گا۔

عبرانی ذرائع نے بتایا کہ 2022 میں تقریباً 66 فیصد اسرائیلی نوجوانوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر انہیں ملازمت کا موقع مل بھی گیا تو وہ مقبوضہ فلسطین نہیں چھوڑیں گے لیکن نئی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ 56 فیصد اسرائیلی نوجوان ہجرت کے خواہاں ہیں،اس کے علاوہ کچھ صہیونی جو مقبوضہ علاقوں سے باہر سفر کر چکے ہیں واپس نہیں آنا چاہتے۔

مشہور خبریں۔

امریکی فوجی کمانڈر نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے اہم اعلان کردیا

?️ 25 اپریل 2021کابل (سچ خبریں) امریکی فوجی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے افغانستان سے

جنوبی غزہ میں صیہونی جنگی کشتیوں کی فلسطینیوں پر فائرنگ

?️ 20 اگست 2022سچ خبریں:بیت المقدس کی قابض حکومت کی کئی جنگی کشتیوں نے جمعرات

فن لینڈ یوکرین کو فوجی امداد بھیجتا ہے

?️ 2 ستمبر 2022سچ خبریں:  فن لینڈ کی وزیر اعظم سانا مارین جن کا ملک

اسرائیل کی طرف سے غزہ میں واکسن اور دودھ پاؤڈر کی ترسیل میں رکاوٹ؛ یونیسف کا انکشاف

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں:یونیسف نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل غزہ میں انسان دوستانہ

نیٹو کی موجودگی کسی بھی خطے میں کشیدگی کا باعث بنتی ہے: روس

?️ 26 جون 2026سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ میں یورپی امور کے شعبے کے ڈائریکٹر

داعش کی وحشیانہ فلمیں بنانے والے کو عمر قید کی سزا

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:داعش کے وحشیانہ کلپس اور ویڈیوز بنانے والے محمد خلیفہ کو

مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے دفتر حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر کا بیان مضحکہ خیز ہے ، حریت کانفرنس

?️ 2 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

چین کا امریکا پر قومی ٹائم سینٹر میں سائبر حملوں کا الزام

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں: چین نے امریکا پر قومی ٹائم سینٹر میں سائبر حملوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے