?️
پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ
یمن میں حالیہ پیش رفت اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور تازہ سیاسی و سلامتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے گفتگو کے دوران خطے میں امن و استحکام کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے مشرقی صوبے حضرموت میں سعودی عرب اور امارات کے حامی دھڑوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے اماراتی صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی، جس میں باہمی تعلقات اور علاقائی امور پر گفتگو کی گئی۔
دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ حضرموت کے بندرگاہی شہر المکلا میں بعض مشتبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتحاد کے مطابق فجیرہ بندرگاہ سے بغیر اجازت آنے والے دو بحری جہازوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر کے بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی گاڑیاں اتاریں، جن کا مقصد جنوبی عبوری کونسل کی حمایت اور اندرونی کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔
سعودی حمایت یافتہ اتحاد نے کہا ہے کہ وہ حضرموت اور المہرہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی فریق کو بغیر ہم آہنگی کے فوجی مدد فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اتحاد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ المکلا میں کی گئی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق تھیں اور ان میں شہری نقصانات سے بچنے کی کوشش کی گئی۔
ان واقعات کے بعد سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی درخواست پر فوری عمل کرتے ہوئے اپنے تمام فوجی دستے 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی داخلی یمنی فریق کو فوجی یا مالی مدد فراہم نہ کرے۔
سعودی بیان میں خلیجی ممالک کے درمیان بھائی چارے، حسن ہمسائیگی اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ امارات ایسے اقدامات کرے گا جو دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن و استحکام کو تقویت دیں گے۔
تاہم سعودی مؤقف پر امارات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ ابوظبی کی وزارت خارجہ نے سعودی بیان کے مندرجات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یمن کی اندرونی کشیدگی میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی اور سعودی عرب کی سلامتی و استحکام کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔
ان پیش رفتوں کے باعث خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
عراق کے بغداد، انبار، دیالی اور سلیمانیہ میں 4 داعشی دہشت گرد گرفتار
?️ 26 اپریل 2026سچ خبریں: عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز نے ایک خصوصی آپریشن
اپریل
افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں نظر انداز
?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں: طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی
اکتوبر
حمیرا اصغر کی رازداری کا احترام کریں، بشریٰ انصاری اور حدیقہ کیانی کی سوشل میڈیا صارفین سے اپیل
?️ 13 جولائی 2025کراچی: (سچ خبریں) شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری اور گلوکارہ
جولائی
Instagram Is Testing Photo Albums, Because Nothing Is Sacred Anymore
?️ 7 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
بارشوں میں اموات، مریم نواز نے امداد کا اعلان کردیا
?️ 19 جولائی 2025چکوال (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے حالیہ بارشوں کے دوران
جولائی
چین اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کے مخالف
?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: غزہ جنگ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 10ویں ہنگامی
ستمبر
سندھ: نوشہرو فیروز اور گھوٹکی میں اونچے درجے کا سیلاب، کچے کے متعدد دیہات زیر آب
?️ 20 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ میں
ستمبر
کسی صورت فلسطین میں ہونے والے مظالم کا ساتھ نہیں دیں گے۔ گورنر سندھ
?️ 19 فروری 2026کراچی (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ہم
فروری