سعدالحریری لبنانی صدر کے درمیان کس بات پر اختلاف ہے؛اہم وزارتوں کے کوٹے

لبنانی

?️

سچ خبریں:ایک لبنانی اسڑاٹیجسٹ کا کہنا ہے کہ سعد الحریری آئین کو پامال کرکے،اس ملک کے صدر مشیل عون کو نااہل قرار دے کر لبنان میں کلیدی وزارتوں کا کوٹہ ضبط کرنے کی کوشش میں ہیں۔

لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نے نو ماہ کی تاخیر اور وزیر اعظم کے محل میں واپسی کے لئے ملکی اور غیر ملکی راستے بند کرنے کے بعد کے بعد حکومت بنانے سے انکار کر دیا اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

در حقیقت حریری نے حزب اللہ کے خلاف اشتعال انگیزی کے ذریعہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیاجس کو امریکیوں اور فرانسیسیوں نے تیار کیا تھا اس لیے واشنگٹن اور پیرس نے حزب اللہ کے خلاف پارلیمانی اکثریت بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں،تاہم سعد الحریری اب صدارتی محل چھوڑ چکے ہیں،انھیں 22 اکتوبر 2020 کو لبنان کی نئی حکومت تشکیل دینے کے لئے مقرر کیا گیا تھا ۔

اس وقت انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اس ملک کو ٹوٹنے سے روکنے کے لئے جلد ہی غیر جانبدارانہ حکومت تشکیل دیں گے لیکن حقیقت میں یہ ہوا کہ اس کے بعد کے مہینوں میں ہی لوگوں کی معاشی اعتبار سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔ لوگوں کی تقرری کے بعد واقع ہوئی ہے۔اس سلسلے میں ایک مثال یہ ہے کہ ہریری کے استعفیٰ کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت 7000 پاؤنڈ سے بڑھ کر 22000 پاؤنڈ ہوگئی۔

واضح رہے کہ الحریری جن ماہرین کی بات کرر ہے تھے وہ معاشیات کے ماہرین سے زیادہ ان پارٹی اور ان کے شراکت داروں کے نمائندے تھے،الحریری کے استعفیٰ کے بعد لبنان میں دو منظرنامے ہیں؛ پہلا منظر نامہ آئین پر عمل درآمد ہے، اس کے مطابق لبنان کے صدر مشیل عون کو پارلیمنٹ کے ممبروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا ہے تاکہ کسی نتیجہ پر پہنچنے کے بعد فوری طور پر کسی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیےنامزد کرنے اسے کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دینا ہے، اس معاملے میں نگراں وزیر اعظم صدر کے ساتھ ضروری معاہدوں کے بعد کابینہ تشکیل دے گا۔

دوسرا منظر یہ ہے کہ لبنان میں اب بھی کوئی نئی حکومت نظر نہیں آئے گی اور حکومت اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی، موجودہ صورتحال کے پیش نظر ، ایسا لگتا نہیں ہے کہ ہم مستقبل قریب میں لبنانی حکومت کی تشکیل کو دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ مشیل عون اور سعد الحریری کے مابین بہت سے اختلافات رہے ہیں، سعد الحریری نے کابینہ پر اپنا تسلط بڑھانے کی کوشش کی ہے،انھوں نے طویل عرصے سے امریکہ کی حمایت یافتہ میشل عون کو معزول کرنے اور انھیں اپنے آئینی اختیار کو استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

 

مشہور خبریں۔

جنین کی ایک صہیونی بستی میں استقامتی جنگجوؤں کا آپریشن

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:آج ہفتے کی صبح استقامتی جنگجوؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں

ٹرمپ نے ڈیموکریٹس سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی/امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گی

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی شٹ ڈاؤن کو روکنے

ایک سال میں مسلح تنازعات میں کتنے امریکی مارے گئے؟

?️ 27 دسمبر 2023سچ خبریں: امریکہ کے سرکاری اعداد و شمار اور اعدادوشمار بتاتے ہیں

پاکستان کےخلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کا ’سخت اور فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا، ترجمان پاک فوج

?️ 31 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس

علی امین گنڈاپور کو دہشت گردوں کی مکمل سہولت کاری نہ کرنے پر ہٹایا۔ عطا تارڑ

?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا

غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے سب سے بڑی عالمی تحریک کا اعلان 

?️ 6 فروری 2026 سچ خبریں: عالمی ناوِ صمود نے جمعرات کے روز ایک بیان

ٹک ٹاک کے خلاف والدین کا عدالت سے رجوع

?️ 4 جون 2021ایمسٹرڈم(سچ خبریں) ہالینڈ میں والدین نے ٹک ٹاک کے خلاف عدالت سے

’جنہوں نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا انکا پتا لگائیں‘، جج کیخلاف مہم پر توہین عدالت کیس کی سماعت

?️ 3 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس بابر ستار کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے