الفاظ سے غزہ کے بھوکے بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتے: گوٹرس

گوٹرس

?️

سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے غزہ میں ہونے والے واقعات کو نہ صرف ایک انسانی بحران، بلکہ ایک اخلاقی بحران قرار دیا ہے جو عالمی ضمیر کو للکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ سے غزہ کے بھوکے بچوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔
سیکرٹری جنرل نے ایک ویڈیو خطاب میں، جو عالمی ادارہ برائے بین الاقوامی عفو کے فورم میں پیش کیا گیا، کہا کہ غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک ہونے والے دھماکوں، اموات اور تباہی کو کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔ اس بحران کا پیمانہ اور دائرہ کار حالیہ تاریخ میں دیکھی گئی کسی بھی المیے سے بڑھ کر ہے، اور میں بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور سکوت کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ یہاں رحم و کرم کا فقدان ہے، سچائی کا فقدان ہے، انسانیت کا فقدان ہے۔
گوترش نے غزہ میں اقوام متحدہ کے عملے کی تکالیف کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے کارکنان اس قدر ٹوٹ چکے ہیں کہ وہ نہ موت محسوس کرتے ہیں اور نہ زندگی۔ غزہ کے بچے جنت میں جانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ کم از کم وہاں انہیں کھانا ملے گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک انسانی بحران نہیں، بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ اس لیے میں فوری اور مستقل جنگ بندی، تمام قیدیوں کی غیر مشروط رہائی، اور غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فوری فراہمی پر زور دیتا ہوں۔ ساتھ ہی، دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس اور ناقابل واپس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ ہر موقع پر اپنی آواز بلند کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ الفاظ سے غزہ کے بھوکے بچوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔ 27 مئی تک، اقوام متحدہ نے ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں کی ہلاکت درج کی ہے جو کھانے کی تلاش میں مارے گئے۔ یہ لوگ جنگ میں نہیں مرے، بلکہ مایوسی میں دم توڑ گئے۔ غزہ کی پوری آبادی بھوک کا شکار ہے۔
انتونیو گوترش نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کسی بھی جنگ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ پٹی میں اپنی انسانی امدادی کارروائیوں کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ پچھلی جنگ بندیوں کے دوران کیا گیا تھا۔
بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کا رد عمل
بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (IRC) نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ہم غزہ میں بچوں اور شیر خوار بچوں کی بھوک سے ہونے والی اموات کی رپورٹس سن کر دنگ رہ گئے ہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انسانی ساختہ بھوک کا بحران ہے، جو اس پٹی پر لگائی گئی سخت پابندیوں اور مکمل محاصرے کا نتیجہ ہے۔
کمیٹی نے غزہ پٹی میں دو ملین سے زائد افراد کے لیے خوراک، پانی اور ایندھن کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا، جو شدید مدد کے محتاج ہیں۔
عفو انٹرنیشنل کا موقف
عفو انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر بھوک کو استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے امداد کی تقسیم کا جو نظام بنایا گیا ہے، وہ درحقیقت ایک تباہ کن جنگی ہتھیار ہے، جس سے غزہ کے بھوکے لوگوں کی تکلیفیں بڑھ رہی ہیں۔
تنظیم نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر فلسطینیوں کو بھوکا رکھ رہا ہے، اور غزہ میں یہ نسل کشی کی جنگ فوراً روک دی جانی چاہیے۔ اسرائیل کو غزہ کا محاصرہ ختم کرنا ہوگا اور اقوام متحدہ کو امداد کی تقسیم کی اجازت دینی ہوگی۔ فلسطینیوں کو بلا رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے امداد تک رسائی دی جانی چاہیے۔ دنیا کے ممالک کو بھی خاموشی توڑنی ہوگی اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں؛ تازہ ترین صورتحال

?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں:افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں نے دیورند لائن،

کراچی میں بھارتی طیارے کی ہنگامی لینڈینگ کی وجہ سامنے آ گئی

?️ 2 مارچ 2021کراچی(سچ خبریں) بنگلہ دیش سے ایران کے راستے بھارت کے شہر لکھنو

امنیت کا قاتل، صلح کا دعویدار؛ ٹرمپ کا نیا سیاسی ڈرامہ

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خود کو مشرقِ

پی آئی اے نے دو بین الاقوامی روٹس کے کرایوں میں نمایاں کمی کردی

?️ 2 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن ( پی آئی اے ) نے

نفتالی بینیٹ کی آڈیو فائل لیک ہو گئی۔ نیتن یاہو کے بعد کے دور کے لیے ایک سیاسی منشور

?️ 12 ستمبر 2025سچ خبریں: ایسا لگتا ہے کہ نفتالی بینیٹ کے لیک ہونے والے

بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت بھی کورونا کا شکارہو گئیں

?️ 8 مئی 2021ممبئی (سچ خبریں) کورونا کی دوسری بدترین لہر کا شکارہونے والے ملک

اسلام آباد کو مثالی شہر بنانے کا وقت آگیا ہے

?️ 4 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ معاشی

اس سال یوم قدس پچھلے سالوں سے مختلف کیوں تھا؟

?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:واضح رہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر اس سال عالمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے