?️
سچ خبریں:حماس نے مقبوضہ بیت المقدس کے کفر عقب میں آنروا کے مرکز کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں مقبوضہ بیت المقدس میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی اور روزگار ایجنسی آنروا کے مرکز کو مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے جرائم کے مقابلے میں عالمی برادری کی مسلسل بے بسی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع کفر عقب میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی اور روزگار ایجنسی آنروا کے مرکز کی مسماری فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی منظم اور مسلسل جارحیت کا تسلسل ہے۔
حماس کے مطابق یہ کارروائی اقوام متحدہ سے وابستہ ایک ادارے پر کھلا حملہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی معاہدوں کو کھلا چیلنج ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی مسلسل بے عملی اور اسرائیل کے بار بار کیے جانے والے جرائم کے خلاف مؤثر ردعمل کا فقدان، بین الاقوامی نظام کی کھلی بے توقیری کو ظاہر کرتا ہے۔
تحریک کے مطابق اسرائیل کے خلاف عملی کارروائی نہ ہونے سے اسے مزید جارحیت، پرتشدد پالیسیاں مسلط کرنے اور بین الاقوامی معاہدوں و قوانین کی مزید خلاف ورزیوں کی ترغیب مل رہی ہے۔
حماس نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور اسرائیل کے خلاف مؤثر تعزیری اور روک تھام کے اقدامات کیے جائیں۔
حماس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری پر بھی زور دیا کہ وہ آنروا کا تحفظ کریں اور اسے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل بنائیں۔
تحریک کے مطابق آنروا فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے اور ان کے اس قطعی حق کی بین الاقوامی گواہی ہے کہ وہ اپنے ان گھروں اور سرزمینوں کو واپس لوٹیں جہاں سے انہیں صہیونی گروہوں نے جبراً بے دخل کیا تھا۔
دوسری جانب حماس کے سیاسی دفتر کے رکن ڈاکٹر باسم نعیم نے کہا کہ نیتن یاہو حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی اور روزگار ایجنسی آنروا کے دفتر کو مسمار کرنا جنگی جرم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک سرکش اور بیمار گروہ کی جانب سے عالمی برادری کے منہ پر طمانچہ ہے، جس نے کئی دہائیوں کے دوران خود کو کسی بھی سزا سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔
باسم نعیم نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف عملی تعزیری اقدامات نہ کرنا اور صرف مذمتی بیانات اور زبانی اظہار تک محدود رہنا، درحقیقت اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔


مشہور خبریں۔
5 ماہ کے دوران ترقیاتی منصوبوں پر وفاق کے اخراجات انتہائی نچلی سطح پر رہنے کا انکشاف
?️ 17 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں
دسمبر
ہندوستان اور برطانوی فوجی تعاون کو بڑھانے کے معاہدے پر دستخط
?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں: جمعہ کو ہندوستان کے دورے کے دوران برطانوی وزیر اعظم
اپریل
یمن کی جنگ میں شمولیت اسرائیل کے لیے نیا اسٹریٹجک بحران: صیہونی اخبار کی رپورٹ
?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار معاریو کے مطابق یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی
مارچ
فلسطین کے لیے ہماری کی حمایت کمزور نہیں ہوگی:ترک صدر
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر نے دعویٰ کیا کہ انقرہ کے تل ابیب
اگست
غزہ کے رہائشی اگر بمباری سے نہ مریں تو بھوک سے مر جائیں گے
?️ 18 مئی 2025 سچ خبریں:غزہ میں صیہونی بمباری کے بعد سینکڑوں خاندان لاپتہ ہوچکے
مئی
برطانیہ اسرائیل کے لیے کیا کر سکے گا؟
?️ 13 اکتوبر 2023سچ خبریں: برطانوی فوج اسرائیل کی مدد کے لیے اپنی شاہی نیوی
اکتوبر
مجھے یحییٰ آفریدی پر ترس آتا ہے وہ سیکنڈ کلاس سول جج بنا ہوا ہے، اعتزازاحسن
?️ 7 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کے معروف قانون دان چوہدری اعتزاز احسن
جولائی
آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلنا ممکن نہیں ہے: وزیر خزانہ
?️ 17 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں)) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے
جون