?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر میزائل حملے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ایران کے ساتھ مذاکرات، نیٹو کے کردار اور یورپی ممالک کے رویے پر ان کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی۔
امریکی صدر نے میناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر ہونے والے میزائل حملے کے ردعمل میں دعویٰ کیا کہ انہیں ابھی تک اس واقعے کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی اور انہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔
الجزیرہ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ وہ اٹلی، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اسپین سے مایوس ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر یہ ممالک کم از کم ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
انہوں نے بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی اور مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو پہلے ہی ہفتے میں شکست دے دی تھی، تاہم اتحادی ممالک کی جانب سے تعاون کی خواہش کا اظہار ہونا بہتر ہوتا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ابتدا میں وہ نیٹو کے آئندہ اجلاس میں شرکت کے خواہش مند نہیں تھے، لیکن بعد میں انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل بہت اچھا آگے بڑھ رہا ہے اور واشنگٹن نے اس سلسلے میں قابل ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔
انہوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں ان کی ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور بہت اچھی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے امریکی کانگریس میں ہونے والی رائے شماری، خواہ وہ غیر پابند نوعیت کی ہی کیوں نہ ہو، مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی۔
امریکی صدر نے میناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر ہونے والے میزائل حملے کے بارے میں ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں ابھی تک اس واقعے کی رپورٹ نہیں ملی اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ آیا اس معاملے کا کوئی حل نکلے گا یا نہیں۔
انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے امریکی کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے واقعے کے وقت مختلف مقامات سے میزائل داغے جا رہے تھے اور یہ بہت بعید ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار امریکی میزائل ہوں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو اس بات کی تصدیق کرے کہ ایرانی اسکول پر حملہ امریکی میزائل کے نتیجے میں ہوا تھا۔
اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں ٹرمپ نے اپنی سیاسی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جن امیدواروں کی انہوں نے حمایت کی، ان میں سے بہت سے انتخابات میں کامیاب ہوئے اور یہی صورتحال کولمبیا میں بھی دیکھی گئی۔
انہوں نے برطانیہ کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے برطانوی وزیراعظم کے امیدوار حد سے زیادہ لبرل ہیں اور غالب امکان ہے کہ وہ بحیرہ شمالی میں تیل کی پیداوار کے منصوبوں کو وسعت دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے بھی ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات اہم تھے کیونکہ ایران جوہری صلاحیت کے حصول کے قریب پہنچ چکا تھا۔
روٹے نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران دہشت گردی اور عدم استحکام برآمد کرنے والا ملک ہے اور اگر وہ جوہری صلاحیت حاصل کر لیتا تو خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ اور امریکہ میں دفاعی پیداوار کی محدود صلاحیتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ یورپ میں فوجی اور دفاعی پیداوار میں اضافہ آئندہ نیٹو اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ہفتوں کے دوران تقریباً پانچ ہزار امریکی طیاروں نے یورپی اڈوں سے پروازیں کیں جبکہ امریکی ایندھن بردار طیاروں کی معاونت کے لیے رومانیہ کے شہر بخارسٹ کا ہوائی اڈہ بھی عارضی طور پر استعمال کیا گیا۔
روٹے نے کہا کہ دو ہفتوں کے اندر ہونے والے نیٹو اجلاس میں بیالیس ممالک شرکت کریں گے جن میں مشرق وسطیٰ اور ہند بحرالکاہل کے خطے کے نو ممالک بھی شامل ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
واپڈا اگلے سال دیامر بھاشا ڈیم پر ’آر سی سی‘ کا کام شروع کردے گا
?️ 10 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے اعلان
ستمبر
مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے دفاع کے لیے حماس اور اسلامی جہاد کا مطالبہ
?️ 6 جون 2024سچ خبریں: حماس اور اسلامی جہاد تحریک نے آج مبینہ فلیگ ڈے
جون
2022 میں سعودی ولی عہد کو درپیش چیلنجز
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں:سعودی عرب گزشتہ سال بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ ہو
جنوری
غزہ کی پٹی میں آباد کاری کے لیے انتہا پسند صہیونیوں کا نیا تصور
?️ 2 فروری 2024سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت اور مزاحمتی گروپوں کے درمیان
فروری
امریکی سیکریٹری دفاع بھارت دورے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوریت کی پامالی پر گفتگو کریں
?️ 19 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن بھارت کا دورہ کررہے
مارچ
امریکا کے ساتھ بڑھے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری علاقے کے لئے مفید ثابت ہو گی
?️ 14 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ملکی خبررساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق اسلام آباد
دسمبر
مزاحمت کو مزید متحد اورمضبوط ہونے کی ضرورت
?️ 8 دسمبر 2023سچ خبریں:یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد
دسمبر
امریکہ کیوں بغیر چوں چرا کے صیہونیوں کی حمایت کرتا ہے؟
?️ 24 اپریل 2024سچ خبریں: اگرچہ امریکہ غزہ کے خلاف جنگ میں صیہونی حکومت کا
اپریل