صیہونی رہنماؤں کا چنگیز خان سے موازنہ منگولوں کی توہین ہے؛ صہیونی مورخ کا اعتراف

صہیونی مورخ

?️

سچ خبریں:صہیونی مورخ روون آمیتای نے صیہونی قیادت کا چنگیز خان سے موازنہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگول سلطنت اپنی وحشیانہ جنگوں کے باوجود واضح تزویراتی اہداف اور طویل المدتی منصوبہ بندی رکھتی تھی۔

ایک صہیونی تجزیہ نگار اور مورخ نے موجودہ صیہونی قیادت کا منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موازنہ خود منگولوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے، کیونکہ منگول سلطنت اپنی انتہائی خونریز اور وحشیانہ کارروائیوں کے باوجود واضح اہداف رکھتی تھی۔

دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے غم و غصے کے پس منظر میں، خصوصاً غزہ میں صیہونی کارروائیوں پر ہونے والی تنقید کے دوران، عبرانی اخبار ہارٹز میں شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں صہیونی تجزیہ نگار اور مورخ روون آمیتای نے موجودہ صیہونی قیادت اور چنگیز خان کے درمیان کیے جانے والے موازنے پر تنقید کی ہے۔

منگولوں کے برعکس صہیونی قیادت کے واضح تزویراتی اہداف نہیں

روون آمیتای نے لکھا کہ موجودہ صیہونی قیادت اور منگولوں کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ منگول سلطنت اپنی وحشیانہ کارروائیوں کے باوجود واضح تزویراتی اہداف اور طویل المدتی منصوبے رکھتی تھی۔

ان کے مطابق، محض طاقت اور تشدد کسی ریاست کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے، کیونکہ جنگوں کے لیے واضح اہداف اور بالآخر ایک سیاسی انجام بھی ضروری ہوتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں منگول تاریخ کے ماہر اس مورخ نے صیہونی فوج کے ریٹائرڈ افسر اساف اوریون کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے اسرائیل کی سرحدی علاقوں سے متعلق پالیسی کو چنگیز خان کے طرزِ عمل سے تشبیہ دی تھی۔

آمیتای نے کہا کہ یہ موازنہ صیہونی رہنماؤں کے مقابلے میں منگولوں کی زیادہ توہین ہے، کیونکہ چنگیز خان اور اس کے جانشینوں نے بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور تباہی کے باوجود اپنی جنگوں میں زیادہ واضح اور منظم تزویراتی منطق کی پیروی کی۔

تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ منگولوں نے اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کرنے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے دانستہ طور پر تشدد اور تباہی کا استعمال کیا۔ 13ویں صدی میں وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کی فوجی مہمات میں بفر زون قائم کرنا بھی شامل تھا۔

منگولوں اور اسرائیل کے درمیان مماثلت؛ تشدد پر مبنی پالیسی

مذکورہ مورخ نے کہا کہ منگولوں کی تشدد اور طاقت پر مبنی پالیسی اور لبنان، شام اور غزہ میں اسرائیل کی جانب سے قائم کیے جانے والے سکیورٹی زونز کے درمیان کچھ مماثلتیں ضرور موجود ہیں، تاہم حالات اور پیمانے میں فرق کے باعث یہ مماثلت محدود ہے۔

روون آمیتای کے مطابق بنیادی فرق تزویراتی سوچ کی نوعیت میں ہے۔ چنگیز خان اور اس کے جانشین انتہائی تشدد اور خونریزی کے باوجود طویل المدتی اہداف طے کرتے تھے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

تجزیہ کے مطابق منگول حکمران اپنی فوجی منصوبہ بندی میں رسد اور نقل و حمل کے معاملات کو بھی مرکزی اہمیت دیتے تھے، خصوصاً اس لیے کہ ان کی فوجیں بڑی حد تک گھڑ سوار دستوں پر انحصار کرتی تھیں اور طویل فوجی مہمات کے دوران انہیں وسیع چراگاہوں، پانی اور بڑی تعداد میں گھوڑوں کی ضرورت ہوتی تھی۔

تل ابیب کی پالیسی مبہم اور ناقابلِ حصول اہداف پر مبنی ہے

تجزیہ کے تجزیہ نگار نے زور دیا کہ اس کے برعکس حالیہ برسوں میں صیہونی پالیسی مبہم یا ناقابلِ حصول اہداف اور ایسی سیاسی و عسکری گفتگو سے نمایاں ہوئی ہے جس میں مکمل فتح کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن اس فتح کے حصول کے عملی طریقہ کار اور مطلوبہ وسائل کی حقیقت پسندانہ وضاحت نہیں کی جاتی۔

اس صہیونی مورخ کے مطابق واضح سیاسی اہداف کے بغیر جنگ جاری رکھنا محض ہنگامی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بحث و احتجاج کی گنجائش محدود کرنے کے ذریعے حکومت کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ طویل المدتی تزویراتی اہداف کے تعین کے باوجود، منگولوں کی طاقت اور تشدد بھی انہیں مستقل فوجی برتری فراہم نہیں کرسکا۔

تجزیہ کے مطابق، تقریباً 6 دہائیوں تک جاری رہنے والی منگولوں اور مملوکوں کی کشمکش کے بعد منگولوں نے ایران اور اس کے اطراف میں مملوکوں کے ساتھ تصادم ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے اور بالآخر 1323ء میں ایک امن معاہدہ طے پایا۔

تجزیہ نگار کے مطابق اس تاریخی نتیجے کے اہم مضمرات ہیں: یہاں تک کہ ایک وسیع پیمانے پر توسیع پسند فوجی سلطنت، جیسی کہ منگول سلطنت، نے بھی بالآخر فوجی طاقت کی حدود اور اپنے دشمن کے ساتھ سیاسی سمجھوتے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔

فوجی طاقت کے ساتھ سیاسی مقصد بھی ضروری ہے

تجزیہ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ منگولوں اور مملوکوں کے درمیان تاریخی تنازع محض ایک قدیم جنگ کی داستان نہیں بلکہ موجودہ دور کے لیے بھی ایک سبق فراہم کرتا ہے کہ فوجی طاقت اور سیاسی اہداف کے درمیان کیا تعلق ہونا چاہیے۔

تجزیہ کے مطابق، تباہی اور وحشیانہ طاقت اپنے طور پر مستقل سلامتی یا برتری کی ضمانت نہیں دے سکتی، جبکہ واضح اہداف، طویل المدتی منصوبہ بندی کی صلاحیت اور مذاکرات کے لیے آمادگی کسی بھی تنازع کو ختم کرنے میں اہم عوامل ہوسکتے ہیں۔

روون آمیتای کے مطابق اسی تناظر میں موجودہ صیہونی رہنماؤں کا چنگیز خان سے موازنہ منگول سلطنت کے لیے بھی ناانصافی ہے، کیونکہ منگول سلطنت اپنی خونریز تاریخ کے باوجود ایک واضح تزویراتی تصور رکھتی تھی اور بالآخر اپنے دشمنوں کے ساتھ امن کی جانب بڑھنے کی ضرورت کو تسلیم کرگئی تھی۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو نے خفیہ ملاقاتوں میں فلسطینی اتھارٹی کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ

عمران خان، اہلیہ کی درخواست ضمانت کیس میں عدم حاضری، سپرنٹنڈنٹ جیل کو شوکاز نوٹس جاری

?️ 21 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے

چین نے ایران سے متعلق برطانوی اخبار کے دعوے کی تردید کی

?️ 30 اپریل 2026 سچ خبریں:چین نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے اس دعوے کو

صیہونی سیکورٹی معاملات میں ناکام

?️ 23 ستمبر 2021  سچ خبریں: عربی 21 کے مطابق ، صہیونی امیر بوخبوط نے

بائیڈن حکومت کا اسرائیل پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ

?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر

صیہونیوں کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی 1520 خلاف ورزیاں، 559 افراد جاں بحق

?️ 5 فروری 2026 سچ خبریں:غزہ کی سرکاری انفارمیشن آفس نے ایک بیان جاری کرتے

چینی خلائی گاڑی مریخ پر اتر گئی

?️ 23 مئی 2021بیجنگ(سچ خبریں)چین کی ریموٹ کنٹرول خلائی گاڑی سرخ سیارے پر لینڈ کرگئی،

2 ججز بینچ سے علیحدہ، 7 رکنی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کردیا

?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے