دمشق جنگ نہیں چاہتا، اسرائیل مقبوضہ شامی علاقوں سے پیچھے ہٹے

جولانی

?️

دمشق جنگ نہیں چاہتا، اسرائیل مقبوضہ شامی علاقوں سے پیچھے ہٹے
 شدت پسند گروہ ہیئت تحریر الشام کے سربراہ احمد الشرع المعروف ابو محمد جولانی نے دعویٰ کیا ہے کہ شام نے کبھی اسرائیل کو اشتعال نہیں دلایا اور نہ ہی جنگ کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل شام کی سرزمین سے مکمل طور پر عقب‌نشینی کرے۔
امریکی چینل CBS نیوز کے پروگرام "60 منٹ” کو دیے گئے انٹرویو میں جولانی نے کہا کہ شام میں گزشتہ جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی تعمیرِ نو پر 600 سے 900 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، جو عالمی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا نے 14 سال تک شام کی تباہی کو خاموشی سے دیکھا، اس لیے اب اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعمیرِ نو میں حصہ لے۔
جولانی نے کہا کہ شام پر عائد اقتصادی پابندیاں ملک کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کے بقول، جو بھی ان پابندیوں کے خاتمے میں رکاوٹ ڈالے گا، وہ ماضی کی تباہی کا شریک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دمشق حکومت بشار الاسد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے "قانونی راستوں” کا استعمال کرے گی۔ جولانی نے الزام لگایا کہ سابق صدر روس فرار ہو چکا ہے۔
اسرائیلی حملوں پر بات کرتے ہوئے جولانی نے کہا: ہم نے کبھی اسرائیل کو اشتعال نہیں دلایا، نہ کسی ملک کو دھمکی دی۔ صدارتی محل پر حملہ جنگی کارروائی تھی، لیکن ہم جنگ نہیں چاہتے۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ 8 دسمبر کے بعد قبضے میں لیے گئے تمام شامی علاقوں سے واپس ہٹ جائے۔
جولانی نے یہ بھی کہا کہ ان کا گروہ داعش اور القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور ان کی عسکری کارروائیاں صرف "سابق نظام کے خلاف تھیں۔
انہوں نے زور دیا کہ شام کی تعمیرِ نو صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عوام کے نفسیاتی اور سماجی بحالی کے پہلو کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ جولانی کے مطابق، تعمیرِ نو کے بعد عام انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔
تاہم، شام میں جاری حالات اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے 10 ماہ بعد ملک میں اب تک 10 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولانی کے زیرِ قیادت گروہ نے سلامتی کے نام پر مخالفین کے خلاف نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ہلاکتیں، جبری گرفتاریاں اور میدانی پھانسیاں شروع کر رکھی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جولانی کی نئی ریاست کا نعرہ محض ایک سیاسی دکھاوا ہے، کیونکہ موجودہ طرزِ حکمرانی میں نہ انصاف ہے نہ استحکام — صرف انتقام اور خوف کی سیاست ہے جو شام کو ایک نئی خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کے سیکورٹی وفد کا قاہرہ کا خفیہ دورہ

?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:     صیہونی حکومت کے ایک اعلیٰ سیکورٹی وفد نے دو

ارجنٹائن کے چھپے ہوئے ڈالرز کے لیے جیویر ملی کی حکومت کا نیا منصوبہ

?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: ارجنٹائن کے صدر جیویر ملی کی حکومت کی نئی پالیسی

شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کو بحال کرنےمیں کون سی رکاوٹیں ہیں

?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: شام کے ساتھ معمول اور سرکاری سفارتی تعلقات بحال کرنے

تہران-اسلام آباد؛ امن، خوشحالی اور ترقی کی خدمت میں پڑوس

?️ 26 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر اعظم کا اسلامی جمہوریہ ایران کا سرکاری دورہ،

صیہونیوں کی یرغمالی سیاست سے ٹرمپ کے غزہ پلان تک

?️ 26 اکتوبر 2025صہیونی حکومت جنگ بندی پر عمل درآمد کے بجائے اپنے قیدی فوجیوں

G7 کے رکن ممالک کی لبنان میں جنگ بندی کی حمایت اور نیتن یاہو کے خلاف عدالت کے حکم پر خاموشی

?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں:G7 کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ نے لبنان میں جنگ

پاکستان: کابل الزامات لگانے کے بجائے انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرے

?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت خارجہ نے حالیہ سرحدی حملوں پر تشویش کا

پاکستان: امریکہ کے غلط اقدامات ہمیں منظور نہیں

?️ 29 جون 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے