?️
سچ خبریں:صیہونی فوج نے جنوبی شام کے صوبے درعا میں توپ خانے سے گولہ باری کی۔ شامی آبزرویٹری کے مطابق 2026 میں اب تک صیہونی جارحیت کے 594 زمینی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
شامی ذرائع نے جولانی حکومت کی بے عملی کے دوران شام کے خلاف صیہونی حکومت کی مسلسل جارحیت کی اطلاع دی ہے۔
اناطولیہ کے مطابق، صیہونی فوجیوں نے جنوبی شام کے صوبے درعا کے مغربی دیہی علاقوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق، صیہونی فوجیوں نے وادی عابدین اور وادی الرقّاد کی جانب توپ خانے کے متعدد گولے داغے۔ اسی دوران صوبہ درعا کے نواحی علاقے حوض الیرموک میں واقع گاؤں جملہ کے اطراف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
شامی ذرائع نے بتایا کہ صیہونی فوجیوں نے 1974 کی جنگ بندی لائن کے ساتھ قائم اپنی ایک چوکی سے قصبے عابدین کے اطراف میں فائرنگ کی۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب اس سے ایک روز قبل صیہونی فوج نے چند گھنٹوں کے دوران جنوبی شام کے صوبے قنیطرہ کے دیہی علاقوں کو 2 مرتبہ نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران توپ خانے سے قصبے الرفید کے جنوب مشرقی علاقے اور گاؤں بئر عجم پر گولہ باری کی گئی۔
اس سے قبل شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اعلان کیا تھا کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے سے لے کر رواں ماہ 19 ستمبر تک شام کے خلاف صیہونی حکومت کی 1000 سے زائد زمینی جارحیتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ رواں سال ان کارروائیوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2025 میں صیہونی جارحیت کے 460 واقعات جبکہ 2026 میں اب تک 594 واقعات درج کیے گئے ہیں۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے زور دیا کہ صیہونی حکومت کی جارحیت صرف زمینی پیش قدمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک 78 فضائی اور زمینی حملے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
بشار الاسد حکومت کے 8 دسمبر 2014 کو سقوط کے بعد صیہونی حکومت نے شام کے مقبوضہ علاقوں میں توسیع کی، بفر زون پر کنٹرول حاصل کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان 1974 کے عدم تصادم کے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔
اس معاہدے کے تحت شام کی خودمختاری میں ایک بفر زون قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد شامی اور صیہونی افواج کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا تھا۔ اقوام متحدہ کی نگران فورس برائے علیحدگی (UNDOF) اس معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی تھی۔
حال ہی میں قنیطرہ میں صیہونی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ شامی شہریوں نے صیہونی فوجیوں کی جانب سے ان کی زرعی زمینوں میں داخلے، روزگار کے ذرائع کو نقصان پہنچانے، سیکڑوں ہیکٹر جنگلات کی تباہی، لوگوں کو حراست میں لینے، فوجی چوکیاں قائم کرنے اور راہ گیروں کی تلاشی لینے کی شکایات کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جولانی حکومت کی جانب سے تل ابیب کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہونے کے باوجود صیہونی فوج بارہا شام میں داخل ہوکر فضائی حملے کرتی رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے علاوہ شامی فوج سے تعلق رکھنے والی فوجی تنصیبات، گاڑیوں، اسلحے اور گولہ بارود کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جولانی حکومت نے ان جارحیتوں کے خلاف نہ صرف کوئی عملی اقدام نہیں کیا بلکہ وہ تل ابیب کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں بھی ہے۔


مشہور خبریں۔
ڈار کا امیر متقی سے رابطہ، ازبکستان، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ریلوے لائن فریم ورک کی جلد تکمیل پر اتفاق
?️ 1 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کے
جون
پاکستان کو قرض سے ریلیف کی ضرورت ہے: وزیر اعظم
?️ 23 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان
ستمبر
ایران کے بارے میں عرب ممالک کے مؤقف پر صیہونی سیخ پا
?️ 17 جنوری 2026سچ خبریں:عرب ممالک کی جانب سے ایران کے داخلی حالات پر مداخلت
جنوری
حماس کا غزہ کے اسپتالوں میں بین الاقوامی مبصرین بھیجنے پر اصرار
?️ 29 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونیوں کی طرف سے غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع
دسمبر
امریکہ کے ایران کے خلاف فوجی آپشنز سنگین خطرات سے ہمکنار
?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں: رسالہ نیوزویک نے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز، جو
جولائی
صیہونی حکومت کی موجودگی خطے کے بدقسمتی ہے: امیر عبداللہیان
?️ 28 جون 2022سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے
جون
صہیونی شہریوں کا انوکھا احتجاج
?️ 8 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی قیدیوں کے اہل خانہ نے ایک بار پھر نیتن
مارچ
وزیر اعظم نے گوہر تابش کا استعفی قبول کر لیا
?️ 21 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم
ستمبر