?️
سچ خبریں:جرمن میگزین فوکس نے امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویز کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تصور کردہ نئے عالمی نظام میں یورپی یونین کی حیثیت ایک غیر اہم تماشائی تک محدود ہو گئی ہے۔
ایک مغربی مگیزین نے اپنی ایک رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ امریکی صدر کے تصور کردہ نئے عالمی نظام میں یورپی یونین کی حیثیت کس طرح گھٹ کر ایک غیر اہم اور محض تماشائی عنصر تک محدود ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا یورپی یونین پر تجارتی حملہ
فوکس مگزین نے امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی دستاویز کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے عالمی نظام میں یورپ ایک غیر اہم تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی سلامتی حکمتِ عملی ایک واضح پیغام دیتی ہے، اور وہ یہ کہ یورپ کی خوش فہمیاں ٹوٹ چکی ہیں اور عالمی طاقت کا نظام اب سنجیدگی کے ساتھ متزلزل ہو چکا ہے۔
اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتِ حال بین الاقوامی طاقت کے تعلقات میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جسے خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ کی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی نے تشکیل دیا ہے۔
یہی نقطۂ نظر یوکرین جنگ کے بارے میں امریکہ کے مؤقف میں بھی جھلکتا ہے، ٹرمپ کے نزدیک یہ جنگ بنیادی طور پر ایک معاشی مسئلہ ہے اور ان کے خیال میں جنگ تجارت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
امریکی حکمتِ عملی میں تبدیلی کے پیش نظر، یورپ کے لیے خودمختاری کے عزائم پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکے ہیں۔ امریکہ اب یورپ کو ایک شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ بڑھتے ہوئے انداز میں اسے ایک خطرہ اور بحران کے عنصر کے طور پر جانچتا ہے۔
اس حکمتِ عملی میں سلامتی کی ضمانتوں کو معاشی مراعات سے مشروط کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں نیٹو کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں اور ایک ایسا نظام وجود میں آ رہا ہے جسے پیسے دو، کھیل میں حصہ لو کہا جا سکتا ہے۔
یورپ کے لیے اس کا مطلب پیش گوئی کی صلاحیت اور اسٹریٹجک اعتماد کا خاتمہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے سلامتی کے وعدوں میں کمی، ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو کمزور کر رہی ہے اور یہ وہ صورتِ حال ہے جس سے روس فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد سے یورپی ممالک کو اپنے دفاع اور یوکرین کی تعمیرِ نو میں زیادہ سرمایہ کاری پر مجبور ہونا پڑا ہے، کیونکہ نیٹو اور امریکہ کی سلامتی ضمانتیں اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہیں۔
ایسی صورتحال میں، اپنی بازدار قوتوں کے بغیر یورپ کو اس خطرے کا سامنا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی نظام کا اگلا شکار بن جائے۔ جس اسٹریٹجک خودمختاری پر طویل عرصے سے بحث ہو رہی ہے، اس پر عمل درآمد کے لیے دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
اسی دوران، چین کے امریکہ کے فوجی حریف کے طور پر ابھرنے اور واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کی توجہ کے بڑھتے ہوئے انداز میں ہند۔بحرالکاہل خطے پر مرکوز ہونے کے ساتھ، یورپ کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی آزاد دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
امریکہ کے نقطۂ نظر سے یورپ کے مسائل بتدریج ثانوی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کا خاتمہ ایسے شرائط کے تحت جو امریکی پالیسی سے ہم آہنگ ہوں، واشنگٹن کے جغرافیائی اور معاشی مفادات کے تحفظ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان جاری طاقت کی کشمکش میں یورپ اب تک محض تماشائی بنا ہوا ہے۔ تاہم، اگر فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو یورپ کے لیے سب سے بڑا نقصان اٹھانے کا خطرہ موجود ہے۔ یورپی یونین برسوں سے سیاست، معیشت اور سلامتی کے میدان میں امریکہ سے خودمختاری کے اپنے اہداف پر زور دیتی آ رہی ہے۔
اس کے باوجود، علامتی مناظر، جیسے اعلیٰ یورپی سیاست دانوں کی جانب سے بظاہر امریکی مطالبات کو تسلیم کرنا، ایک خودمختار یورپ کی تصویر کو کمزور کر دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال طاقت کے عدم توازن کا تاثر پیدا کرتی ہے اور دیگر بڑی طاقتوں کے مقابلے میں یورپی یونین کی پوزیشن کو کمزور کر دیتی ہے۔
ایسے حالات میں جو کوئی بھی اس دنیا میں ایک عالمی کردار کے طور پر عمل کرنا چاہتا ہے جو سخت مفادات اور اثر و رسوخ کے دائروں کے تحت تشکیل پا رہی ہے، اسے نہ صرف خودمختاری کا اعلان کرنا ہوگا بلکہ عملی طور پر اس پر عمل بھی کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، طاقت کی زبان ایک کھوکھلا وعدہ ہی رہ جائے گی اور یورپ اپنی ساکھ اور اثر و رسوخ، حتیٰ کہ اپنے مستقبل پر بھی، ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
اگرچہ ماضی میں یورپی سیاست دان واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو ہم آہنگی اور رعایتوں کے ذریعے مستحکم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ اسٹریٹجک دستاویز واضح کرتی ہے کہ اس نوعیت کے پسپائی پر مبنی اشارے زیادہ سے زیادہ عارضی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پائیدار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
امریکی سلامتی دستاویز کو اثر و رسوخ کے دائروں کی ضمنی توثیق کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکہ براعظم امریکہ اور اس کے گرد و نواح میں قیادت کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ یورپ میں روس اور یورپی یونین کو معاملات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بدلے چین کو ایشیا کے مستقبل پر قابلِ ذکر اثر و رسوخ دینے کی اجازت دی جاتی ہے، بشرطیکہ یہ اثر و رسوخ قابلِ قبول حدود میں رہے۔
امریکی حکمتِ عملی بالواسطہ طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ بڑی طاقتوں کو اس وقت تک اپنے علاقوں پر غلبہ حاصل کرنے کی اجازت ہے جب تک مجموعی بین الاقوامی نظام مستحکم رہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا یورپی رہنماؤں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ: روسی عہدیدار
اس حکمتِ عملی میں، خاص طور پر ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ کو اس وقت تک برداشت کیا جاتا ہے جب تک وہ عالمی اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرے یا امریکہ کے بنیادی مفادات کو خطرے میں نہ ڈالے۔ یوں اس دستاویز میں طاقت کی سیاست کو بین الاقوامی تعلقات کا ایک ناگزیر عنصر، ایک حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ ایک مسئلے کے طور پر۔


مشہور خبریں۔
بجلی کی قیمت سے متعلق وزیر خزانہ کا اہم بیان
?️ 14 اکتوبر 2021واشنگٹن(سچ خبریں) وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجلی کی قیمتوں سے متعلق
اکتوبر
قومی اسمبلی میں فنانس بل 23-2022 کثرت رائے سے منظور
?️ 29 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)قومی اسمبلی نے مالی سال 23-2022 کے فنانس بل کی
جون
بحرین میں صیہونی اعلیٰ افسر کی مستقل تعیناتی
?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:تل ابیب اور منامہ کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر دستخط ہونے
فروری
ایسوسی ایٹڈ پریس کا غزہ میں بھوکے لوگوں کے قتل عام کا بیان
?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں انسانی امداد کی
جولائی
یورپی یونین کا پاکستان میں شہریوں کی فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر اظہار تشویش
?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں:یورپی یونین نے پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے 25
دسمبر
امریکہ کے پاس میزائلوں کی کافی کمی ہے: زیلینسکی
?️ 1 جون 2026 سچ خبریں:یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے آج اتوار کو سی
جون
سری لنکا میں امریکی سرمایہ کاری کا مقصد کیا ہے ؟
?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں:انٹرنیشنل فنانشل ڈویلپمنٹ کمپنی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ
نومبر
میانمار کی سربراہ کے خلاف فرد جرم عائد
?️ 3 فروری 2021سچ خبریں:میانمار میں سکیورٹی کی صورتحال کے بعد اس ملک کی پولیس
فروری