?️
موساد کی جانب سے بدامنیوں کی حمایت ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے:الجزیرہ
ایران میں حالیہ احتجاجات کے ساتھ ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ عالمی میڈیا نے ان بدامنیوں کو صرف ایک داخلی معاملہ قرار دینے کے بجائے، غیر ملکی مداخلت کے زاویے سے پیش کیا ہے، جس میں واشنگٹن کی کھلی حمایت سے لے کر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے براہِ راست پیغامات تک شامل ہیں۔
اگرچہ ایران میں احتجاجات کا آغاز معاشی اور سماجی نارضایتیوں کے پس منظر میں ہوا، تاہم یہ تیزی سے ایک داخلی مسئلے سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے کا حصہ بن گئے۔ مغربی میڈیا نے ان واقعات کو اس انداز میں پیش کیا کہ ایران کی صورتحال عالمی دباؤ، سیاسی بیانیہ سازی اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کا میدان بن گئی۔
مغربی ذرائع ابلاغ میں امریکی حکام کے مداخلت آمیز بیانات نمایاں رہے، جن میں مظاہرین کی علانیہ حمایت کی گئی۔ امریکی وزارت خارجہ نے 31 دسمبر 2025 کو اپنے فارسی ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ وہ ایران میں مظاہرین کے بارے میں شدید تشویش رکھتی ہے اور دعویٰ کیا کہ بنیادی حقوق کا مطالبہ جرم نہیں۔ ان بیانات کو سی بی ایس نیوز اور دیگر بڑے مغربی میڈیا اداروں نے وسیع پیمانے پر نشر کیا۔
اسی دوران، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 جنوری 2026 کو دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی تو امریکہ مداخلت کے لیے تیار ہے۔ ان بیانات کو امریکی اور یورپی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی، جسے ایرانی حکام نے کھلی مداخلت قرار دیا۔
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے ان بیانات کے جواب میں خبردار کیا کہ امریکہ کی کسی بھی مداخلت سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ علی لاریجانی اور علی شمخانی کے سخت ردعمل کو بھی عالمی میڈیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے طور پر پیش کیا۔
احتجاجات کے دوران اسرائیل کا کردار مزید نمایاں ہوا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حکام نے علانیہ اور پسِ پردہ مظاہرین کی حمایت کی۔ ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر، موساد نے دسمبر کے آخری دنوں میں اپنے فارسی ایکس اکاؤنٹ پر ایرانی عوام کے نام پیغام جاری کیا، جس میں انہیں سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دی گئی۔
ترک چینل ٹی آر ٹی ورلڈ نے اس پیغام کو اسرائیلی خفیہ ادارے کی جانب سے مظاہرین کی کھلی حوصلہ افزائی قرار دیا، جبکہ الجزیرہ سے گفتگو میں ماہرین نے موساد کے اس اقدام کو ایران کے داخلی معاملات میں براہِ راست غیر ملکی مداخلت کا ثبوت قرار دیا۔
اسرائیلی سیاسی شخصیات نے بھی سخت اور اشتعال انگیز بیانات دیے۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ایک ویڈیو پیغام میں ایرانی عوام کو قیام پر اکسانے کی کوشش کی، جبکہ اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب اور کابینہ کے بعض وزرا نے سوشل میڈیا مہم کے ذریعے مظاہرین کی بالواسطہ حمایت کی۔
ایرانی حکام نے احتجاجات کو بیرونی دشمنوں سے منسوب کیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ایران کے اٹارنی جنرل محمد موحدی آزاد نے کہا کہ عوامی معاشی مسائل قابلِ فہم ہیں، لیکن بیرونی عناصر کی جانب سے احتجاجات کو عدم تحفظ میں بدلنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق، موساد اور دیگر غیر ملکی عناصر کی کھلی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران میں ہونے والی بدامنیوں میں بیرونی مداخلت ایک واضح اور قابلِ مشاہدہ حقیقت بن چکی ہے۔

مشہور خبریں۔
گوانتاناموبے سے 2 پاکستانی قیدی ملک منتقل
?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:پاکستانی خبر رساں ذرائع نے امریکی وزارت دفاع کے حوالے سے
فروری
صیہونی کابینہ سے عوامی بداعتمادی، نارضایتی اور مایوسی میں اضافہ
?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:ایک حالیہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ
نومبر
صیہونی غزہ میں بچوں کے اسپتال کو کیوں نشانہ بناتے ہیں ؟
?️ 6 نومبر 2023سچ خبریں: جہاں صہیونی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو
نومبر
200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی ہلاک، 23 جوان شہید، 29 زخمی ہوئے، آئی ایس پی آر
?️ 12 اکتوبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی
اکتوبر
سابق موساد افسر: ایران کے خلاف جنگ شکست خورده است
?️ 3 مئی 2026سچ خبریں: موساد کے ایک سابق سینئر افسر نے جوہری معاملے پر
مئی
سعودی اتحاد نے الحدیدہ صوبے میں 126 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی
?️ 22 دسمبر 2021سچ خبریں: سعودی جارحیت پسندوں نے منگل کے روز یمن کے صوبہ الحدیدہ
دسمبر
روپیہ مستحکم،ڈالر کی قیمت کمی
?️ 3 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)انٹربینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران روپے کی قدر
اگست
صہیونی فوج میں نئی بغاوت کی پہلی نشانیاں
?️ 19 مارچ 2025سچ خبریں: خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ایک
مارچ