امریکہ نے فوج اور جنگی بحری جہاز وینزویلا کے ساحل قریب کیوں  تعینات  کیے ہیں؟

امریکہ نے فوج اور جنگی بحری جہاز وینزویلا کے ساحل قریب کیوں  تعینات  کیے ہیں؟

?️

امریکہ نے فوج اور جنگی بحری جہاز وینزویلا کے ساحل قریب کیوں  تعینات  کیے ہیں؟
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے ساحل کے قریب جنگی بحری جہاز، آبدوزیں اور تقریباً چار ہزار فوجی تعینات کرنے کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ تاہم اس فوجی موجودگی نے ماہرین میں یہ قیاس آرائیاں بڑھا دی ہیں کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام کرنے جا رہے ہیں یا نہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ دنوں مادورو کو دہشتگرد قرار دیا اور اس کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام رکھا۔ اپنی پہلی صدارتی مدت میں بھی وہ مادورو کی برطرفی کے خواہاں تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ "لامتناہی جنگوں” سے امریکی دستبرداری کے وعدے کے باوجود مغربی نصف کرے میں نیا تنازع کھولنے جا رہے ہیں؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی تعیناتی اس پیمانے کی نہیں ہے جیسی 1989 میں پاناما میں جنرل مانوئل نوریگا کی حکومت کے خاتمے کے وقت کی گئی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال براہ راست فوجی حملے کا امکان کم ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق یہ اقدام زیادہ تر ٹرمپ کے اندرونی سیاسی حربوں سے مشابہ ہے، جیسا کہ انہوں نے غیر قانونی مہاجرین کو روکنے کے لیے فوج کو سرحد پر تعینات کیا تھا یا نیشنل گارڈ کو امریکی شہروں میں تعینات کیا تھا۔
الیوٹ آبرامز، جو ٹرمپ کی پہلی حکومت میں وینزویلا کے لیے خصوصی نمائندہ تھے، کا کہنا ہے کہ ٹرمپ فوری طور پر حملہ نہیں کریں گے، لیکن اگر مادورو نے پڑوسی ملک گویانا کے خلاف فوجی کارروائی کی تو صورت حال بدل سکتی ہے۔ حالیہ دنوں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گویانا کا دورہ کیا اور خبردار کیا کہ گویانا پر کسی بھی حملے یا وہاں تیل کی بڑی کمپنی ایکسون موبل کی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے سنگین نتائج ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ امریکی دباؤ وینزویلا کی فوج کو مادورو کے خلاف قدم اٹھانے پر آمادہ کر سکتا ہے، لیکن مادورو اور ان کے پیشرو ہوگو شاویز پہلے ہی بغاوتوں کو کچلنے میں اپنی مہارت دکھا چکے ہیں۔اس کے باوجود، امریکی فوجی موجودگی مادورو کو حزب اختلاف کی رہنما ماریا کورینا ماچادو کی گرفتاری سے باز رکھ سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ میں سعودی اور صیہونی حکام کی ملاقات کا انکشاف

?️ 29 مئی 2022سچ خبریں:   انٹرسیپٹ نیوز سائٹ نے امریکہ کے تعاون سے سعودی اور

’پاکستانی جنگ میں واقعی ماہر ہیں ان سے لڑنا آسان نہیں‘ سابق بھارتی جنرل پی آر شنکر کا اعتراف

?️ 12 مئی 2025نئی دہلی: (سچ خبریں) بھارتی فوج کے ریٹائرڈ جنرل پی آر شنکر

بھارت اور کینیڈا کے درمیان سیاسی کشیدگی ،وجہ؟

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: کینیڈا کی جانب سے ایک سینئر بھارتی اہلکار کو ملک

ڈیمونا کے قریب حملہ؛صیہونی انگشت بہ دنداں

?️ 22 اپریل 2021سچ خبریں:یروشلم میں قابض صیہونی حکومت کی سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیاں ڈیمونا

دشمن اپنے خواب پورے نہیں کر سکے گا: انصار اللہ

?️ 1 اگست 2024سچ خبریں: تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالمالک بدر الدین الحوثی نے

اسرائیلی وزیر جنگ کو قیدیوں کی تفصیلات جاننے کی اجازت نہیں

?️ 27 دسمبر 2023سچ خبریں:Yedioth Aharonot رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکم

جمال خاشقجی کے قاتلوں کی پرتعیش زندگی ؛دی گارڈین میں انکشاف

?️ 1 جنوری 2022سچ خبریں:خاشقجی کے قاتل ریاض کے ایک کمپلیکس میں سعودی حکومت کی

سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے لیے بڑی شرطیں

?️ 10 اگست 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے قابض حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے معمول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے