خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ریاض اور اسلام آباد کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ 

دفاعی معاہدہ

?️

 خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ریاض اور اسلام آباد کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ
 پاکستان اور سعودی عرب نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک نیا دفاعی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان نے حالیہ دنوں بھارت کے ساتھ چار روزہ جھڑپ کے بعد اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور ریاض امریکی دفاعی تعاون میں سستی اور اسرائیلی جارحیت کے بڑھتے خطرات سے فکرمند ہے۔
وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے (SMDA) پر دستخط کیے۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی وفد کے ہمراہ تھے، جنہوں نے معاہدے کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
شریف کے طیارے کو سعودی فضائیہ کے چار ایف-۱۵ جنگی طیاروں نے فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی خوش آمدید کہا اور ریاض ایئرپورٹ تک اسکواڈرن کی صورت میں ہمراہ رہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل دوحہ میں اسلامی ممالک کی ہنگامی کانفرنس کے دوران بھی دونوں رہنماؤں نے ملاقات کی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان-سعودی عرب دفاعی اتحاد، اسرائیل کے قطر پر حالیہ حملے اور امریکہ کی خاموشی کے بعد خطے میں طاقت کے نئے توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اعلانِیہ کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں ممالک کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانے اور ہر قسم کی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب امریکی تعاون پر مکمل بھروسہ نہیں کر رہا اور اپنے دفاعی اتحادوں کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔ ایک عرب عہدیدار نے برطانوی روزنامہ فائننشل ٹائمز کو بتایا یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے، اگر ایک پر حملہ ہوگا تو دوسرا بھی اسے اپنے خلاف سمجھے گا۔
پاکستانی ماہرین کے مطابق معاہدے کی بڑی وجوہات میں بھارت کے خلاف پاکستان کی حالیہ عسکری کارکردگی، اسرائیل کی مسلسل جارحیت بالخصوص قطر پر حملہ، اور امریکہ کی جانب سے عرب اتحادیوں کو تنہا چھوڑنے کا تاثر شامل ہیں۔
پاکستانی مبصرین نے اسے تاریخی پہلا معاہدہ قرار دیا جو دو بڑے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اشتراک کے نئے باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ بعض کے خیال میں سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستانی فوج کو ایک معتبر "مسلم سکیورٹی شیلڈ” سمجھتا آیا ہے، خاص طور پر مقدس مقامات کے دفاع کے معاملے میں۔
پاکستانی افواج کی تاریخی موجودگی سعودی عرب میں پہلے سے قائم ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستانی فوجی، مشیران اور تربیتی ٹیمیں سعودی عرب میں خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد اس تعاون میں مزید وسعت آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

قطر نے امریکی اڈے پر ایرانی حملوں کا ہرجانہ ادا کیا

?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں: قطر کی سرکاری خبر ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ قطر

ٹرمپ کے سفارت کاری طریقے سے  ایک متنازع ثالث کی واپسی 

?️ 10 دسمبر 2025 ٹرمپ کے سفارت کاری طریقے سے  ایک متنازع ثالث کی واپسی  غزہ

سیاسی مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن پہلے الیکشن کی تاریخ دی جائے۔رہنما فواد چوہدری

?️ 6 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اطلاعات اور تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم

25دسمبر کو گورنر ہاﺅس کراچی میں جشن قائداعظم منایا جائے گا

?️ 11 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا

ڈونلڈ ٹرمپ کی عسکری مداخلت کا نیا ہتھیار

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں: امن برائے طاقت کا نظریہ درحقیقت عالمی فوجی و سفارتی پالیسیوں

اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی شہداء کے جسم کے اعضاء کی چوری

?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: ناصر میڈیکل کمپلیکس کے التحریر ہسپتال کے ڈائریکٹر احمد الفرا

صیہونی دشمن نے اپنا آخری حربہ کیوں استعمال کیا؟

?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: ایک لبنانی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ صیہونی دشمن

بھارت کو ذلت آمیز شکست، پاکستان نے دفاعی طاقت کا توازن بحال کردیا۔ تھنک ٹینک رپورٹ

?️ 24 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ نے ایک مفصل رپورٹ جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے