?️
سچ خبریں: یہ وہ تعبیر ہے جس کے ساتھ یہودا لوکاش، ورجینیا کی جارج میسن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی کرسی کے پروفیسر ایمریٹس نے اسرائیل کے اخبار زمان یسرائیل میں اپنا مضمون شروع کیا۔
انہوں نے اپنے مضمون کے ایک حصے میں سوال کیا کہ اس وقت سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ امریکی معاشرے کے مختلف طبقوں نے اسرائیل کے بارے میں اپنا موقف کیوں بدل لیا ہے، اور دو طرفہ تعلقات میں اس تبدیلی کا کیا مطلب اور مفہوم ہوگا؟
پھر اس سوال کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ حمایت میں کمی کا سبب بنیادی طور پر سامیت دشمنی نہیں ہے (صیہونی غلط طور پر اسرائیل کے خلاف کسی بھی مخالفت کو سامیت دشمنی قرار دیتے ہیں)، بلکہ یہ امریکی معاشرے میں بنیادی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے کہ نسلی تبدیلی، مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت پر بڑھتی ہوئی تنقید، امریکہ-اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (آئیپیک) کے کردار اور اثر و رسوخ پر بڑھتا ہوا غصہ، اور سوشل میڈیا کا انقلاب۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سامیت دشمنی موجود نہیں ہے یا اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ سامیت دشمنی موجود ہے اور بعض اوقات اہم ہو جاتی ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے، اور اسے مرکزی حیثیت دینے پر اصرار امریکی معاشرے کے گہرے عمل کو نظر انداز کرتا ہے۔
آئیپیک کے گرد بڑھتے ہوئے غصے کو سمجھنے کے لیے مشی گن میں سینیٹ کے پرائمری انتخابات کو دیکھنا کافی ہے۔
آئیپیک اور اس سے وابستہ تنظیموں نے کانگریس کی رکن ہیلی سٹیونس کی حمایت اور ڈاکٹر عبدالسیّد (جو اسرائیلی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں) کو شکست دینے کے لیے تقریباً ۳۰ ملین ڈالر خرچ کیے۔ اس کے باوجود السیّد جیت گئے۔ ۲۰۲۲ میں بھی آئیپیک نے کانگریس کے ترقی پسند یہودی رکن اینڈی لیون کے خلاف سخت انتخابی مہم چلائی، جو دو ریاستی حل کی حمایت کرتے تھے اور بستیوں کے قیام کے ناقد تھے۔
آئیپیک کے ناقدین کے نزدیک، یہ معاملات ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ لابی ایک سیاسی اور طاقتور کھلاڑی بن گئی ہے، اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے اس کا پیسے کا استعمال امریکی سیاست پر اس کے اثر و رسوخ کی حد کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
نیویارک کے میئر کے انتخابات میں زہران ممدانی کی فتح نے اس تبدیلی کی گہرائی کو خاص طور پر امریکہ کے سب سے بڑے یہودی آبادی والے مرکز میں ظاہر کیا۔
امریکہ میں بحث اب اس پر نہیں ہے کہ آیا اسرائیل ایک اہم اتحادی ہے یا نہیں، بلکہ پورا رشتہ سوالیہ نشان بن گیا ہے کہ کہ
امریکہ کو اس سے کیا حاصل ہوتا ہے، اس کے بدلے میں کیا دیتا ہے، اور اس اتحاد کی کیا قیمت ادا کرتا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ نے ان سوالات کو تجریدی کیفیت سے نکل کر ٹھوس موضوع بنا دیا ہے۔
بہت سے امریکی پوچھتے ہیں کہ کیا اسرائیل نے واشنگٹن کو ناپسندیدہ جنگ میں گھسیٹا ہے، اور کیا امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں تنازع کے معاشی اور اسٹریٹجک اخراجات برداشت کرنے چاہئیں؟
اس معاملے کی تاریخی مثال بھی موجود ہے؛ ۱۹۷۳ میں، اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد عربوں کے تیل کے تحریم کا باعث بنی، جس سے توانائی کا بحران اور شدید معاشی خلل پیدا ہوا۔
بی ڈی ایس (اسرائیل کی بائیکاٹ، ڈیوائسٹمنٹ اور پابندیوں) تحریک کے خلاف قوانین، جو ۳۸ ریاستوں میں منظور کیے گئے، نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور آئینی قانون کے ماہرین کی مخالفت کو جنم دیا ہے، کیونکہ وہ اسے امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں ضمانت دیے گئے سیاسی تحریم کے حق کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ بہت سے امریکیوں کا خیال ہے کہ کسی شہری کو سرکاری اداروں کے ساتھ تعامل کے لیے محض کسی غیر ملکی حکومت کے بارے میں اپنے سیاسی موقف کو ترک کرنے پر مجبور کرنا امریکی جمہوریت کی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ میں اسرائیل پر تنقید سات اکتوبر (طوفان الاقصیٰ آپریشن اور غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگی جرائم) سے شروع نہیں ہوئی، بلکہ یہ تاریخی واقعات کی یادداشت پر مبنی ہے جہاں اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں امریکی موقف کو کمزور کیا ہے کہ ۱۹۶۷ میں امریکی بحری جہاز لیبرٹی پر حملہ، جوناتھن پولارڈ کے جاسوسی کیس سے لے کر ۲۰۰۳ کی عراق جنگ کی حمایت میں اسرائیل کے کردار سے متعلق تنازعات تک۔ یہ واقعات امریکی سیاسی یادداشت کا حصہ ہیں۔
اس تاریخی یادداشت میں گہرا نسلی شکاف اور نوجوانوں میں اسرائیل کے بارے میں اتفاق رائے کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
یونیورسٹیوں میں احتجاج اور سوشل میڈیا نے فلسطین کو پوری نسل کے لیے ایک مرکزی اخلاقی امتحان بنا دیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی یہودی نوجوانوں کے وسیع طبقے اب اسرائیل کو بقا کی جنگ میں کمزور فریق کے طور پر نہیں دیکھتے۔
سوشل میڈیا غزہ کی براہِ راست تصاویر ان کے موبائل فون کی سکرینوں پر منتقل کرتا ہے، اور وسیع پیمانے پر تباہی کو دیکھتے ہوئے، یہ فطری ہے کہ یہ تصاویر ان کے نقطہ نظر کو تبدیل کریں۔
ان حقائق کے مقابلے میں، سرکاری یہودی تنظیموں کی طرف سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور سامیت دشمنی کے درمیان خط کو دھندلا کرنے کی کوششیں سخت ردعمل کو جنم دیتی ہیں۔
جب ان پالیسیوں کے ناقد یہودیوں کو بھی خود سے نفرت کرنے والے سامیت دشمن کے طور پر پیش کیا جائے، تو بحث اسرائیل پر تنقید کے حق پر ہی ایک جنگ بن جاتی ہے۔
جب کسی بھی تنقید کو سامیت دشمنی کا نام دیا جائے تو سامیت دشمنی کے خلاف حقیقی جنگ کمزور ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ تصور اپنی درستگی اور اخلاقی طاقت کھو دیتا ہے۔
یہ تبدیلیاں صرف ترقی پسند دھڑے تک محدود نہیں ہیں؛ ایوان نمائندگان میں ۱۰۳ ڈیموکریٹ نمائندگان نے اسرائیل کو فوجی امداد روکنے کے حق میں ووٹ دیا۔
اسی دوران، مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی مخالفت ریپبلکن دائیں بازو اور امریکا اول تحریک میں بھی بڑھ رہی ہے، جہاں اتحادیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی جنگ کا رجحان کم ہے۔
نتیجتاً، اسرائیل کی حمایت جو کئی دہائیوں سے دو طرفہ اتفاق رائے تھی، دونوں جانب سے ختم ہو رہی ہے۔
اسرائیلی چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سات اکتوبر کے واقعات کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کریں، لیکن وہ اس سے گریز کرتے ہیں۔
تو پھر اسرائیل کے اپنے اقدامات اور پالیسیوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کے متوازی مطالبات کہاں ہیں؟
آئیووا کا ایک کسان جو ٹیلی ویژن پر غزہ کی تصاویر دیکھتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگی جرائم کیے ہیں، اسے سامیت دشمنی کا الزام ہو سکتا ہے، جب کہ اسرائیل اپنے رویے کی تحقیقات سے گریز کرتا ہے۔
جواب ہمیشہ وہی مانوس جملہ ہوتا ہے کہ پوری دنیا ہم سے دشمن ہے ۔ میڈیا مخالف ہے، آئیپیک کی مقبولیت کم ہو رہی ہے، اور دنیا سامیت دشمن ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
سائبر حملے کے بعد ہزاروں صیہونیوں کی ذاتی معلومات کا انکشاف
?️ 22 ستمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی سائبر تنظیم نے ایران پر سائبر حملہ کرنے
ستمبر
پاکستان اور آسٹریلیا معدنیات کے شعبے میں تاریخی شراکت داری پر رضامند
?️ 28 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور آسٹریلیا نے معدنی وسائل کے شعبے
جولائی
امارات کی جانب سے نیتن یاہو کے ابوظہبی کے دورے کی تصدیق
?️ 29 ستمبر 2026سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ
ستمبر
چین سی پیک ٹو شروع کرنے کو تیار، افغانستان کیساتھ ملکر دہشتگردی ختم کریں گے، اسحٰق ڈار
?️ 22 مئی 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار
مئی
برطانوی وزیر دفاع وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دستبردار
?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں: برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے ہفتہ کے روز اعلان
جولائی
میدویدیف کی یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں روسی اثاثوں پر تنقید
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: روسی سیکورٹی کونسل کے نائب سربراہ دیمیتری میدویدیف نے روسی اثاثوں
دسمبر
ٹرمپ کے افتتاح کے لیے 2 امریکی آٹوموبائل کمپنیوں کی مالی مدد
?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں: فورڈ اور جنرل موٹرز کمپنیوں کے ترجمان نے اعلان کیا
دسمبر
پی ٹی آئی نے ہمیشہ ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کے مؤقف کی تائید کی۔ بیرسٹر عقیل ملک
?️ 16 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل
ستمبر