غزہ میں بھوک سے مرنے والوں کی ہولناک صورتحال

غزہ

?️

سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قبضہ کاروں کی جانب سے صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور غیرمسلح شہریوں پر جاری وحشیانہ حملوں کے باعث ہر سطح پر متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ اسی طرح، اس تنگ علاقے میں بھوک اور غذائی قلت سے ہونے والی اموات کی صحیح گنتی بھی ناممکن ہے۔
تاہم، غزہ کی سرکاری اطلاعاتی دفتر نے گزشتہ شب ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ صیہونیوں کی جانب سے نافذ کردہ ظالمانہ غذائی محاصرے کے نتیجے میں گزشتہ 80 دنوں میں 326 افراد غذائی قلت، خوراک اور ادویات کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 300 سے زائد حاملہ خواتین میں غذائی کمی کے باعث اسقاط حمل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
80 دنوں میں سینکڑوں اموات
غزہ کی سرکاری اطلاعاتی دفتر نے صیہونی حکومت کی جانب سے 80 دنوں سے جاری نظامی غذائی محاصرے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کھلا اور مکمل جنایت ہے، جو نسل کشی کے مترادف ہے۔ اس پالیسی کے تحت خوراک، طبی سامان اور ایندھن کی ترسیل روک دی گئی ہے، جس سے 24 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
دفتر کے مطابق، 2 مارچ 2025 سے اسرائیلی قبضہ کاروں نے غزہ میں ایک بھی امدادی ٹرک یا ایندھن کی گاڑی داخل نہیں ہونے دی، حالانکہ اس عرصے میں غزہ کو کم از کم 44,000 امدادی ٹرک درکار تھے۔ تمام سرحدی گذرگاہوں کو مکمل بند کر کے امداد روکنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے۔
انسانی بحران انتہائی خطرناک سطح پر
بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں انسانی صورت حال مکمل طور پر تباہ کن ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 58 افراد بھوک سے، جبکہ 242 افراد خوراک اور ادویات کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، 26 مریضوں کی مناسب غذا نہ ملنے سے موت ہوئی، جبکہ 300 سے زائد حاملہ خواتین میں غذائی کمی کے باعث اسقاط حمل کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
غزہ کی سرکاری اطلاعاتی دفتر نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور تمام گذرگاہیں کھولنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی جنگی جرائم کے مرتکب رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
24 گھنٹوں میں 26 اموات
دوسری جانب، یورو میڈ انسانی حقوق واچ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 26 فلسطینی، جن میں 9 بچے شامل ہیں، بھوک اور علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ بھوک اور ادویات کی کمی سے اموات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں بزرگوں، مریضوں اور بچوں میں اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل کی جانب سے جان بوجھ کر پیدا کی گئی مہلک صورتحال کا نتیجہ ہے۔ یہ صورتحال غذائی محاصرے، شدید تکلیف اور صحت کی دیکھ بھال سے نظامی محرومی پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ میں بھیجے گئے 9 سے کم امدادی ٹرکوں کو محض "نمائشی کوشش” قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی امداد روزمرہ کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ آیا یہ امداد غزہ تک پہنچ بھی رہی ہے یا نہیں۔

مشہور خبریں۔

 سوڈان میں جنگ فوری طور پر ختم کی جائے:مصر کا مطالبہ

?️ 18 اکتوبر 2025 سوڈان میں جنگ فوری طور پر ختم کی جائے:مصر کا مطالبہ مصر

اب بھارتی فلم میں کام کی پیش کش ہوگی تو کروں گا، ماضی میں انکار کردیا تھا، آغا علی

?️ 2 جون 2024کراچی: (سچ خبریں) معروف اداکار آغا علی نے انکشاف کیا ہے کہ

شام میں دہشت گردی کو تقویت دینے کا نتیجہ کیا نکلا؟

?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں: شام میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور مرکزی حکومت

جان بوجھ کر قتل؛ مہلک جال جو غزہ کے بھوکے لوگوں کو موت کے منہ میں لے آئے

?️ 2 جون 2025سچ خبریں: فلسطینی ذرائع نے قابضین کی جانب سے امریکی امداد کی

سعودی عرب کے نزدیک چین کی کیا حیثیت ہے؟،امریکہ میں کیا تصور ہے؟

?️ 15 جون 2023سچ خبریں:امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے

دشمن نے ہمارے لیے بڑے بڑے خواب دیکھے تھے:انصاراللہ

?️ 25 جون 2022سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے سربراہ نے تاکید کی کہ سعودی

افغانستان میں داعش پر قابو پا لیا گیا ہے: طالبان وزیر خارجہ

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:  طالبان  کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے منگل کو

فیس بک کے 3 ماہ میں ایک ارب 30 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیوں کئے گئے؟

?️ 23 مارچ 2021نیویارک(سچ خبریں) فیس بک نے 2020 کی آخری سہ ماہی کے دوران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے