?️
سچ خبریں:ایرانی میزائل حملوں کے بعد رامات ڈیوڈ فضائی اڈے کی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے جنگی طیاروں کے ہینگرز، ایندھن مراکز اور خدماتی تنصیبات میں ممکنہ نقصان کے آثار ظاہر کیے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں اسرائیل کے اہم ترین شمالی فضائی اڈے کی عسکری اہمیت اور بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، حیفا کے جنوب مشرق میں واقع رامات ڈیوڈ فضائی اڈہ ایران اور صہیونی ریاست کے درمیان حالیہ میزائل تبادلوں کے بعد ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
نئی سیٹلائٹ تصاویر اس اڈے کی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ اڈہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شمال میں صہیونی فضائیہ کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
الجزیرہ نے یورپی سیٹلائٹ سینٹینل-2 کی جانب سے 5 جون اور 8 جون کو لی گئی تصاویر کا تقابل کرتے ہوئے ان تنصیبات کے اطراف نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو جنگی طیاروں کے ہینگر تھے یا اڈے کے اندر واقع خدماتی عمارتیں۔
5 جون کی تصویر میں یہ مقام معمول کی حالت میں دکھائی دیتا ہے، جبکہ 8 جون کی تصویر میں رنگت، روشنی کے انعکاس اور سطحی ساخت میں واضح فرق نظر آتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان تین دنوں کے دوران متعلقہ تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
اس سے قبل بعض صہیونی ذرائع ابلاغ نے، فوجی سنسرشپ کے باوجود، اعتراف کیا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے دوران اس اڈے کے کم از کم ایک ہینگر کو نقصان پہنچا ہے۔
صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثر ہونے والے دو مقامات میں سے ایک غالباً معاونت اور سازوسامان کے لیے استعمال ہوتا تھا، جبکہ دوسرا مقام ایف 35 جنگی طیاروں کی ایندھن بھرائی اور خدماتی سرگرمیوں کے لیے مخصوص تھا۔
روزنامہ یدیعوت حرونٹ نے بھی یہ تصاویر شائع کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس اڈے میں پانچ فضائی اسکواڈرن موجود ہیں جن میں ایف 16 جنگی طیارے اور بغیر پائلٹ طیارے شامل ہیں۔ لبنان کی سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث یہ اڈہ جنگ کے دوران حزب اللہ کے بار بار حملوں کا ہدف بھی بنتا رہا ہے۔
اخبار نے مزید بتایا کہ اس خبر کی اشاعت صہیونی فوجی سنسرشپ کی منظوری کے بعد کی گئی۔
یہ تصاویر ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ کے متعدد علاقوں کی اعلیٰ معیار کی سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی پر پابندیاں موجود ہیں، جس کے باعث اسرائیل اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کی آزادانہ تصدیق محدود ہو گئی ہے۔
اس سے قبل جولائی 2024 میں حزب اللہ لبنان کے ایرانی ساختہ ہدہد جاسوس ڈرون نے اس اڈے کے تمام دفاعی نظاموں کو عبور کرتے ہوئے اہم معلومات حاصل کی تھیں۔ اس وقت حزب اللہ نے ایسی تصاویر جاری کی تھیں جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ان میں فضائی اڈے کے کمانڈ ہیڈکوارٹر، آئرن ڈوم نظام، مواصلاتی مراکز، پارکنگ ایریاز، مرمت و دیکھ بھال کے شعبے، افسران کی رہائش گاہیں اور دیگر حساس مقامات دکھائے گئے تھے۔
زب اللہ کے مطابق رامات ڈیوڈ مقبوضہ علاقوں کے شمال میں واقع واحد ایسا فضائی اڈہ ہے جہاں مختلف النوع فضائی تخصصات اور مشن انجام دیے جاتے ہیں۔ یہاں جنگی طیارے، فوجی اور نقل و حمل کے ہیلی کاپٹر، امدادی ہیلی کاپٹر، بحری نگرانی کے ہیلی کاپٹر اور جارحانہ الیکٹرانک جنگی نظام موجود ہیں۔
رامات ڈیوڈ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک ہے، جسے 1942 میں برطانیہ نے شمالی فلسطین میں قائم کیا تھا۔ یہ صہیونی ریاست کے تین بڑے فضائی اڈوں میں شامل ہے اور شمالی علاقے کا سب سے بڑا فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ اڈہ فضائی نگرانی، جاسوسی، روک تھام، فوجی نقل و حرکت اور فضائی حملوں سمیت صہیونی فضائیہ کے مختلف مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اڈہ ایک نسبتاً نشیبی علاقے میں قائم ہے جو سطح سمندر سے تقریباً 55 میٹر بلند ہے۔ اس کے چاروں اطراف پہاڑیاں اور بلند مقامات موجود ہیں جو قدرتی دفاعی رکاوٹوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسے نچلی پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کے حملوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
رامات ڈیوڈ کا کل رقبہ تقریباً 10.5 مربع کلومیٹر ہے۔ اس میں تین رن وے موجود ہیں جن میں سے دو کی لمبائی تقریباً 2400 میٹر جبکہ تیسرے کی لمبائی تقریباً 2600 میٹر ہے۔
اڈے میں جاسوس ڈرونز کے لیے خصوصی لانچنگ پلیٹ فارم اور جنگی طیاروں کے لیے زیر زمین ہینگرز بھی موجود ہیں، جو انہیں میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے اور ان کے درست مقام کی نشاندہی کو مشکل بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں خصوصی تربیتی مراکز، فلائٹ ٹریننگ اسکول، کھیلوں کے میدان، تجارتی مراکز اور دیگر سہولیات بھی موجود ہیں۔
اس فوجی کمپلیکس سے تقریباً 650 میٹر کے فاصلے پر ایک رہائشی بستی بھی قائم ہے جو دفاعی حصار سے محفوظ بنائی گئی ہے۔ اس رہائشی علاقے میں تقریباً 1700 رہائشی یونٹس موجود ہیں جو اڈے کے افسران، اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے مختص ہیں۔ اس بستی میں کھیلوں کے میدان، اسکول، دکانیں اور ایک اسپتال سمیت متعدد سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔


مشہور خبریں۔
غزہ میں اسرائیلی حکومت کے سکینڈل کا ڈھول بج گیا ہے
?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ میں فلسطینی حکومت کے میڈیا آفس نے ایک بیان
اکتوبر
ایران امریکہ مذاکرات میں دو بڑے چیلنجز باقی؛ الجزیرہ کی رپورٹ
?️ 25 مئی 2026سچ خبریں: الجزیرہ نیوز چینل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ
مئی
دمشق صیہونی حکومت کے اہداف کے بینک میں کیسے آیا ؟
?️ 20 جولائی 2025سچ خبریں: جولانی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد، میڈیا نے
جولائی
خون اور آگ میں غزہ؛ صہیونی وحشیانہ مظالم کا 534 واں دن
?️ 25 مارچ 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں سرکاری اطلاعاتی دفتر نے 7 اکتوبر
مارچ
فلسطینی تنظیموں کی مسجد الاقصی پہنچنے کی اپیل
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطینی تنظیموں نے یہودیوں کی عیدوں کے دوران مسجد الاقصی پر
ستمبر
اسرائیلی فوج کے مغربی کنارے پر حملے جاری
?️ 6 فروری 2026 سچ خبریں: صہیونی ریاست کے فوجیوں نے آج مغربی کنارے کے
فروری
آئی ایم ایف ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا، مجھے پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے، اسحٰق ڈار
?️ 3 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ انہیں اس بات
دسمبر
کینڈین خاتون کا عجیب وغریب مشغلہ،گنیز بک میں آئے گا نام
?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں: کینیڈین خاتون کیلی ہارڈی کو ٹوتھ برش جمع کرنے کا
جولائی