یورپی مشترکہ جنگی طیارے کا منصوبہ بحران کا شکار

یورپی مشترکہ جنگی طیارے کا منصوبہ بحران کا شکار

?️

یورپی مشترکہ جنگی طیارے کا منصوبہ بحران کا شکار

یورپی ممالک کے درمیان جدید جنگی طیارے بنانے کا مشترکہ منصوبہ، جسے "ایف سی اے ایس” (FCAS) کہا جاتا ہے، شدید اختلافات کے باعث خطرے میں پڑ گیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور اسپین کے درمیان اس منصوبے کی قیادت اور شیئرز کی تقسیم پر جاری تناؤ مستقبل میں اس منصوبے کی ممکنہ ناکامی کا اشارہ دے رہا ہے۔

جرمن جریدے دی سایت کے مطابق، فرانس کی بڑی ہوابازی کمپنی داسو ایوی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر شراکت دار ممالک نے واضح قیادت اور بہتر تنظیمی ڈھانچے پر اتفاق نہ کیا تو یہ منصوبہ ناکام ہو سکتا ہے۔

داسو کے سی ای او، اریک تراپیه نے کمپنی کی سالانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "فیصلہ سازی میں تاخیر اور شراکت داروں میں ہم آہنگی کی کمی منصوبے کو شدید متاثر کر رہی ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ معاملہ صرف کسی پارٹی کے الگ ہونے کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ آیا ہم آگے بڑھیں یا نہیں”۔

اریک تراپیه نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ داسو ایوی ایشن منصوبے پر 80 فیصد کنٹرول چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق، اسپین اور جرمنی، فرانسیسی کمپنی کی اس حد تک بالادستی کے خلاف ہیں، جس کی وجہ سے تنازعہ گہرا ہو رہا ہے۔

یہ اختلافات بدھ کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک مرتز کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آئیں گے۔ اگرچہ اس ملاقات کا مقصد رواں سال خزاں میں ہونے والے فرانکو-جرمن وزارتی اجلاس کی تیاری ہے، تاہم دفاعی صنعت میں دونوں ممالک کے تعاون پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

FCAS منصوبے کے تحت یورپ 2040 تک ایک نیا نسل کا لڑاکا طیارہ تیار کرنا چاہتا ہے جو جرمنی کے یوروفائٹر اور فرانس کے رافال طیاروں کا متبادل ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد یورپی دفاعی صنعت کو امریکی انحصار سے نکالنا اور نیٹو کے اندر یورپی خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔

فرانس، جرمنی اور اسپین اس منصوبے میں برابری کی بنیاد پر شریک ہیں۔ داسو ایوی ایشن (فرانس)، ایئربس (جرمنی) اور ایندرا (اسپین) تینوں کمپنیاں منصوبے کی قیادت کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی یورپی مشترکہ دفاعی منصوبے اکثر تخمینہ شدہ وقت اور بجٹ سے زیادہ طویل اور مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔ FCAS بھی اسی طرح کے خطرات سے دوچار ہے، خصوصاً جب تک شراکت دار ممالک قیادت اور ورک شیئرنگ پر متفق نہیں ہو جاتے۔

مشہور خبریں۔

پانچ سال بعد امریکہ کو پھر سے یونیسکو کی یاد آئی، وجہ؟

?️ 13 جولائی 2023سچ خبریں: امریکی میڈیا نے اعلان کیا کہ یہ ملک 5 سال

الازہر یونیورسٹی پاکستان میں اپنا کیمپس کھولے گی، مفتی اعظم مصر ڈاکٹر نذیر محمد عیاد

?️ 11 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) مصر کی الازہر یونیورسٹی پاکستان میں اپنا

ایران کے راکٹ شہر کے بارے میں عطوان کا تجزیہ

?️ 1 اپریل 2025سچ خبریں: علاقائی اخبار رای الیوم کے ایڈیٹر اور عرب دنیا کے

آرمی چیف کی یورپی یونین سفیر سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلۂ خیال

?️ 10 نومبر 2021راولپنڈی(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے یورپی یونین سفیر سے

ہمیں اپنی سرزمین پر کہیں بھی فوج تعینات کرنے کا حق ہے:روس

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے امریکی نائب وزیر خارجہ کے

شام کے حکمراں عناصر کا اس ملک کے آئین کے بارے میں اظہار خیال

?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کے سیاسی امور کے ترجمان یاسر الجندی نے اس ملک

امریکہ کثیر الجہتی تجارتی نظام کا سب سے بڑا تباہ کن 

?️ 12 اپریل 2025سچ خبریں: چین اور امریکہ کے درمیان باہمی محصولات پر حالیہ بڑھتی

جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد وارفیئر چلنا شروع ہوگئی جس کو بھارتی میڈیا لیڈ کر رہا تھا، ترجمان فوج

?️ 14 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے