اسنپ بیک سے ایران کا جبری مذاکرات کے انکار کا مؤقف کو مضبوط ہو گیا

سجاد باقری

?️

اسنپ بیک سے ایران کا جبری مذاکرات کے انکار کا مؤقف کو مضبوط ہو گیا

پاکستانی ماہر امورِ خارجہ اور اسلام آباد پالیسی انسٹیٹیوٹ (IPI) کے سربراہ سید باقر سجاد نے کہا ہے کہ یورپی تروییکا کی جانب سے اسنپ بیک میکانزم فعال کرنے کی کوشش دراصل سفارت کاری کے ساتھ غداری اور خطے میں تناؤ بڑھانے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام ایران کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ یا تحمیلی مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرنا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں باقر سجاد نے کہا کہ سلامتی کونسل میں یورپی ملکوں کی اس کارروائی کے منفی اثرات براہِ راست ایران کے جوہری مسئلے پر سفارتی کاوشوں کو متاثر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ 2018 میں امریکہ نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے (برجام) سے علیحدگی اختیار کی اور یورپی ممالک بھی اپنی اقتصادی مجبوریوں اور امریکی دباؤ کے باعث وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ یہی رویہ تہران اور مغرب کے درمیان بے اعتمادی کو گہرا کر گیا۔
باقر سجاد کے مطابق اس سب کے باوجود ایران نے سفارت کاری کا راستہ اپنایا اور عمان کی ثالثی کے تحت مذاکراتی عمل میں شریک ہوا۔ لیکن اب مغرب کا اسنپ بیک قدم، جسے ایران غیرقانونی اور بے بنیاد قرار دیتا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران کسی بھی حالت میں دھونس یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی ممالک اگر اس راستے پر چلتے رہے تو وہ نہ صرف ایران میں مذاکرات مخالف حلقوں کے مؤقف کو تقویت دیں گے بلکہ خطے میں کشیدگی اور حتیٰ کہ فوجی تصادم کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے 28 اگست 2025 کو باضابطہ طور پر سلامتی کونسل کو اطلاع دی کہ وہ اسنپ بیک میکانزم کو فعال کر رہے ہیں تاکہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے 30 روزہ مدت میں ایران کے ساتھ بات چیت کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ ممکنہ طور پر پابندیوں کی بحالی کو روکا جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے فوری طور پر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر یورپی اقدام کو سیاسی فریب کاری قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی ساکھ کا تحفظ کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آگے کا راستہ باہمی احترام ہے، نہ کہ اجبار

مشہور خبریں۔

شام میں خوفناک دہشتگردانہ حملہ؛سہ روزہ عام سوگ

?️ 6 اکتوبر 2023سچ خبریں: شام کے شہر حمص میں ایک فوجی کالج پر کل

زمینی حملے میں حزب اللہ کی کیوں بالا دستی ہے؟صیہونی تجزیہ کار

?️ 3 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی عسکری اور اسٹریٹیجک امور کے ماہر فائز الدویری نے

افغان طالبان کا پروپیگنڈہ مسترد، خواجہ آصف نے افغان ترجمان کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیدیا

?️ 2 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے افغان طالبان کا پروپیگنڈہ مسترد کردیا

نفتالی بینیٹ آئندہ صہیونی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے

?️ 29 جون 2022سچ خبریں:  عبوری صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے

صہیونی عسکریت پسندوں کا مغربی کنارے پر حملہ ؛ آٹھ فلسطینی شہری گرفتار

?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں:صہیونی فورسز نے بدھ کے روز مغربی کنارے کے شہر نابلس

عراق میں 24 گھنٹے میں دو امریکی فوجی قافلوں پر حملہ

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:عراقی میڈیا ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں عراق

پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے پر وزیر خارجہ کا بیان سامنے آگیا

?️ 29 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں)ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے پاکستان

کیا صیہونی حزب اللہ کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

?️ 12 ستمبر 2024سچ خبریں: میدانی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی محاذ پر حزب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے