ایران-امریکہ تعلقات اور دفاعی و مزاحمتی آپشنز  

ایران-امریکہ تعلقات اور دفاعی و مزاحمتی آپشنز  

?️

سچ خبریں:ایران اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اسے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے— ایسی حکمت عملی جو فوجی مزاحمت، فعال سفارت کاری اور اقتصادی خودمختاری کو یکجا کرے۔  

عراقی تجزیہ کار اور سیاسی کارکن نجاح محمد علی نے امریکہ-ایران تعلقات اور دفاعی و مزاحمتی آپشنز کے عنوان سے ایک خصوصی تجزیہ کیا ہے جو درج ذیل ہے:
1. امریکہ اور ایران کے تعلقات کی مجموعی صورتحال  
ایران اور امریکہ کے تعلقات عالمی سیاست کے پیچیدہ ترین معاملات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے مسلسل کشیدگی اور محاذ آرائی کا شکار ہیں۔
– واشنگٹن ایران کو اپنے خطے میں مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے، جبکہ تہران، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں کو اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کمزور کرنے کی سازش قرار دیتا ہے۔
– ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے امریکہ اور صیہونی حکومت کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، کیونکہ وہ اسے ممکنہ خطرہ سمجھتے ہیں۔
– اس کے برعکس، ایران کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں مزاحمتی منطق ایک بنیادی عنصر ہے خاص طور پر جب بڑی طاقتیں اور کچھ علاقائی حریف جوہری ہتھیار رکھتے ہیں۔
2. ایران کی دفاعی و مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے آپشنز  
حکمت عملی؛ دفاع اور مزاحمت کا بیانیہ
مغربی دباؤ اور بڑھتے ہوئے خطرات نے ایران کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔
 اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات اہم ہیں:  
– جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی؛ ایک مسلم حق کے طور پر ایران کو اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانا چاہیے۔
– بیلسٹک اور کروز میزائل ٹیکنالوجی میں اضافہ؛ تاکہ ایران اپنی مزاحمتی صلاحیت کو مزید مستحکم کر سکے۔
– فضائی دفاع اور الیکٹرانک وارفیئر کی بہتری: تاکہ فضائی و میزائل حملوں کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
3. اسٹریٹجک اتحادوں میں وسعت  
– چین اور روس کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا تاکہ ایران سفارتی حمایت اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کر سکے۔
– مزاحمتی محاذ کے رکن ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دینا تاکہ علاقائی مزاحمت کا مشترکہ نظام تشکیل دیا جا سکے۔
– اقتصادی تعلقات کو وسیع کرنا تاکہ مغربی مالیاتی نظام پر انحصار کم ہو۔
4. اقتصادی طاقت میں اضافہ اور پابندیوں کا مقابلہ  
– مقامی دفاعی و اقتصادی صنعتوں کو ترقی دینا تاکہ ایران پابندیوں کے اثرات کو کم کر سکے۔
– متبادل تجارتی نظام قائم کرنا، جیسے مقامی کرنسیوں میں لین دین اور اشیاء کے تبادلے کے ذریعے۔
– تیل پر انحصار کم کرنا اور دیگر شعبوں جیسے ٹیکنالوجی، زراعت، اور مینوفیکچرنگ کو ترقی دینا۔
5. مغرب اور صیہونی حکومت کو پیغام  
– مغرب کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ جوہری ہتھیار صرف مخصوص ممالک کا حق نہیں بلکہ عالمی سطح پر کئی طاقتیں اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
– اگر دباؤ جاری رہا تو ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مستحکم کرنے پر مجبور ہوگا۔
– امریکہ صرف ان ممالک کا احترام کرتا ہے جو حقیقی طاقت رکھتے ہیں جیسا کہ اس کا چین اور شمالی کوریا کے ساتھ رویہ ظاہر کرتا ہے۔
– صیہونی حکومت خود ایک غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کی طاقت ہے، اس لیے وہ ایران پر دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں۔
نتیجہ  
ایران کے لیے ایک مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے، جس میں فوجی مزاحمت، متحرک سفارت کاری، اور اقتصادی خودمختاری کو یکجا کیا جائے، تیل پر انحصار کم کر کے معیشت کو مضبوط بنانے سے ایران کو مغربی پابندیوں کے اثرات سے زیادہ مزاحمت حاصل ہوگی۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کی ایران سے مذاکرات کے لیے عجیب شرط!

?️ 17 فروری 2025 سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے مشیر نے آج ایک

مشرقِ وسطی کی صورتحال نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خواجہ آصف

?️ 7 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز

جرمنی میں کارپوریٹ دیوالیہ پن میں نمایاں اضافہ

?️ 8 اپریل 2023سچ خبریں:سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کارپوریٹ دیوالیہ ہونے والوں

پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور 6 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

?️ 8 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی

پرویز الہٰی کی اہلیہ نے این اے 64 کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

?️ 28 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما

کواڈ کانفرنس اور چین کے خلاف چار ممالک کا اتحاد

?️ 16 مارچ 2021(سچ خبریں) چین کے خلاف امریکا اور بھارت کی کوویڈ ڈپلومیسی شروع

روس کی سرخ لکیر بولڈ؛ امریکہ یوکرین کو میزائل نہیں دے گا

?️ 15 فروری 2023سچ خبریں:امریکہ اپنے ملٹری ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کے ذخیرے کو کم کرنے

روس یوکرائن کشیدگی نیٹو کی پیداوار ہے:ایران

?️ 25 فروری 2022سچ خبریں:ایران کا کہنا ہے کہ روس اوریوکرائن کے درمیان پیدا ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے