ہمارا مقصد ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا تھا:سابق امریکی وزیر خارجہ

امریکی

?️

سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہ نے اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا ہدف اس ملک کی عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا تھا۔

سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی کتاب میں سی آئی اے کے سربراہ اور امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں اپنے دور میں ایران کے بارے میں اپنی پالیسیوں کو بیان کیا ہے، "ڈونٹ ٹیک اے اسٹیپ بیک؛ دی فائٹ فار دی امریکن آئی لوڈ” کے عنوان سے اس کتاب میں انہوں نے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے ایرانی عوام کو حکومت کے مقابلہ میں لا کر کھڑا کرنا واشنگٹن کے مقاصد میں سے ایک تھا۔

پومپیو نے 9 مئی 2018 کو ایٹمی معاہدے سے ریاستہائے متحدہ کے باہر نکلنے کے بارے میں اپنی تقریر کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک دن بعد میں نے ایک بہت ہی پرجوش تقریر کی جس میں بتایا گیا کہ ایٹمی کیسے ناکام ہوا اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم اس کی جگہ لے گی، مقصد یہ تھا کہ ایران کو مجبور کیا جائے کہ وہ اوباما انتظامیہ کے دور میں طے پانے والے معاہدے سے کہیں زیادہ بہتر معاہدے کے لیے واپس آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن صرف اتنا ہی نہیں تھا بلکہ ایران کو 12 اہم ضروریات پورا کرنا تھیں جس میں جوہری ہتھیاروں کی ساخت پر مبنی سرگرمیاں مکمل طور پر روکنا اور امریکی یرغمالیوں کی رہائی شامل تھی، اس کے بعد ہمیں پابندیاں ہٹانا تھیں، پومپیو نے بے بنیاد دعوے کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے میں ہماری حکمت عملی کا ہدف حکومت کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کرنا تھا، اس لیے میں نے حقائق بتائے کہ کس طرح حکومت نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے ان کا پیسہ چرایا نیز یہ حقیقت ہے کہ پابندیاں حکومت کے خلاف لوگوں کی بغاوت کا باعث بنتی ہیں، پابندیوں کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے، جس کا اعتراف پابندیوں کی پالیسیاں بنانے والے پہلے ہی کر چکے ہیں،مثال کے طور پر ایران کے خلاف پابندیوں کے معماروں میں سے ایک رچرڈ نیفیو نے بھی اپنی کتاب "پابندیوں کا فن” میں اس پہلو پر توجہ دی ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کو موثر ہونے کے لیے کئی سال درکار تھے، کتاب کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے پیچھے اس نے اسرائیل اور عرب پڑوسیوں پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دیا ہے۔

مائیک پومپیو کی کتاب کے کچھ حصے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی قدس فورس کے سابق کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بارے میں ان کی وضاحتوں سے بھی متعلق ہیں، پومپیو نے کتاب کے چھٹے باب میں لکھا کہ 2 دسمبر 2017 میں میں نے جنرل سلیمانی کو خط بھیجا ، اس کے 2 سال بعد ٹرمپ سے ملاقات میں میں نے جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کی تجویز دی، پومپیو نے لکھا کہ سلیمانی نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ، اس کے 2 سال بعد 29 دسمبر 2019 کو ہم صدر ٹرمپ کے ساتھ مارا-لاگو، فلوریڈا میں ان کے پرتعیش گھر میں بیٹھے تھے میرے ساتھ وزیر دفاع اور چیف آف دی جوائنٹ سٹاف آرمی بھی تھے،ہم وہاں کسی ضروری کام سے تھے، میں نے کہا کہ جناب صدر، ہمارے پاس آپ کے لیے ایک تجویز ہے ،ہدف جنرل قاسم سلیمانی ہیں، پامپیو نے لکھا کہ جناب صدر سلیمانی بیروت سے دمشق اور وہاں سے بغداد کے لیے پرواز کرنے والے ہیں،وہ مسافر طیارے سے سفر کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس ان کی پرواز کی معلومات ہیں ہے، یہ مزید امریکیوں کو مارنے والے ہیں۔

پومپیو نے عراق میں عین الاسد بیس پر ایران کے میزائل حملوں کی طرف مزید اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس حملے کے نتیجے میں کچھ امریکی فوجی شدید زخمی ہوئے، انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایران کے انتقام کے خوف سے ان کی ذاتی زندگی درھم برھم ہے، پومپیو نے اس کتاب میں لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایران کے پاس امریکی سرزمین کے اندر کاروائیاں کرنے کی ضروری صلاحیتیں ہیں لہذا حکومتی عہدہ چھوڑنے کے ڈیڑھ سال بعد، میں اب بھی حفاظتی پروٹوکول میں رہتا ہوں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ نے لکھا کہ کریانے کی دکان پر جاتے ہوئے؟ سفارتی محافظ مجھے پناہ دیتے ہیں جب میں چیک کرتا ہوں کہ کون سے بینگن سب سے زیادہ پکے ہیں تب بھی محافظ میرے ساتھ ہوتے ہیں،سوزان (پومپیو کی بیوی) اپنے بیوٹی پالر جانا چاہتی ہے تو ہمیں پہلے اطمئنان حاصل کرنا پڑتا ہے کہ حزب اللہ کے خفیہ ایجنٹوں نے پارلر کو گھیرے میں نہ رکھا ہو، میرا بیٹا ٹھیک نہیں ہے،مجھے اسے چرچ لے جانے کے لیے افسران کو ایک ٹیم پہلے سے چرچ بھیجنا پڑتی ہے۔

مشہور خبریں۔

تائیوان کا چینی جنگجوؤں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کا دعویٰ

?️ 11 ستمبر 2022سچ خبریں:     چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی کے تسلسل میں

لبنان امریکی اور سعودی مداخلت کا مرکز بن چکا ہے:حزب اللہ

?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے ایک رکن نے

اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا بحران نئے مرحلے میں داخل، فوجی سربراہ پر سخت تنقید

?️ 30 جون 2026سچ خبریں: اسرائیلی فوج میں افرادی قوت کی شدید کمی اور حریدی

امریکی کمپنی کے 1400 ہڑتالی کارکنوں کو باہر نکالا گیا

?️ 9 دسمبر 2021سچ خبریں: بین الاقوامی یونین آف بیکری، کنفیکشنری، ٹوبیکو اینڈ مل ورکرز

یورپ میں غیر معمولی گرمی کی لہر، 10 ہزار سے افراد زائد ہلاک

?️ 12 جولائی 2026 سچ خبریں: سرکاری رپورٹس کے مطابق، یورپی ممالک نے جون کے آخر

’ملک میں بے یقینی بڑھے گی‘، سیاستدان صرف اس بات پر متفق

?️ 23 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ہماری سیاسی جماعتوں کے رہنما کسی اور بات

صیہونی کابینہ کے حالیہ فاشسٹ رویے کے برعکس نتائج برآمد ہوئے ہیں:عطوان

?️ 21 فروری 2023سچ خبریں:عرب زبان تجزیہ نگار نے فلسطین میں جاری کئی اہم واقعات

خلا سے سمندر پر لینڈنگ کا تجربہ انتہائی چیلنج تھا

?️ 7 مئی 2021نیویارک( سچ خبریں)چار خلا باز بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں 160 دن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے