?️
ٹرمپ کا غزہ منصوبہ, عرب دنیا کے لیے ایک نیا امتحان
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک نیا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ بظاہر جنگ کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ سامنے آیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق، یہ دراصل پرانے معاملۂ صدی ہی کی نئی شکل ہے۔
فلسطینی اداروں کا اخراج منصوبے میں حماس اور فلسطینی اتھارٹی، دونوں کو سیاسی عمل سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے اور غزہ کو بین الاقوامی نگرانی کے تحت چلانے کی تجویز دی گئی ہے، جو فلسطینی عوام کے حقِ حاکمیت کو نظرانداز کرتی ہے۔
اسرائیلی تحفظ کی تقویت غزہ کے مکمل غیر مسلح کرنے کی شرط رکھی گئی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کے انخلا کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ اس سے فلسطینی عوام مستقبل کے کسی بھی حملے کے سامنے کمزور اور بے دفاع رہ جائیں گے۔
مہاجرین کے حقِ واپسی کو نظرانداز کرنا منصوبے میں اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) کا کوئی ذکر نہیں، جو لاکھوں فلسطینی مہاجرین کی واحد پناہ گاہ رہی ہے۔ اس خاموشی کو ماہرین فلسطینی حقِ واپسی کے خاتمے کی طرف قدم قرار دے رہے ہیں۔
غیر مساوی تبادلہ: قیدیوں کی رہائی کے وعدے کو فلسطینیوں کے بنیادی مطالبات جیسے آزادی، ریاست کا قیام اور مکمل انخلا سے مشروط کر کے، ایک برد-باخت فارمولا بنایا گیا ہے جو صرف اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دیتا ہے۔
حیران کن طور پر، آٹھ عرب و اسلامی ممالک — ترکی، اردن، امارات، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب، قطر اور مصر — نے ایک مشترکہ بیان میں ٹرمپ کے منصوبے کو قابلِ تعریف قرار دیا اور اسے امن کی طرف ایک قدم بتایا۔ حتیٰ کہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کرنے کے بجائے مثبت ردعمل دیا۔
یہ رویہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ عرب حکومتیں فلسطین کے مسئلے کو اپنی خارجہ پالیسی کے سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بچانے، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور مغربی دنیا سے فوجی و سیکورٹی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ استعماری اور یکطرفہ ہے اور اس کی قسمت معاملۂ صدی جیسی ناکامی ہوگی۔تاہم عرب ممالک کا جھکاؤ ایک تاریخی بدنامی کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اس سے عرب لیگ کا کردار مزید کمزور ہوگا۔یہ صورتحال خطے میں مقاومت کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے، جو امریکہ پر عدم اعتماد اور خود انحصاری پر زور دیتا ہے۔
اسلامی دنیا کے عوام فلسطین کے ساتھ اپنی حمایت میں مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن عرب حکومتوں کی پالیسی ان کے برعکس ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خوابِ غفلت بالآخر عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
آئزن کوٹ کا نیتن یاہو پر شدید حملہ
?️ 13 جون 2026سچ خبریں: سابق اسرائیلی فوجی سربراہ اور یش عتید پارٹی کے رہنما گادی
جون
آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، ہر قیمت پر دہشتگردی کو ختم کرنے کا عزم
?️ 5 اپریل 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر کی زیر صدارت
اپریل
اسرائیلی قیدیوں کے متعلق اسرائیلی وزیر کے بیان کی شدید مذمت
?️ 31 جولائی 2025اسرائیلی قیدیوں کے متعلق اسرائیلی وزیر کے بیان کی شدید مذمت صہیونی
جولائی
میڈیا پر ذہنی صحت جیسے مسائل کو اجاگر نہیں کیا جاتا، ثروت گیلانی
?️ 5 اپریل 2023کراچی: (سچ خبریں) ثروت گیلانی نے ذہنی صحت سے متعلق بات کرتے
اپریل
بگرام بیس کے حوالے سے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی سینئر طالبان رہنماؤں سے اہم ملاقات
?️ 26 ستمبر 2025سچ خبریں: افغان ذرائع نے المیادین کو بتایا ہے کہ طالبان کے رہبر
ستمبر
ملک بھر میں کورونا کی چوتھی لہر کے وار جاری ہیں
?️ 9 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں
ستمبر
سینیٹ سے ریکوڈک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کا ترمیمی بل منظور
?️ 16 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) بلوچستان میں ریکوڈک کے تانبے اور سونے کی
دسمبر
مغربی میڈیا طلبہ کی بغاوت کے خلاف؛ وجہ؟
?️ 10 مئی 2024سچ خبریں: حالیہ دنوں میں، امریکی یونیورسٹیوں نے فلسطین کی حمایت میں احتجاج
مئی