?️
سچ خبریں:روئٹرز کی تحقیق کے مطابق سیریک کے کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے کے مقام سے حاصل تصاویر اور شواہد کا 4 ماہرین اسلحہ نے جائزہ لیا، جن میں 3 نے امریکی ساختہ ہتھیار کے براہ راست حملے کو زیادہ قرین قیاس قرار دیا۔
نیویارک ٹائمز کے بعد روئٹرز نے بھی 4 ماہرین اسلحہ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے شہر سیریک میں ایک شادی کی تقریب کو براہ راست نشانہ بنایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب کی جانب سے سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی فوج کے حملے کی تردید کی کوششوں کے باوجود، نیویارک ٹائمز کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی ہرمزگان صوبے کے سیریک کاؤنٹی کے شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے مہلک حملے کی تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے۔
روئٹرز کے مطابق حملے کی تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا 4 ماہرین فوجی اسلحہ نے جائزہ لیا۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریب کے مقام پر گرنے والا ہتھیار غالباً امریکی ساختہ تھا، جبکہ دستیاب شواہد اس مفروضے سے کم مطابقت رکھتے ہیں کہ ایران کا کوئی فضائی دفاعی میزائل کسی دوسرے ہدف سے ٹکرا کر یا اس سے ٹکرانے کے بعد رخ بدلتے ہوئے گھر پر آ گرا ہو۔
یہ واقعہ 1 ستمبر کی رات پیش آیا، جب کوہستک میں ایک گھر میں شادی کی تقریب کے لیے درجنوں افراد جمع تھے۔
حملے کے بعد بنائی گئی تصاویر میں گھر کی چھت میں ایک بڑا سوراخ، صحن میں بڑے پیمانے پر تباہی اور عمارت کے اندر ملبہ دکھائی دیتا ہے۔ ملبے میں شادی کے لیے استعمال ہونے والے جوتے اور رنگ برنگی سجاوٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں 4 افراد جاں بحق اور کم از کم 68 زخمی ہوئے، جبکہ بعد کی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 5 تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔
روئٹرز نے ہتھیار کے ماخذ کا تعین کرنے کے لیے واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز 4 فوجی اسلحہ ماہرین کو فراہم کیں۔
ان میں سے 3 ماہرین نے کہا کہ استعمال ہونے والا ہتھیار امریکی ساختہ تھا، نہ کہ ایران کا کوئی بے قابو فضائی دفاعی میزائل۔ ماہرین نے چھت میں بننے والے سوراخ، دھماکے کے انداز اور ہونے والے نقصان کی نوعیت کی بنیاد پر اس امکان کو زیادہ مضبوط قرار دیا کہ ہتھیار براہ راست عمارت سے ٹکرایا تھا۔
آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے تکنیکی اسلحہ ماہر اور امریکی فوج کے سابق بم ناکارہ بنانے والے ماہر ٹریور بال نے تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ بظاہر نقصان ایسے ہتھیار سے ہوا جو چھت سے ٹکراتے وقت یا عین اس کے اوپر پھٹا۔
ان کے مطابق شواہد براہ راست حملے سے مطابقت رکھتے ہیں اور یہ نقصان قریبی مواصلاتی ٹاور پر حملے کے نتیجے میں پھیلنے والے ملبے یا ٹکڑوں سے نہیں ہوا ہو سکتا۔
بال نے مزید امکان ظاہر کیا کہ ہتھیار امریکی ساختہ تھا۔ انہوں نے ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ہتھیاروں کی باقیات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بعض ٹکڑے جوائنٹ اسٹینڈ آف ویپن (JSOW) سے مشابہت رکھتے ہیں، جو ایک گائیڈڈ گلائیڈ بم ہے اور امریکی فوج اسے استعمال کرتی ہے۔ تاہم روئٹرز نے واضح کیا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ یہ مخصوص ٹکڑے اسی شادی والے گھر پر ہونے والے حملے سے متعلق تھے۔
برطانوی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اور بم ناکارہ بنانے کے سابق ماہر گیری کولٹ نے بھی بال کے تجزیے سے اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی شواہد ایران کے فضائی دفاعی میزائل کے بجائے 500 پاؤنڈ وزنی امریکی ساختہ فضائی ہتھیار کے استعمال کی جانب زیادہ اشارہ کرتے ہیں۔ کولٹ نے امکان ظاہر کیا کہ امریکی ہتھیار اپنے مطلوبہ ہدف سے ہٹ گیا ہو۔ ان کے مطابق جدید رہنمائی کے نظام کے باوجود اس طرح کی غلطی ممکن ہے۔
اوسلو پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی پروفیسر سباستین شوٹے نے بھی واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دیگر 2 ماہرین سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ گھر کی چھت میں بننے والا سوراخ اس مفروضے سے مطابقت نہیں رکھتا کہ کوئی ہتھیار مواصلاتی ٹاور سے ٹکرا کر یا اچھل کر گھر تک پہنچا تھا۔ شوٹے کے مطابق حملے کا زاویہ بھی فضائی دفاعی میزائل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کولٹ نے بھی کہا کہ جائے وقوعہ پر ایسے ٹکڑوں کے شواہد موجود نہیں جو عام طور پر فضائی دفاعی میزائل کے وار ہیڈ کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔
ان شواہد کی بنیاد پر تینوں ماہرین نے اس امکان کو کم قرار دیا کہ ایران کا کوئی ناکام میزائل گھر سے ٹکرانے کے باعث یہ تباہی ہوئی۔
دوسری جانب 2 امریکی حکام نے روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ امریکی فوج نے 1 ستمبر کو کوہستک کے علاقے میں حملے کیے تھے۔ ان حکام کے مطابق امریکی حملوں کا ہدف شہر کا مواصلاتی ٹاور تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹاور شادی کی تقریب کے مقام سے تقریباً 135 میٹر کے فاصلے پر تھا۔ ایرانی میڈیا نے بھی ٹاور کو نشانہ بنائے جانے کا وقت مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 9:30 بجے بتایا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن شادی کی تقریب میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے کئی امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ ہلاکتیں براہ راست امریکی حملے کے نتیجے میں ہوئیں، ایران کا کوئی فضائی دفاعی میزائل کسی دوسرے ہدف سے ٹکرا کر گھر کی جانب مڑ گیا یا کوئی بے قابو انٹرسیپٹر میزائل گھر سے جا ٹکرایا۔ امریکی فوج نے بھی کہا تھا کہ اسے شہری ہلاکتوں سے متعلق رپورٹس کا علم ہے اور وہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
دریں اثنا، امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ 1 ستمبر کے حملوں میں ایران کے فوجی اہداف، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، مواصلاتی تنصیبات اور بحری سازوسامان شامل تھے، کو نشانہ بنایا گیا۔
مقامی رہائشیوں کی گواہی نے بھی واقعے کے بعض پہلوؤں کو مزید واضح کیا ہے۔ کوہستک کے ایک رہائشی نے دھماکے کے چند لمحوں بعد روئٹرز کو ایک صوتی پیغام بھیجا، جس میں کہا: کوہستک تباہ ہو گیا ہے۔ 4، 5، 10 گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ بہت سے لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ خدا ہماری مدد کرے۔
ایک اور مقامی رہائشی نے حملے کے بعد روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریب میں بہت سے لوگ موجود تھے اور بڑی تعداد میں زخمیوں کو جائے وقوعہ سے نکالا جا چکا تھا جبکہ زخمیوں کی منتقلی کا عمل جاری تھا۔ مقامی حکام کی جانب سے غیر ملکی میڈیا سے بات نہ کرنے کے دباؤ کے باعث رہائشیوں نے واسطوں کے ذریعے روئٹرز سے رابطہ کیا۔
روئٹرز کو فراہم کی گئی تصاویر میں مواصلاتی ٹاور بھی انہی حملوں کے دوران مکمل طور پر زمین پر گرا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ اس کے دھاتی حصے بکھرے پڑے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ہرمزگان کے مواصلاتی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ ٹاور ایک غیر فوجی تنصیب تھی جو سیریک کاؤنٹی اور گرد و نواح کے رہائشیوں کو موبائل، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرتی تھی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ تقریب میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے۔ دھماکے کے بعد کی تصاویر میں ملبے کے درمیان خواتین اور بچوں کے ذاتی سامان اور جوتے دکھائی دیتے ہیں۔ دلہن کے والد، جو اس گھر کے مالک بھی تھے، نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں بھی تصدیق کی کہ عمارت میں موجود افراد عام شہری تھے۔
ایرانی حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 4 بتائی تھی۔ روئٹرز کے حوالے سے انسانی حقوق کے گروپوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 افراد شادی کی تقریب کے مہمان تھے: 43 سالہ کلثوم ملاہی نژندانی، 50 سالہ زر خاتون طاہری اور 4 سالہ امیرمحمد کریمی۔
چوتھا شخص 16 سالہ محمد ملاہی تھا، جو مواصلاتی ٹاور کے قریب موٹر سائیکل پر گزر رہا تھا کہ حملے میں جاں بحق ہو گیا۔ بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ 22 سالہ ایک خاتون بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئی، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی۔
3 ستمبر کو 4 سالہ امیرمحمد کریمی کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات سیریک شہر میں منعقد ہوئیں۔ جاری کی گئی تصاویر میں ساحلی جنوبی ایران کے روایتی لباس میں ملبوس سوگوار خواتین کو دیکھا گیا جو بچے کے چھوٹے تابوت پر پھول نچھاور کر رہی تھیں۔ ایک عینی شاہد نے علاقے کی صورتحال کو غم انگیز اور سوگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اب بھی صدمے میں ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکی فوج اس سے قبل بھی ایران کے خلاف جنگ کے دوران اپنے حملوں کا ہدف فوجی اور مواصلاتی تنصیبات کو قرار دیتی رہی ہے۔
28 فروری کو میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کے معاملے میں بھی امریکی ذمہ داری کے حوالے سے اسی طرح کے سوالات اٹھے تھے۔ پینٹاگون نے اب تک اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے، تاہم روئٹرز نے مارچ میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج کی ابتدائی داخلی تحقیقات میں اس حملے میں امریکی فورسز کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
اس سے چند گھنٹے قبل نیویارک ٹائمز نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا تھا کہ حملے کی تصاویر اور ویڈیوز، مقامی رہائشیوں اور حکام کے بیانات کے تجزیے کی بنیاد پر اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ امریکی حملے میں ایک رہائشی علاقے کی اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔


مشہور خبریں۔
پاناما پیپرز نے دنیا کے بڑے کرپٹ لوگوں کے بیرون ملک چھپائے اثاثوں کو بے نقاب کیا
?️ 3 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا
اکتوبر
جمعہ صیہونیوں کے خلاف غصے کا دن
?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں: میڈیا رپورٹس میں فلسطینیوں کی جانب سے مظلوم فلسطینی قوم
اکتوبر
خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری
?️ 18 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے خاتون جج
اپریل
شام میں مغربی ممالک کے جرائم
?️ 16 مارچ 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے نے ، بین الاقوامی
مارچ
بانی پی ٹی آئی نے جس کا انتخاب کیا وہی وزیراعلی ہوگا۔ بیرسٹر گوہر
?️ 11 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر
اکتوبر
بحیرہ احمر میں ہمارے جنگی بحری جہازوں کے ساتھ کیا ہوا؟پینٹاگون کا بیان
?️ 13 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یمن
نومبر
وزیراعظم شہباز شریف لندن سے وطن واپس پہنچ گئے
?️ 14 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزریراعظم شہباز شریف لندن میں 5 روزہ قیام کے
نومبر
صہیونی فوج کے ہلاک ہونے والے اعلیٰ افسروں کی فہرست
?️ 9 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطینی میڈیا نے اسرائیلی فوج کی طرف سے شائع کردہ تازہ
اکتوبر