?️
اسلام آباد اور کابل کے درمیان محتاط پیش رفت سے ممکنہ جنگ ٹل گئی
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد کی اسٹریٹیجک صبر کی پالیسی اور طالبانِ افغانستان کے ساتھ چھ روزہ طویل و مشکل مذاکرات کے نتیجے میں دونوں فریق ایک نئے عارضی جنگ بندی معاہدے پر متفق ہو گئے، جس سے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔
مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں چھ روز تک جاری رہیں، جہاں قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ فریقین نے طے کیا ہے کہ تیسرا دورِ مذاکرات 15 نومبر (6 نومبر مقامی تقویم کے مطابق) کو دوبارہ استنبول میں ہوگا۔
دو روز قبل پاکستان کے وزیرِ اطلاعات نے باضابطہ طور پر مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کیا تھا، تاہم طالبان افغانستان کی درخواست پر بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور جمعرات کی رات ایک بار پھر فائر بندی برقرار رکھنے پر اتفاق ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی وفد نے استنبول مذاکرات میں صرف ایک واضح ایجنڈے پر زور دیا تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف عملی، قابلِ تصدیق اقدامات۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ یہ عناصر افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں اور بھارت ان کی حمایت کرتا ہے۔پاکستانی میڈیا کے مطابق، مذاکرات کے دوران اسلام آباد نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے طالبان کو بالآخر ایک عارضی سمجھوتے پر راضی کر لیا۔
پاکستان طویل عرصے سے الزام لگاتا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغانستان میں پناہ لے کر پاکستان میں حملے کرتے ہیں، اور اسلام آباد نے حالیہ بات چیت میں اس موقف پر کوئی لچک نہیں دکھائی۔
دونوں ملکوں کی سرحدیں تقریباً 20 دن سے بند ہیں، جس سے دوطرفہ تجارت اور افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شدید متاثر ہوا ہے۔افغانستان میں طالبان حکومت کے سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان سے سرحد کھولنے کی فوری اپیل کی ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ مغربی سرحدوں پر امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس عزم کو بے قید و شرط نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات نہ کرے یا افغان سرزمین سے حملے جاری رہے، تو پاکستان فائر بندی کو ختم شدہ تصور کرے گا اور اپنی سلامتی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔
افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ استنبول مذاکرات ترکی اور قطر کی ثالثی سے منعقد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امارتِ اسلامی‘ ہمیشہ سے مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور باہمی افہام و تفہیم پر یقین رکھتی ہے اور اسی جذبے کے تحت مذاکرات میں ایک جامع اور تجربہ کار ٹیم شریک کی گئی۔
مجاہد نے مزید کہا کہ افغانستان تمام ہمسایہ ممالک سے احترامِ باہمی، عدمِ مداخلت اور غیر جارحانہ تعلقات چاہتا ہے، اور پاکستان کے ساتھ بھی مثبت اور متوازن روابط کا خواہاں ہے۔ان کے مطابق، مذاکرات کے اس مرحلے کا اختتام اس اتفاق پر ہوا کہ فریقین دوبارہ ملاقات کر کے باقی امور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ استنبول اجلاس، اسلام آباد–کابل مذاکرات کا دوسرا دور تھا۔ پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا جہاں دونوں ملکوں نے سرحدی جھڑپوں کے بعد ابتدائی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
لبنان کے حالیہ آشوب میں صہیونی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کا انکشاف
?️ 4 اگست 2021سچ خبریں:ایک لبنانی ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ
اگست
پاکستان رواں ماہ کورونا ویکیسن کی 80 لاکھ خوراکیں وارد کرے گا
?️ 19 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) چین سے رواں ماہ کورونا ویکیسن کی 80
جون
ھآرتض نے 1948 میں مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے عربوں پر اثر انداز ہونے کے آپریشن کے بارے میں رپورٹ کیا
?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے اطلاع دی
دسمبر
حکومت آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پر عمل کرنے کے لیے تیار
?️ 4 جولائی 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف
جولائی
کیا اردگان ترکی میں نئی بغاوت سے خوفزدہ ہیں؟
?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: ترکی کے پانچ فوجی افسروں کی برطرفی ملک میں حالیہ
فروری
ہتھیاروں کی فروخت کے لیے امریکہ کا نیا بہانہ
?️ 18 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تائیوان چین کی دھمکیوں کا مقابلہ
اپریل
میں ایک آمر ہو سکتا ہوں لیکن بیوقوف نہیں: ٹرمپ
?️ 6 مئی 2022سچ خبریں: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی این نیوز کو
مئی
افغانستان کیساتھ استنبول میں مذاکرات ناکام، دہشتگردوں کیخلاف کارروائی جاری رہے گی، عطا اللہ تارڑ
?️ 29 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ
اکتوبر