اسرائیلی قیدی مکمل صحت کے ساتھ آزاد، مگر فلسطینی قیدی بدترین حالات کا شکار

اسرائیلی قیدی مکمل صحت کے ساتھ آزاد، مگر فلسطینی قیدی بدترین حالات کا شکار!

?️

اسرائیلی قیدی مکمل صحت کے ساتھ آزاد، مگر فلسطینی قیدی بدترین حالات کا شکار
عبرانی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ سے تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد ان کی جسمانی حالت مکمل طور پر بہتر ہے، جب کہ دوسری جانب فلسطینی قیدی صیہونی جیلوں میں بدترین تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، صیہونی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ شرم‌الشیخ (مصر) میں فائر بندی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے تحت ۲۰ اسرائیلی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا، جن کی جسمانی حالت بہت اچھی بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی چینل ۱۳ نے بھی ان قیدیوں کی تصاویر نشر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل صحت میں ہیں۔
صیہونی میڈیکل آرگنائزیشن نے بھی تصدیق کی کہ تمام آزاد شدہ قیدی مکمل طور پر صحت مند ہیں اور کسی قسم کے جسمانی نقصان کا شکار نہیں ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق، حماس نے رہائی سے قبل انسانی بنیادوں پر قیدیوں کو اپنے اہلِ خانہ سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔
تاہم، یہی منظر دوسری جانب فلسطینی قیدیوں کے لیے یکسر مختلف ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو آنکھوں پر پٹی، ہاتھ پیچھے بندھے اور جھکے ہوئے جسموں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کے سامنے زبردستی چلایا جا رہا ہے۔ ویڈیوز میں واضح ہے کہ ان قیدیوں پر بدترین جسمانی تشدد کیا گیا ہے، جبکہ صیہونی فوج انہیں "خطرناک دہشتگرد” کہہ کر تضحیک کا نشانہ بناتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ۱۱ ہزار سے زائد فلسطینی اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جہاں انہیں شدید تشدد، بھوک اور طبی سہولیات سے محرومی کا سامنا ہے۔ متعدد قیدی جیلوں میں غیر انسانی حالات کے باعث جاں بحق بھی ہو چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، آپریشن "طوفان الاقصی” کے بعد فلسطینی قیدیوں کی حالت مزید بگڑ چکی ہے۔ رہائی پانے والے قیدیوں نے بتایا کہ انہیں ذہنی و جسمانی اذیت کے مختلف طریقوں سے گزرنا پڑا اور انہیں دانستہ طور پر علاج اور مناسب خوراک سے محروم رکھا گیا۔
ادھر رائٹرز نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ۱۹۶۶ فلسطینی قیدی پیر کے روز تبادلے کے معاہدے کے تحت رہائی کے منتظر ہیں۔ ان میں ۱۷۱۶ افراد غزہ سے اور ۲۵۰ قیدی جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، شامل ہیں۔ انہیں مختلف مقامات پر — بالخصوص کرانۂ باختری، بیت‌المقدس اور بیرونِ ملک — منتقل کیا جائے گا۔
تاہم، فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے فہرست میں تبدیلی کی ہے اور بعض معروف مزاحمتی رہنماؤں کی رہائی روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اسرائیلی قیدیوں کی "مکمل صحت” کے دعوے جہاں تل ابیب کے لیے ایک پروپیگنڈا کامیابی سمجھے جا رہے ہیں، وہیں فلسطینی قیدیوں کے خلاف ظالمانہ سلوک اسرائیل کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ایک اور سیاہ داغ ثابت ہوا ہے۔

مشہور خبریں۔

ایک دعوتنامہ نہ آنے پر اتنا شور شرابہ کیوں:عمران خان

?️ 3 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ

پیوٹن نے ایک چال سے مغرب کو کیسے دنگ کر دیا: فنانشل ٹائمز

?️ 5 فروری 2024سچ خبریں: یوکرین میں جنگ کی وجہ سے مغربی پابندیوں کے خلاف

دمشق کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملہ

?️ 3 جنوری 2023سچ خبریں:        دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر

صیہونی بستیوں کے منصوبے قابض حکومت کے لیے سلامتی نہیں لا سکتے: حماس

?️ 26 اگست 2026سچ خبریں:حماس نے مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی توسیع کی مذمت

یورپی یونین نے فوجی عدالت سے شہریوں کو سزائیں بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم قرار دے دیں

?️ 23 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) یورپی یونین نے فوجی عدالت کی جانب

ایران نے اسرائیل کو تباہ کرنے کے قسم کھا رکھی ہے:امریکی جنرل

?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:سینٹ کام دہشت گرد تنظیم کے کمانڈر نے ایران کی میزائل

لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سے طویل مدتی نتائج سامنے آئینگے: سرفراز بگٹی

?️ 30 اکتوبر 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ لیویز کو

بیرسٹر سیف کا خواجہ آصف اور ان کی پارٹی پر الزام

?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: بیرسٹر سیف نے خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر ردعمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے