کیا ہمارے اسکولی بچے دہشت گرد تھے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر معصوم بچوں کی ہلاکت پر ایرانی صدر کا سوال

دہشت گردی کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے میناب میں بچوں پر حملے پر سوال اٹھاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خطے میں مداخلت اور انسانی حقوق کے دوہرے معیار پر تنقید کی۔

کے صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے شہر میناب میں اسکولی بچوں پر ہونے والے حملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا اسکول کے طلبہ، بچے اور ان کے اہل خانہ دہشت گرد تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا؟ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خطے میں مداخلت کرنے والی طاقتوں کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن و سلامتی کے دعوے کرنے والوں کے اقدامات کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور خاندان سوگوار ہو رہے ہیں۔

پزشکیان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ایران کے ہمسایہ ممالک مسلمان ہیں اور خطے کے ممالک ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، ممالک کو باہمی تنازعات میں الجھنے کے بجائے تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض طاقتیں سلامتی، امن اور استحکام کے قیام کا دعویٰ کرتے ہوئے خطے میں مداخلت کرتی ہیں، حالانکہ ان کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی، لوٹ مار اور جرائم جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

میناب میں بچوں پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرنے والے خود ایسے اقدامات کرتے ہیں جن میں بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 انہوں نے سوال کیا کہ کیا اسکول کے طلبہ دہشت گرد تھے؟ کیا بچے اور ان کے خاندان دہشت گردی میں ملوث تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا؟

پزشکیان نے انسانی حقوق کے تصور کے مبینہ دوہرے معیار پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ذرائع ابلاغ میں دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، لیکن وہی طاقتیں ایسے اقدامات کرتی ہیں جن سے انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ دنیا میں بہت سی جنگوں اور جرائم میں وہ طاقتیں ملوث ہوتی ہیں جو خود کو امن کا محافظ قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی خود یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے دنیا کے دوسرے حصوں سے آنے والی طاقتوں کو دھونس اور زبردستی کے ذریعے اپنا کردار مسلط کرنے کی ضرورت نہیں۔

مشہور خبریں۔

ایف بی آر کو رواں سال 76 فیصد زائد ٹیکس گوشوارے موصول

?️ 8 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر کو 6 نومبر تک ٹیکس

غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ، کیا اسرائیل اپنے فوجی واپس بلائے گا؟

?️ 9 اکتوبر 2025غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ، کیا اسرائیل اپنے فوجی واپس بلائے

فواد چوہدری کی درخواستِ ضمانت منظور

?️ 18 دسمبر 2023راولپنڈی : (سچ خبریں) انسداد کرپشن کی خصوصی عدالت نے سابق وفاقی

خاشقجی کے قاتل کو طویل عرصہ کےبعد جدہ میں دیکھا گیا

?️ 19 جون 2023سچ خبریں:العربی الجدید ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے سابق مشیر

مغرب G20 اجلاس کی ترتیب کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا

?️ 11 ستمبر 2023سچ  خبریں: روسی وزیر خارجہ نے یوکرین میں جنگ، ماسکو اور یریوان

امریکی قانون سازوں کی یوکرین کے لیے امداد اور روس کے خلاف پابندیوں کی منظوری

?️ 5 جون 2026سچ خبریں: امریکی ایوانِ نمائندگان نے یوکرین کو مزید فوجی اور معاشی امداد

داعش کا فلسطینی مجاہدین کے خلاف اعلان جنگ

?️ 25 جون 2021سچ خبریں:داعش دہشت گرد گروہ نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایران

افغان سرزمین کو دہشت گردی کے استعمال سے روکنے کیلئے عالمی برادری مدد کرے، شہباز شریف

?️ 16 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) شنگھائی تعاون تنظیم  کے 23 ویں سربراہی اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے