?️
سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورہ برطانیہ پارلیمان کی تعطیلات میں ہوگا، جس سے انہیں پارلیمان میں تقریر سے روکا جا رہا ہے،ماہرین اس اقدام کو سیاسی ہنگامہ آرائی اور احتجاجات سے بچنے کی تدبیر قرار دے رہے ہیں۔
برطانیہ کی حکومت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ لندن کے لیے ایسے ایام کا انتخاب کیا ہے جب برطانوی پارلیمان تعطیلات پر ہو گا۔ اس غیرمعمولی شیڈولنگ سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ حکومت برطانیہ جان بوجھ کر ٹرمپ کو پارلیمان میں خطاب سے روکنا چاہتی ہے،ایک ایسا اقدام جسے مبصرین ممکنہ تنازع اور احتجاجات سے بچنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اب تک حکومت کی جانب سے ٹرمپ کی پارلیمان میں تقریر کے لیے کسی قسم کی رسمی درخواست نہیں دی گئی ہے، برطانوی پارلیمان کے اسپیکر کے دفتر کے قریبی ذرائع کے مطابق، ایسی تقاریر رسمی طور پر کسی بھی سرکاری دورے میں خود بخود شامل نہیں ہوتیں۔
واضح رہے کہ مجلس عوام 25 ستمبر تا 6 اکتوبر سالانہ پارٹی کانفرنسز کے لیے تعطیل پر رہے گی، اور یہی وقفہ ٹرمپ کے ممکنہ سرکاری دورے کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ حکومت اس تعطیل کا فائدہ اٹھا کر ٹرمپ کو پارلیمان میں خطاب کا موقع دینے سے بچنا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اپنی پہلی صدارت کے دوران بھی پارلیمان میں خطاب نہ کر سکے تھے، اور اُس وقت کے اسپیکر جان برکو نے واضح طور پر اُن کی مخالفت کی تھی۔
اس دوران برطانیہ میں شہری حقوق کی تنظیموں نے بھی اس دورے پر اعتراضات اٹھائے ہیں، اسٹاپ ٹرمپ نامی مہم نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ٹرمپ کا سرکاری دورہ غالباً 16 تا 28 ستمبر کے درمیان ہوگا اور پارلیمان کی تعطیل کے دوران طے کیا گیا ہے تاکہ پارلیمانی خطاب سے بچا جا سکے، کیونکہ یہاں اُن کی مقبولیت بہت کم ہے۔
اگرچہ بکنگھم پیلس نے اب تک دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، لیکن خود ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے دورے کی منصوبہ بندی ستمبر (یا اکتوبر) میں کی جا رہی ہے، اطلاعات کے مطابق، بیشتر سرکاری تقریبات شاہی اقامت گاہ ونڈسر میں ہوں گی کیونکہ بکنگھم پیلس اس وقت مرمت کے مراحل میں ہے۔
ٹرمپ کی پارلیمان میں تقریر کے خلاف سیاسی حلقوں میں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں، لیبر پارٹی کی رکن کیت آزبورن نے اسپیکر کے نام خط میں ٹرمپ کو پارلیمان میں خطاب سے روکنے کا مطالبہ کیا، اُنہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو جمہوریت، مشرق وسطیٰ، مساوات اور یوکرین بحران کے حوالے سے تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے خطابات کو خودکار اعزاز نہ دیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، برطانوی حکومت اور شاہی خاندان نے یہ شیڈولنگ دانستہ طور پر اس لیے کی ہے تاکہ بظاہر سفارتی روایات بھی نبھائی جائیں اور ساتھ ہی اندرونی و بیرونی تناؤ اور مظاہروں سے بھی بچا جا سکے، سابق برطانوی سفیر لارڈ ریکٹس نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ پارلیمانی تعطیل کے دوران یہ دورہ ایک سفارتی حل ہو سکتا ہے تاکہ اس حساس معاملے سے آسانی سے نکلا جا سکے۔
یاد رہے کہ 2019ء میں اپنے سابقہ دورے کے موقع پر بھی ٹرمپ کو پارلیمان میں تقریر کی اجازت نہ مل سکی تھیجبکہ سابق صدر اوباما کو یہ اعزاز دیا گیا تھا،جو برطانیہ میں ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیوں کے عدم قبولیت کا عکاس سمجھا گیا تھا۔
اب بھی اندازہ یہی ہے کہ برطانیہ کی لیبر حکومت سیاسی شور اور عوامی احتجاجات سے بچنے کے لیے ٹرمپ کے دورے کو زیادہ لو-پروفائل اور محدود رکھنا چاہتی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بائیڈن کے استعفیٰ کے بعد ہیریس کی کارکردگی
?️ 16 اگست 2024سچ خبریں: کملا ہیرس، نائب صدر جو بائیڈن کے مہم کے دفتر
اگست
گوگل کی جانب سے متعدد نئے فیچرز میپس میں شامل کرنے کا اعلان
?️ 15 مارچ 2021واشنگٹن(سچ خبریں)صارفین کے لئے زیادہ سے زیادہ مواد پوسٹ کرنے کےلئے گوگل
مارچ
پی ٹی آئی اب عملی طور پر علیمہ خان کے کنٹرول میں چلی گئی۔ شیر افضل مروت
?️ 16 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا
دسمبر
ماسکو میں کار بم دھماکہ؛ روسی اعلیٰ فوجی افسر جاں بحق
?️ 26 اپریل 2025سچ خبریں:مشرقی ماسکو کے علاقے بالاشیخا میں ایک بم نصب کار کے
اپریل
یمنی حملے کے بعد بن گورین ایئرپورٹ پر 42 فیصد مسافروں کی کمی، عالمی پروازیں معطل
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:یمنی میزائل حملے کے بعد بین الاقوامی ایئرلائنز نے اسرائیل کے
مئی
کراچی سے ساہیوال آنے والی ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی
?️ 3 ستمبر 2021سکھر (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق کراچی سے ساہیوال آنے والی کارگو
ستمبر
برطانیہ پر سائبر حملوں کے سیلاب کا نیا ریکارڈ
?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:برطانوی حکومت کے ایک ادارے کے سروے سے پتہ چلتا ہے
نومبر
کیا دہشت گردی کا مقابلہ کرنا صرف فوج کا کام ہے؟وزیراعظم کی زبانی
?️ 25 جون 2024سچ خبریں: وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی
جون