پاکستان  کابل میںہونے والے فضائی حملوں کی خبروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے

پاکستان

?️

پاکستان  کابل میںہونے والے فضائی حملوں کی خبروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے

 افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ شب ہونے والے دھماکوں کے بعد افغان میڈیا کی جانب سے پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کی خبریں سامنے آئیں، جن پر اسلام آباد نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے۔

جمعہ کو موصولہ اطلاعات کے مطابق افغان ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر موجود وہ اکاؤنٹس جو پاکستانی عسکری ذرائع سے منسلک بتائے جاتے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے کابل میں فضائی کارروائیاں کیں جن میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے بعض جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں نور ولی محسود — جو طالبانِ پاکستان کا مرکزی رہنما سمجھا جاتا ہے — ہلاک ہوگیا، تاہم دیگر ذرائع نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ محسود زندہ ہے اور اس نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ تاریخ اور دن (جمعہ، 10 اکتوبر) کا حوالہ دیتا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے حکام نے ملکی میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ افغانستان سے متعلق ہونے والی تازہ پیش رفت سے باخبر ہیں اور فی الحال ان خبروں کی تصدیق کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ نور ولی محسود کی مبینہ آڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے بعد۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں، جب کہ کابل کی عبوری حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے ایک بار پھر افغان حکام کو خبردار کیا ہے، جبکہ وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں کہا کہ تمام افغان شہریوں کی وطن واپسی کا وقت آ گیا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز اورک زئی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز پر حملے میں ملوث 30 دہشت گرد مارے گئے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات سرحدی انتظام، انسدادِ دہشت گردی اور باہمی الزامات کے باعث تناؤ کا شکار ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان ملک میں حالیہ بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جبکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس گروہ کے جنگجو افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت رکھتے ہیں۔

افغان عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، اور پاکستان کو اپنے داخلی مسائل حل کرنے چاہئیں۔

ادھر پاکستان نے اپنے مشرقی پڑوسی بھارت پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کو مالی اور عسکری مدد فراہم کر رہا ہے۔ تاہم نئی دہلی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ "ریاستی سطح پر دہشت گردی کی حمایت” بند کرے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کے ہاتھوں الجزیرہ کی رپورٹر شہید

?️ 14 مئی 2022سچ خبریں:الجزیرہ کی رپورٹر کو جنین پر صیہونی عسکریت پسندوں کے حملے

پاک فضائیہ کے 4 افسران کو ترقی دے دی ہے

?️ 12 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے جاری بیان

سندھ میں گذشتہ ماہ میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ریکارڈ

?️ 2 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) کورونا وائرس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ

ایران امریکا اسرائیل جنگ، پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی آج بھی 104 پروازیں منسوخ

?️ 6 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) کراچی سے دبئی، دوحہ، ابوظبی، شارجہ اور بحرین

6 اپریل کو امید ہے پراسیکیوشن مزید بہانہ بازی نہیں کرے گی،مہر بانو قریشی

?️ 12 اپریل 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو

حکومت نے کیا اپوزیشن کی سازش کو بے نقاب: شبلی فراز

?️ 12 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خیریں) اسلام آباد میں سینیٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

سلمان خان کی نئی ویڈیو سے مداح  تشویش میں مبتلا

?️ 30 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ اسٹار سلمان خان اور شہناز گِل کے درمیان

حماس: امریکی قرارداد خطرناک ہے اور بین الاقوامی نظام کے پورے ڈھانچے کو درہم برہم کرتی ہے

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: حماس کے ایک سینئر رہنما اسامہ حمدان نے اس بات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے