?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے نتیجے میں امریکی وزارت دفاع کی داخلی رپورٹس اور جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے اور اب مستقبل میں کسی ممکنہ تصادم کے دوران گولہ بارود کی شدید قلت کا خطرہ درپیش ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، محض سات ہفتوں کی جنگ میں امریکی فوج نے اپنے درست فائر والے حملہ آور میزائلوں کا کم از کم 45 فیصد استعمال کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے "تھاڈ” دفاعی نظام کے تقریباً نصف میزائل بھی استعمال ہو چکے ہیں جبکہ "پیٹریاٹ” دفاعی نظام کے تقریباً نصف انٹرسیپٹر میزائل بھی ختم ہو چکے ہیں۔
سی این این کے مطابق، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اعداد و شمار پینٹاگون کی خفیہ اسلحے کی انوینٹری سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، میزائل کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدوں کے باوجود، ان گولہ بارود کو تبدیل کرنے میں تین سے پانچ سال لگیں گے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ امریکا قلیل مدتی میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے، لیکن موجودہ ذخائر کی سطح عالمی سطح پر کسی ہم پلہ فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے اور جنگ سے پہلے کی سطح پر واپسی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
اس تجزیے کے مصنفین میں سے ایک نے کہا ہے کہ گولہ بارود کے وسیع پیمانے پر استعمال نے مغربی بحر الکاہل کے علاقے میں کمزوری کا ایک ایسا دور پیدا کر دیا ہے جسے پُر ہونے میں طویل وقت لگے گا۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ اس دوران تقریباً 30 فیصت تماہاک میزائل، 20 فیصد سے زیادہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہوا سے سطح پر مار کرنے والے (کروز) میزائل، اور تقریباً 20 فیصد جدید "ایس ایم-3” (بحری دفاع) اور "ایس ایم-6” دفاعی میزائل بھی استعمال ہو چکے ہیں۔
اس کے برعکس، پینٹاگون کے عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج مکمل آپریشنل صلاحیت رکھتی ہے اور کمانڈ کی طرف سے مطلوبہ وقت اور جگہ پر تمام فوجی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔
تاہم، بعض فوجی عہدیداران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایک طویل جنگ امریکی اسلحے کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب امریکا مختلف علاقوں میں اپنے اتحادیوں کو بھی فوجی مدد فراہم کر رہا ہو۔
دریں اثنا، کانگریس کے کچھ اراکین نے بھی گولہ بارود کی اس مقدار کے استعمال کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فضائی دفاعی نظاموں کی دوبارہ فراہمی میں امریکا کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ کے تناظر میں عمران خان کو نظر بند کرنے کا منصوبہ تیار
?️ 7 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پی
اکتوبر
صیہونی جنرل: اسرائیلی فوج اپنی ناکامیوں کو چھپا رہی ہے
?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں: ایک صیہونی جنرل نے اعتراف کیا کہ حکومت کی فوج
ستمبر
ملک میں سازش کے تحت امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی:عمران خان
?️ 27 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان
اپریل
عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر بھر میں شٹر ڈاﺅ ن اور پہیہ جام ہڑتال
?️ 29 ستمبر 2025مظفر آباد: (سچ خبریں) جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد
ستمبر
چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی تاریخ کا اعلان
?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: چین کے وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ شانگهای
اگست
عالم اسلام کو صہیونی جرائم پر اپنی خاموشی توڑنی چاہیے: حماس کا مسلم علماء سے مطالبہ
?️ 22 اکتوبر 2026سچ خبریں: حماس کے ترجمان حازم قاسم نے غزہ میں صیہونی جرائم
اکتوبر
وزیراعظم کی سیلاب اور بارشوں سے تباہی والے علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت
?️ 7 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف حصوں
جولائی
ایران کی عرب ممالک کو شدید وارننگ، امریکی حملے کو روکنے کا باعث بنی کہ روئٹرز
?️ 6 اگست 2026سچ خبریں: خبر رساں ادارے روئٹرز نے پانچ معتبر ذرائع کے حوالے
اگست