امریکہ کی یوکرین کے لیے فوجی امداد کی معطلی بے رحمانہ ہے!:فرانسیسی سیاستدان 

امریکہ کی یوکرین کے لیے فوجی امداد کی معطلی بے رحمانہ ہے!:فرانسیسی سیاستدان 

?️

سچ خبریں:فرانس کی دائیں بازو کی سابقہ رہنما مارین لوپن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کو فوجی امداد معطل کرنے کے فیصلے کو بے رحمانہ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے۔  

رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی دائیں بازو کی سابقہ رہنما مارین لوپن نے یوکرین کو فوجی امداد معطل کرنے کے امریکی فیصلے کو یوکرین کے محب وطن فوجیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا قدم ہے جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں شدید تنازعہ ہوا، جس کے بعد بعض میڈیا رپورٹس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے یوکرین کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن نہ صرف فوجی امداد معطل کر رہا ہے بلکہ یوکرینی فوجیوں اور پائلٹوں کی تربیت اور انٹیلی جنس شیئرنگ بھی روکنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
لوپن نے فرانسیسی اخبار لو فیگارو سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ ان یوکرینی فوجیوں کے ساتھ بے حد ظالمانہ ہے جو اپنے ملک کے دفاع میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ یوکرین کی حمایت سے پیچھے ہٹنا چاہتا ہے، تو کوئی بھی اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اسلحے کی فراہمی کی معطلی اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا امریکی انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سپورٹ کا خاتمہ، کیونکہ اسلحے کو کسی نہ کسی طرح متبادل ذرائع سے پورا کیا جا سکتا ہے، مگر حساس معلومات کا متبادل تلاش کرنا یورپی ممالک کے لیے مشکل ہوگا۔
لوپن کا ماننا ہے کہ یورپی یونین امریکہ پر انٹیلی جنس کے معاملے میں حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے، جس کی وجہ سے یورپی ممالک یوکرین کی فوج کو درکار معلومات فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ مارین لوپن نے 2016 کے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی کا خیرمقدم کیا تھا اور وہ یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی مغربی مؤقف پر تنقید کر چکی ہیں۔
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ یوکرین جنگ سے فرانس کے بنیادی مفادات کو کوئی خطرہ نہیں اور روس یورپی یونین کے لیے کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق، مغربی ممالک کو یوکرین پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ماسکو کے ساتھ مذاکرات کرے تاکہ جنگ کا جلد خاتمہ ممکن ہو سکے۔

مشہور خبریں۔

ہمیں یقین ہے کہ ہم مردہ واپس آئیں گے: صہیونی قیدی

?️ 13 اپریل 2025سچ خبریں: حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے امریکی شہریت کے

امریکی عوام کی اکثریت ایران کے خلاف امریکی حملوں کی مخالف؛ سروے میں انکشاف

?️ 15 جولائی 2026سچ خبریں:امریکہ میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق زیادہ تر

مقبوضہ فلسطین میں صیہونی بستیوں کی سیکورٹی کمزور

?️ 1 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج سے وابستہ مطالعاتی مرکز میں کی گئی

اسرائیل کی تاریخی شکست؛ غزہ کی تعمیر نو حماس کو غیر مسلح کیے بغیر کی جائے گی

?️ 30 جون 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت کے سرکاری نشریاتی ادارے کان نے رپورٹ کیا

بائیڈن کا وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ شکست کا انتباہ

?️ 7 نومبر 2022سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے پنسلوانیا میں ایک تقریر میں خبردار

ثناء خان عُمرے کیلئے سعودی عرب روانہ

?️ 18 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) سابقہ بالی ووڈ اداکارہ ثناء خان اپنے شوہر مفتی

ڈچ وزارت دفاع میں سائبر رکاوٹ

?️ 30 اگست 2024سچ خبریں: نیدرلینڈز کی وزارت دفاع میں مواصلاتی نیٹ ورکس میں سے ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے