?️
سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے قابض وزیر اعظم نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک وزیر کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے تل ابیب سے آہنی گنبد نظام کے روکنے والے میزائل حاصل کیے اور انہیں اپنی سرزمین پر نصب کیا ہے۔
صہیونی ذرائع ابلاغ نے پہلی بار ایک سرکاری وزیر کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ تل ابیب نے آہنی گنبد کے روکنے والے میزائل متحدہ عرب امارات کو فراہم کیے اور انہیں وہاں نصب کیا گیا۔
رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان غیر معمولی فوجی، سلامتی اور انٹیلی جنس تعاون کی بھی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
صہیونی اخبار معاریو نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ صہیونی حکومت کی مواصلات کی وزیر میری ریگیو نے متحدہ عرب امارات کو آہنی گنبد نظام بھیجے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اماراتیوں نے یہ محسوس کیا کہ بیلسٹک میزائل ان کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہیں، اسی لیے وہ ہم سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔
اخبار نے نشاندہی کی کہ اس وزیر کے بیانات پہلی بار کسی سرکاری صہیونی عہدیدار کی جانب سے ان اطلاعات کی تصدیق ہیں جو اس سے قبل متعدد مرتبہ صہیونی ذرائع ابلاغ میں متحدہ عرب امارات میں آہنی گنبد نظام کی تنصیب کے حوالے سے شائع ہو چکی تھیں۔
صہیونی ٹیلی وژن چینل 14 نے بھی اعلان کیا کہ ریگیو کے مطابق ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی جارحیت کے دوران اسرائیل نے آہنی گنبد نظام متحدہ عرب امارات منتقل کیا تھا۔
اسرائیلی ٹیلی وژن چینل 12 نے اکسیوس کی ایک رپورٹ کے حوالے سے، جو رواں سال کے آغاز میں دو صہیونی اور ایک امریکی عہدیدار کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھی، بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی دنوں میں تل ابیب نے آہنی گنبد فضائی دفاعی نظام اس کے عملیاتی عملے کے ساتھ متحدہ عرب امارات بھیجا تاکہ اسے فعال کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران صہیونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فوجی، سلامتی اور جاسوسی تعاون غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا تھا۔
ایک سینئر صہیونی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کے علاوہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تل ابیب نے آہنی گنبد نظام مقبوضہ علاقوں سے باہر کسی دوسرے ملک کو بھیجا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں صہیونی حکومت کے آہنی گنبد میزائل شکن نظام کی تنصیب کے باوجود، اس صہیونی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی جانب سے سب سے زیادہ میزائل حملوں کا سامنا متحدہ عرب امارات کو کرنا پڑا۔
صہیونی اور اماراتی حکام نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کے آغاز سے دونوں فریق فوجی اور سیاسی سطح پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر صہیونی اہلکاروں کی موجودگی خلیج فارس میں سیاسی اعتبار سے ایک حساس معاملہ بن سکتی ہے، جبکہ نیتن یاہو کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ فضائی دفاعی نظام کا اشتراک مقبوضہ علاقوں کے اندر بھی داخلی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
حسن نصراللہ کا سوشل میڈیا پر کوئی اکاؤنٹ نہیں
?️ 11 جولائی 2021سچ خبریں:تہران میں حزب اللہ کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا
جولائی
صیہونی جنگجوؤں نے مسجد الاقصی میں 42 فلسطینیوں کو زخمی کیا
?️ 29 اپریل 2022سچ خبریں: فلسطینی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ آج جمعہ
اپریل
ٹرمپ کی پالیسی امریکہ کو تقسیم کر دے گی: نیویارک ٹائمز
?️ 17 مارچ 2025 سچ خبریں:معروف امریکی صحافی توماس فریڈمین نے نیویارک ٹائمز میں شائع
مارچ
حکومت نے ای پاسپورٹ اور آن لائن پاسپورٹ تجدید کی سہولت کا آغاز کردیا
?️ 10 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے ای پاسپورٹ اور آن لائن پاسپورٹ
جون
سوزن وائلز وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف مقرر
?️ 8 نومبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو جنوری 2025 میں
نومبر
معاہدے کے پہلے مرحلے کے بعد غزہ جنگ بندی کی صورتحال
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے
اکتوبر
کلمبیا میں امریکی سفارت خانے پر ٹرمپ مخالفوں کا حملہ
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: بوگوتا کے میئر کارلوس فرنینڈو گیلان نے امریکی سفارت خانے پر
اکتوبر
ایران کے معاملے میں نیٹو اور یورپ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی: ٹرمپ
?️ 12 ستمبر 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن
ستمبر