آل سعود کی جیلوں میں درجنوں خواتین سیاسی قیدیوں کے غیر انسانی حالات

خواتین

?️

سچ خبریں:سعودی حکام کی جانب سے ملکی نظم و نسق میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں کرنے اور خواتین پر سے بعض پابندیاں ہٹانے کے دعوؤں کے باوجود درجنوں خواتین آل سعود کی جیلوں میں غیر انسانی حالات میں زندگی گزار رہی ہیں۔

سعودی حکام نے 60 کے قریب خواتین سیاسی قیدیوں کو ان کی انسانی ضروریات اور صحت کی پرواہ کیے بغیر سخت حالات میں حراست میں رکھا ہواہے، خلیج 24 کی رپورٹ کے مطابق 12 سعودی خواتین کارکنان کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے جبکہ اس ملک کی بہت سی خواتین آل سعود کی جیلوں میں غیر انسانی حالات میں ہیں جن میں سے بعض کو سزائے موت کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ یہ سب ایسے وقت میں ہے جبکہ رہا ہونے والی خواتین کو پھر سے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اگر وہ اپنی پرامن سرگرمیاں دوبارہ شروع کرتی ہیں تو انہیں طویل قید کی سزا سنائی جاتی ہے، سعودی خواتین کارکنان میں سے ایک یاسمین الغفیلی ہیں جنہیں مئی 2021 میں ٹویٹس شائع کرنے کی وجہ سے گرفتار کر کے زبردستی لاپتہ کر دیا گیا ، گرفتار ہونے سے پہلے یاسمین الغفیلی نے فرضی نام سے ٹوئٹر پر انسانی حقوق اور قیدیوں کے لے آزادی بیان کے دفاع میں لکھا، تاہم ان کی شناخت کا تعین ہونے کے بعد انہیں سکیورٹی فورسز نے القسیم میں گرفتار کر لیا۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ اس سعودی خاتون کارکن کی حراست کی جگہ کو ظاہر کیا جائے، لیکن آل سعود حکومت نے اس مطالبے کا کوئی جواب نہیں دیا، انسانی حقوق کی تنظیم سند نے اعلان کیا کہ جبری گمشدگی ان ہزاروں سعودیوں کا مقدر ہے جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے منصوبوں اور پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں جبکہ سعودی ولی عہد ان اقتصادی منصوبوں کو فروغ دے رہے ہیں جن کے نفاذ سے بہت سے لوگ بے گھر اور شکار ہورہے ہیں۔

انسانی حقوق کی اس تنظیم نے تاکید کی کہ حلیمه الحویطی نامی سعودی خاتون کارکن ، اس کا شوہر ،بیٹا اور دگر رشتہ دار زبردستی لاپتہ کر دیے گئے ہیں، نومبر 2020 میں گرفتار ہونے والے ان افراد کے بارے میں اب تک کوئی اطلاع نہیں ہے، سند ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے زور دے کر کہا کہ ان کارکنوں کی گرفتاری کی وجہ سعودی ولی عہد کے نیوم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار ہے۔

یاد رہے کہ حلیمہ الحویطی کا مقدمہ انسانی حقوق کے ان مقدمات میں سے ایک ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بن سلمان اب بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور آزادیوں کو چھیننے پر اصرار کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرم بہت سی خواتین کو سعودی جیلوں میں بہت زیادہ ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں جنسی طور پر ہراساں کرنا، تشدد کرنا، اہل خانہ اور دفاعی وکلاء سے رابطہ نہ کرنا اور دوران حراست بدسلوکی شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکہ روس سے تاوان کا مطالبہ کر رہا ہے: ریابکوف

?️ 9 فروری 2022سچ خبریں:   روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے بدھ کو

ریاض کی نئی علاقائی پالیسی اسرائیل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے:صیہونی اخبار

?️ 19 اپریل 2023سچ خبریں:ریاض کی حالیہ علاقائی پالیسی علاقائی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی

حماس اب بھی غزہ پر حکومت کرنے کا خواہاں

?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار یدیوتھ احرانوت کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کے

ابوبکر البغدادی کے نائب کی گرفتاری

?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں:اعراقی وزیر اعظم نے عراق سے باہر مشکل ترین سیکورٹی آپریشن

نیتن یاہو کی لابی شکست کی طرف رواں دواں؛ صیہونی اخبار کا سروے

?️ 2 مارچ 2021سچ خبریں:صیہونی اخبار نے حال ہی میں ایک سروے کیا ہے جس

ممنوعہ فنڈنگ کیس، سائفر آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے عمران خان ایف آئی اے طلب

?️ 2 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف آئی اے نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف

ایک ہزار فوجی اہلکار اب بھی شام میں موجود 

?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں:امریکی افسر نے الجزیرہ سے گفتگو میں عراق، اردن اور

9 مئی سے متعلق ملٹری ٹرائل کی قرارداد سیاسی نوعیت کی ہے، وکیل عمران خان

?️ 20 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے