?️
انقرہ (سچ خبریں) ایک طرف جہاں پاکستان ایک عرصے سے افغانستان میں امن برقرار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے وہیں اب دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان نے افغانستان میں امن برقرار کرنے کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد صرف ترکی ہی افغانستان میں امن برقرار کرسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن سے پہلی مرتبہ دوبدو ملاقات سے ایک روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد ترکی واحد قابل اعتماد ملک ہے جو افغانستان میں استحکام لاسکتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے یہ دعویٰ کرکے امریکا کو اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے نیٹو اتحادی پر انحصار کر سکتا ہے۔
رجب طیب اردوان نے یہ بھی کہا کہ وہ پیر کے روز برسلز میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر جو بائیڈن کے ساتھ اپنی ملاقات میں اس معاملے پر بات کریں گے۔
برسلز روانگی سے قبل استنبول ہوائی اڈے پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا، افغانستان چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور جب وہ کابل کو خیر باد کہہ دیں گے تو وہاں پر استحکام کو برقرار رکھنے کا واحد قابل اعتماد ملک ترکی ہے۔
رجب طیب اردوان نے بتایا کہ ترک عہدیداروں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں انقرہ کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا، تاہم انہوں نے منصوبوں سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ترک صدر نے کہا کہ امریکا خوش ہے اور اب ہم ان کے ساتھ افغانستان کے عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ایک ترک عہدیدار نے تصدیق کی کہ مغربی طاقتیں کابل ایئرپورٹ کی حفاطت کے لیے ترکی کے وہاں رہنے پر راضی ہیں، تاہم عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر کوئی مدد نہیں دیتا تو ترکی کیوں کوشش کرے گا اس لیے ان امور کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ہفتے کے روز طالبان نے کہا کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد کسی بھی دوسرے ملک کو اپنی فوجی یہاں تعینات کرنے کی امید نہیں کرنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ سفارت خانوں اور ہوائی اڈوں کی حفاظت افغانوں کی ذمہ داری ہوگی۔
علاوہ ازیں امریکا سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ترک صدر نے واضح کیا کہ ہمیں اختلاف کو پیچھے چھوڑ کر آگے کے امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکا بھی اگر مگر کے بغیر بات چیت کرے گا۔
جو بائیڈن کی جانب سے نسل کشی کی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اس سے ہمیں شدید رنج ہے کیونکہ ترکی کوئی عام ملک نہیں ہے، یہ امریکا کا اتحادی ہے۔


مشہور خبریں۔
ٹک ٹاک گائیڈ لائنز تبدیل: ڈائٹ، ادویات، جنسی استحصال اور نفرت انگیز مواد پر پابندی
?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی
مئی
قومی پیغام امن کمیٹی کا جمعہ کو یوم پیغام پاکستان منانے کا اعلان
?️ 14 جنوری 2026پشاور (سچ خبریں) قومی پیغام امن کمیٹی نے جمعہ کو یوم پیغام
جنوری
ٹرمپ امریکی صدر بن جائیں گے تو نیٹو کے ساتھ کیا کریں گے؟
?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر کا خیال ہے کہ سابق
اگست
قطر میں حماس پر اسرائیل کے ناکام دہشت گردانہ حملے کے بعد عبرانی حلقوں میں غصہ اور الجھن
?️ 14 ستمبر 2025سچ خبریں: صہیونی حلقوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
ستمبر
امریکہ نے افغانستان میں منشیات کی پیداور میں پچاس گنا اضافہ کیا:ایرانی جنرل
?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:فوجی امور میں آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر اعلی میجر
فروری
میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج جاری، فوج نے فائرنگ کرکے مزید 8 افراد کو ہلاک کردیا
?️ 21 مارچ 2021میانمار (سچ خبریں) میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف شدید احتجاج جاری
مارچ
صہیونی رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی راکھ تلے آگ
?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ کی جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ، صہیونی سیاسی
جنوری
اردن کی سرحدوں کے قریب صیہونی حکومت کی نقل و حرکت
?️ 28 فروری 2026 سچ خبریں:صہیونی کابینہ نے اردن کی سرحدوں کے قریب یہودی بستیوں
فروری