غزہ کی جنگ اسرائیل کو مالی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے

غزہ کی جنگ اسرائیل مالی بحران

?️

غزہ کی جنگ اسرائیل کو مالی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے
غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیل کے دفاعی اخراجات کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ اس کے اثرات براہِ راست معیشت اور عوامی زندگی پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، فوج نے حالیہ دنوں حکومت سے 5.5 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ گدعون 2 نامی فوجی آپریشن کو جاری رکھا جا سکے۔ اس سے قبل کابینہ نے 2025 کے لیے 9 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری دی تھی جس کے نتیجے میں دیگر وزارتوں کے فنڈز میں 3.35 فیصد کٹوتی کی گئی۔ اس فیصلے نے براہِ راست عوامی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبے کو متاثر کیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ تبدیلیاں اسرائیل کے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1.5 فیصد ہیں، جس کے باعث بجٹ خسارہ 4.9 فیصد سے بڑھ کر 5.2 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اس کے باوجود فوج کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بھی ناکافی ہے۔
ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ پر قبضے کے منصوبے پر عمل درآمد سے اسرائیل کو کم از کم 29 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھے گا اور عام شہریوں کی زندگی کے معیار میں کمی آئے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ نے اب تک اسرائیل کو تقریباً 88 ارب ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا ہے۔ قرضوں پر انحصار کے باعث اسرائیل کا قرضہ پہلے کے 60 فیصد سے بڑھ کر GDP کے 70 فیصد تک جا پہنچا ہے، اور ہر سال صرف سود کی مد میں 17 ارب ڈالر سے زائد ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
جائیداد کا بحران: نئے اپارٹمنٹس کی فروخت 47 فیصد تک گر چکی ہے اور مالکان خریداروں کی تلاش میں بیرونِ ملک رخ کر رہے ہیں۔دماغوں کا فرار: 2024 میں اسرائیل نے ریکارڈ 83 ہزار افراد کی منفی ہجرت دیکھی، جن میں زیادہ تر تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی کے ماہرین تھے۔سرمایہ کا انخلا: صرف 2024 میں بیرون ملک سرمایہ منتقل کرنے کی شرح 62 فیصد بڑھ گئی، جس نے داخلی مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔
ان حالات میں بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ بھی کم کر دی ہے، جس سے نئے قرض لینے کی صلاحیت مزید متاثر ہو گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے تمام وسائل جنگ پر جھونک دیے ہیں جس کے نتیجے میں تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبے شدید بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

26 نومبر کا احتجاج: 120 پی ٹی آئی کارکنوں کی ضمانتیں منظور، بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

?️ 20 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے

کینا روڈ سانحہ سے متعلق تفصیلات سامنے آگئیں

?️ 6 جون 2021لاہور ( سچ خبریں ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی کینال

امریکہ کا خطے میں جدید ترین ڈرون بیڑے تعینات کرنے کا ارادہ

?️ 21 اگست 2022سچ خبریں:     بحرینی اخبار الایام نے امریکی بحریہ کے پانچویں بحری

اسلام آباد: ڈی چوک میں احتجاج کرنے والے وکلا واپس روانہ، ریڈ زون کے راستے کھل گئے

?️ 10 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) 26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے آج

کلبھوشن یادیو کا کیس مسلم لیگ ن نے بگاڑا: وزیر خارجہ

?️ 13 جون 2021ملتان(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ

ووٹ کا حق سمندر پار پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے

?️ 24 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل

گوگل کا کروم براؤزر کے لیے 3 نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان

?️ 3 مارچ 2024سچ خبریں: گوگل کی جانب سے کروم ویب براؤزر میں 3 نئے

پاکستان نے بھارت کی تردید مسترد کر دی

?️ 9 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے