چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا نیا دور, تناؤ یا تعاون؟

چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا نیا دور, تناؤ یا تعاون؟

?️

چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا نیا دور, تناؤ یا تعاون؟

 دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتیں، چین اور امریکہ، تجارتی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے نئے دور کے مذاکرات کا آغاز کر چکی ہیں۔ یہ بات چیت ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب دونوں ملکوں کے صدور کی ممکنہ ملاقات ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (APEC) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق، ہفتہ کے روز کوالالمپور میں دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان ملاقات ہوئی۔چینی وفد کی قیادت ہے لی فِنگ، نائب وزیرِاعظم چین، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی اسکاٹ بَیسنٹ، وزیر خزانہ امریکہ، کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات کا مقصد تجارتی محاذ آرائی میں مزید شدت کو روکنا اور ممکنہ طور پر شی جن پِنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنا ہے، جو آئندہ ہفتے جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والے APEC اجلاس کے موقع پر ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں چین کی جانب سے نایاب معدنی عناصر (Rare Earth Elements) کی برآمدات پر سخت کنٹرولز کے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ چینی مصنوعات پر نئے بھاری محصولات (ٹریفز) عائد کر سکتے ہیں — اور حتیٰ کہ چینی صدر کے ساتھ اپنی طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کر سکتے ہیں۔

چین اور امریکہ کے درمیان عارضی تجارتی معاہدے کی مدت 10 نومبر کو ختم ہو رہی ہے، اور اگر اسے توسیع نہ دی گئی تو ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے چینی کمپنیوں کے خلاف ٹیکنالوجی سے متعلق پابندیاں سخت کر دی ہیں اور یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکی بندرگاہوں پر آنے والے چینی بحری جہازوں پر اضافی محصولات عائد کر سکتا ہے۔جواب میں، چین نے بھی جوابی اقدامات کیے ہیں.

چینی وزارتِ تجارت نے اس ہفتے ایک غیر معمولی اجلاس میں غیر ملکی کمپنیوں کو یقین دلایا کہ یہ اقدامات معمول کی تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے نہیں، بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک قانونی اور جائز اقدام ہیں، جن کا مقصد مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان ایک بار پھر گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پر امید ہے

?️ 21 اکتوبر 2021اسلام اباد (سچ خبریں)  پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت

اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں:لبنانی صدر  

?️ 17 فروری 2025 سچ خبریں:لبنان کے صدر نے کہا کہ وہ صہیونی حکومت کو

کیا صیہونی غزہ جنگ جیت سکیں گے؟صیہونی اخبار کی زبانی

?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: ایک صہیونی اخبار نے رفح شہر پر حملے کی ضرورت

تنازعات کے حل کیلئے سفارتکاری پر یقین رکھتا ہوں: وزیر اعظم

?️ 27 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ

منسک: برکس میں مکمل رکنیت بیلاروس کی ترجیحات میں شامل

?️ 16 مئی 2026سچ خبریں: بیلاروس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ برکس

صیہونی حکومت جنگ بندی کے باوجود غزہ پر کیوں حملے کر رہی ہے؟

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں:اسرائیل جنگ بندی کو صرف ایک عارضی حکمتِ عملی سمجھتا ہے

سرکاری اراضی قبضہ کیس: محمود خان اچکزئی کے وارنٹ گرفتاری معطل

?️ 27 اپریل 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) سرکاری اراضی قبضہ کیس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

غیر قانونی تقرریوں کا کیس: پرویز الہٰی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

?️ 16 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے