یمنی افواج اسٹریٹجک بندرگاہ المخا کے کنٹرول کے قریب، اہم فوجی اڈوں پر قبضہ

اسٹریٹجک بندرگاہ المخا

?️

سچ خبریں:المیادین کے مطابق یمنی مسلح افواج نے مغربی ساحل پر کارروائیاں پھیلاتے ہوئے تعز کے مغرب میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسٹریٹجک بندرگاہ المخا کے داخلی راستوں تک پہنچ گئی ہیں۔

یمنی مسلح افواج نے ملک کے مغربی ساحل پر اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مغربی تعز میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسٹریٹجک بندرگاہ المخا کے داخلی راستوں کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

المیادین کے مطابق یمنی مسلح افواج مغربی یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسٹریٹجک بندرگاہ المخا کا کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

المیادین کے نمائندے نے بتایا کہ یمنی مسلح افواج نے الوازعیہ، الخوخہ اور حیس کے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اسٹریٹجک بندرگاہ المخا کے داخلی راستوں کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی افواج مغربی تعز صوبے میں بندرگاہ المخا کے اہم علاقوں اور فوجی اڈوں پر بھی قابض ہوگئی ہیں۔

المیادین کے نمائندے کے مطابق یمنی فورسز نے خالد فوجی اڈے کے علاوہ جبل النار فوجی اڈے کا بھی کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو مغربی ساحل پر سعودی حمایت یافتہ کرائے کے جنگجوؤں کا کمانڈ ہیڈکوارٹر تھا۔

یمنی میڈیا نے بتایا ہے کہ المخا ایئرپورٹ پر موجود بڑی تعداد میں سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے یمنی مسلح افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

دوسری جانب مغربی یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے کمانڈر طارق صالح نے کہا ہے کہ انہیں اپنی فورسز کو دوبارہ منظم کرنے اور بندرگاہ المخا کے جنوب کی جانب پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یمنی مسلح افواج کی جانب سے بندرگاہ المخا پر مکمل کنٹرول کا ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم روئٹرز نے یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تحریک انصار اللہ نے شہر المخا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اس اسٹریٹجک بندرگاہ کے تقریباً 2,600 مربع کلومیٹر رقبے پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) نے بھی ایک فوجی ذریعے اور یمنی عینی شاہدین کے حوالے سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہی شہر المخا پر تحریک انصار اللہ کے کنٹرول کی خبر دی ہے۔

المخا بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم اسٹریٹجک بندرگاہ ہے جو آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے۔ اس کی اہمیت بالخصوص بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی و کنٹرول، تجارتی سامان کی نقل و حمل اور یمن کی جنگ میں اس کی فوجی حیثیت کے باعث ہے۔

المخا کا سقوط مغربی یمن کے ساحلی علاقوں میں سعودی عرب کے اہم ترین فوجی اور لاجسٹک اڈے سے محروم ہونے کے مترادف ہوگا۔

مشہور خبریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا پنجاب،خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

?️ 9 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پنجاب

افغان طالبان کا امن معاہدے کے متعلق اہم بیان

?️ 6 جولائی 2021سچ خبریں:طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں تیزی

آبنائے میں پھنسا مغرب

?️ 23 جنوری 2024سچ خبریں: مغرب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ غاصب اسرائیلی حکومت

غیر ملکی کے بچے کی پیدائش پر شہریت نہ دینے کا بل قائمہ کمیٹی سے منظور

?️ 11 نومبر 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) ملک کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کی قائمہ کمیٹی

کشتیوں پر حملوں کا اصل مقصد وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے: وائٹ ہاؤس 

?️ 18 دسمبر 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے میگزین وینٹی

روس کی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

?️ 2 فروری 2026سچ خبریں:روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے خبردار کیا

اقوام متحدہ بتدریج مر رہا ہے : عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ

?️ 13 اگست 2026سچ خبریں:عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے اقوام متحدہ

خلیج فارس کے ممالک کے لیے چین کی حکمت عملی کیا ہے؟

?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:آج خلیج فارس کے ممالک اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے