ٹرمپ نے مادورو کو اقتدار سے کیوں ہٹایا؟

?️

ٹرمپ نے مادورو کو اقتدار سے کیوں ہٹایا؟

وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کے خلاف براہِ راست کارروائی کیوں کی۔ ایک افشاگرانہ انٹرویو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مادورو کو اقتدار سے ہٹانا ٹرمپ کے لیے محض ایک ضمنی آپشن نہیں بلکہ ان کی بنیادی ترجیحات میں شامل تھا۔

جرمن میڈیا ادارے دویچے ویلے نے لکھا ہے کہ 3 جنوری کو کاراکاس پر ہونے والے فضائی حملوں نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ امریکہ مادورو کو فوجی طاقت کے ذریعے ہٹانے کے عزم پر کاربند تھا۔ اس سے قبل دسمبر کے آخر میں شائع ہونے والے میگزین وینٹی فیئر کے ایک انٹرویو میں بھی اس سمت کے واضح اشارے مل چکے تھے۔

اس انٹرویو میں ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے کہا تھا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اتنی کشتیوں کو تباہ کیا جائے کہ مادورو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ بیان امریکی مہم کی طرف اشارہ تھا جس کا مقصد مبینہ طور پر منشیات اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی وینزویلا کی کشتیوں کو نشانہ بنانا تھا۔

ابتدائی طور پر ٹرمپ کی توجہ منشیات کی اسمگلنگ پر مرکوز دکھائی دیتی تھی، خاص طور پر فینٹانیل، جسے وہ اپنی دونوں صدارتی مدتوں میں سنگین خطرہ اور حتیٰ کہ ہتھیارِ کشتارِ عام قرار دیتے رہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق، 2013 سے اقتدار میں موجود مادورو آہستہ آہستہ ٹرمپ کی مہم کا مرکزی ہدف بن گئے۔

برطانوی ریٹائرڈ سفارتکار اور بوسٹن یونیورسٹی میں لاطینی امریکا کے مطالعاتی مرکز کے قائم مقام سربراہ پال ہر کا کہنا ہے کہ ابتدا میں خیال تھا کہ مادورو کے ساتھ مہاجرین کی واپسی، تیل سے متعلق مراعات اور محدود تجارتی معاہدے پر بات چیت ہو سکتی ہے تاکہ وہ اقتدار میں رہیں، مگر یہ حکمت عملی ناکام رہی۔

دویچے ویلے کے مطابق، مادورو کی برطرفی ٹرمپ انتظامیہ کو یوکرین اور غزہ جیسے پیچیدہ تنازعات کے مقابلے میں ایک نسبتاً آسان اور قابلِ حصول ہدف دکھائی دیتی تھی۔ یہ اقدام ٹرمپ کی دوسری مدت کی قومی سلامتی حکمتِ عملی سے بھی ہم آہنگ تھا، جس میں مغربی نصف کرے کو دوبارہ امریکی اثر و رسوخ کا مرکز بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

جرمن ادارے برائے عالمی و علاقائی مطالعات کے تجزیہ کار خسوس رینسولو کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو مادورو کے سخت مخالف سمجھے جاتے ہیں، اس صورتحال کو کیوبا پر دباؤ بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے تھے۔

دویچے ویلے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا کو اب واشنگٹن میں ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی مسئلے کے بجائے ایک ایسا موقع سمجھا جا رہا تھا جس کے ذریعے جلد سیاسی کامیابی حاصل کی جا سکے۔ ٹرمپ کے لیے مادورو صرف ایک متنازع رہنما نہیں بلکہ اپنی پہلی مدت کی ایک “ادھوری فائل” تھے، جسے بند کرنا وہ اپنی ذاتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔

اس تناظر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کو حتمی مقصد کے بجائے سیاسی جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، تاکہ ٹرمپ کی شبیہ ایک ایسے صدر کے طور پر ابھرے جو دیرینہ اور حل طلب مسائل کو طاقت کے ذریعے نمٹا دیتا ہے۔

مشہور خبریں۔

کابینہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے والی حکومت کی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے سے معذرت

?️ 22 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے

ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی-صہیونی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی: روس

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں:روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایران کی

پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو: غزہ اور فلسطین کے معاملات پر تبادلہ خیال

?️ 22 اکتوبر 2025پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو: غزہ اور

امریکی جنگی طیاروں کو جوہری بم لے جانے کی اجازت

?️ 9 مارچ 2024سچ خبریں: پینٹاگون نے باضابطہ طور پر F-35 اسٹیلتھ فائٹر کے لیے

حکومت کا سوشل میڈیا پر قابو پانے کیلئے سائبر کرائم قانون میں تبدیلیوں کا فیصلہ

?️ 3 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے

ایران، چین اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشت گردی مذاکرات

?️ 8 جون 2023سچ خبریں:چین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ تہران، بیجنگ اور

روسی حملہ یوکرین کی جنگ کو قابو سے باہر کر سکتا ہے: ٹرمپ ایلچی

?️ 8 ستمبر 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کیث

اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات میں بڑی پیش رفت

?️ 24 جون 2022سچ خبریں:    کل جمعرات کو ترکی کے دورے کے دوران اسرائیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے