امریکہ کی عراقی داخلی معاملات میں مداخلت

عراق

?️

سچ خبریں:عراق کی نئی حکومت کے قیام کے بعد امریکہ نے مزاحمتی گروہوں کو محدود کرنے اور بغداد کے ایران کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو کمزور بنانے کے لیے اپنے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ عراقی سیاسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی دباؤ کے تحت کوئی بھی جلد بازی داخلی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

عراق کی نئی حکومت کے قیام کے بعد امریکہ نے اپنے دباؤ اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں میں اضافہ کرتے ہوئے مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے یا ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغداد کے اندرونی معاملات میں امریکی دباؤ اور مداخلت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ واشنگٹن کوشش کر رہا ہے کہ مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق اپنی خواہشات عراق کے نئے وزیر اعظم علی الزیدی کی حکومت پر مسلط کرے۔

علی الزیدی نے مئی کے وسط میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلحہ صرف ریاست کے اختیار میں ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ امریکی مداخلتوں اور غزہ جنگ کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے باعث مزید حساس ہو چکا ہے۔

اس حوالے سے بین الاقوامی بحران گروپ کے عراق امور کے سینئر تجزیہ کار لہیب ہیغل نے کہا کہ علی الزیدی نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا ہے جب عراق متعدد بحرانوں سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی پالیسیوں کے باعث عراق ایران کے خلاف جاری محاذ آرائی کا میدان بن چکا ہے اور حکومت ان مداخلتوں کے اثرات کی وجہ سے طاقت کے تمام ذرائع پر مکمل حاکمیت قائم کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہے۔

لہیب ہیغل نے اسکائی نیوز عربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی الزیدی عراق کے حکمران اتحاد کے اندر سیاسی تعطل کے بعد وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے اور اعلیٰ عدالتی کونسل کے سربراہ فائق زیدان کی مداخلت نے واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے ان کی قبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراقی تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں جس سے بغداد کی آمدنی میں کمی آئی ہے اور حکومت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

عراقی امور کے اس ماہر کے مطابق نئے وزیر اعظم کو درپیش سب سے فوری چیلنج امریکہ کا وہ دباؤ اور مداخلت ہے جس کا مقصد عراق اور ایران کے درمیان تزویراتی تعلقات اور باہمی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے۔

تاہم ان کے بقول بیرونی دباؤ کے مقابلے میں عراقی وزیر اعظم کے اختیارات اور امکانات بہت محدود ہیں، کیونکہ سابقہ حکومت بھی واشنگٹن کی مداخلتوں کے باعث نہ تو امریکی مفادات کے خلاف عراقی سرزمین کے استعمال کو روک سکی اور نہ ہی خطے کی فضائی حدود سے ایران کے خلاف ہونے والی اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں کامیاب ہوئی۔

مزاحمتی تحریک کے ہتھیاروں کا مسئلہ عراق کے اندر اختلافات کا سبب بن چکا ہے۔ بعض گروہوں نے اس معاملے میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم دیگر گروہ، بالخصوص عراقی حزب اللہ بریگیڈز، اس موضوع پر کسی بھی بحث کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ مطالبات امریکی دباؤ اور احکامات کا نتیجہ ہیں۔

امریکہ نے اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے تحت متعدد بار مزاحمتی گروہوں پر عراق میں اپنے مفادات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں نے امریکی موجودگی کے ردعمل میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔

واشنگٹن نے عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزاحمتی گروہوں، بالخصوص حزب اللہ بریگیڈز کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے، جن کے نتیجے میں مزاحمت کے درجنوں مجاہدین شہید ہوئے۔

لہیب ہیغل نے آخر میں زور دیا کہ سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ان قوتوں کو بتدریج ریاستی اداروں اور سرکاری ڈھانچوں میں ضم کیا جائے، کیونکہ بیرونی دباؤ کے تحت مزاحمتی گروہوں کے خلاف کسی بھی عجلت پسندانہ اقدام سے داخلی جنگ بھڑک سکتی ہے، جبکہ واشنگٹن کے مطالبات کی مخالفت عراق کے خلاف یکطرفہ امریکی پابندیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ انصاف نہیں، ناانصافی کا حامی ہے،نیتن یاہو  کو گرفتار کیا جانا چاہیے: اقوام متحدہ کی رپورٹنگ آفیسر 

?️ 12 جولائی 2025 سچ خبریں:اقوام متحدہ کی رپورٹنگ آفیسر فرانچسکا آلبانیز نے کہا ہے

فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کا کوئی امکان نہیں

?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں: 7 اکتوبر کے واقعات کے آغاز سے لے کر اب تک

امریکی وزیرِ جنگ کا عراق کو انتباہ کا اصلی ہدف حزب اللہ لبنان

?️ 4 نومبر 2025امریکی وزیرِ جنگ کا عراق کو انتباہ کا اصلی ہدف حزب اللہ

لاہور میں دہشتگردانہ حملے کو ناکام بنا دیا

?️ 8 اگست 2021لاہور(سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق ترجمان کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ

ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے دلدل سے نکلنے کے راستے کی تلاش میں ہے

?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:  "ولید صافی”، استاد جامعہ اور عرب تجزیہ کار نے کہا

لبنانی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ کس ملک کا ہو گا؟

?️ 24 فروری 2025 سچ خبریں:لبنان کے صدر جوزف عون نے اپنے انتخاب کے بعد

الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو عاقلہ کے قاتل کی شناخت منظر عام پر

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:تحقیقی دستاویز کے ذریعے انکشاف ہوا ہے کہ الجزیرہ کی شہید

مصر کے نئے ہتھیار؛ صیہونی لرزہ براندام

?️ 15 اپریل 2025 سچ خبریں:صہیونی فوجی جریدے نے مصر کی مسلح افواج کی بے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے