?️
سچ خبریں:صیہونی فوج کے شعبۂ ترجمان میں کام کرنے والی سابق خاتون فوجی اہلکار آیلت کرویزر نے انکشاف کیا ہے کہ فوجی بیانات میں حقائق کو میڈیا کی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جاتا تھا اور بعض بے گناہ فلسطینیوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاتا تھا۔
فلسطینی نشریاتی ادارے القدس کے مطابق صیہونی فوج کے شعبۂ ترجمان میں خدمات انجام دینے والی سابق خاتون اہلکار آیلت کرویزر نے اعتراف کیا ہے کہ وہ خود بھی میڈیا کو فراہم کی جانے والی معلومات کی تفصیلات میں ردوبدل اور ان کی ترتیب میں تبدیلی کے عمل میں شریک رہی ہیں۔
کرویزر نے کہا کہ فوج کے شعبۂ ترجمان میں معلومات کو محض حقائق کے طور پر عوام تک پہنچانے کے بجائے فوج کے میڈیا مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی زمینی صورتِ حال کے بارے میں عوامی تاثر کو کنٹرول کرنے میں اس شعبے کا اہم کردار تھا۔
ان کے مطابق انہوں نے قریب سے دیکھا کہ کس طرح میڈیا کی حکمتِ عملی کے تحت حقائق کو تبدیل کیا جاتا یا مخصوص معلومات کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کا شعبۂ ترجمان ایک ایسے ادارے کے بجائے تعلقاتِ عامہ کی تنظیم کی طرح کام کرتا تھا جس کی بنیادی ذمہ داری عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہو۔
کرویزر نے اپنے پس منظر کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک مذہبی یہودی حریدی خاندان میں پلی بڑھی تھیں اور مذہبی وجوہات کی بنا پر فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھیں۔
تاہم تقریباً تین سال قبل جنگ کے دوران انہوں نے اپنی چھوٹ ختم کروا کر فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس وقت ان کا خیال تھا کہ وہ اسرائیل کے دفاع میں حصہ لے رہی ہیں، لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ فوجی خدمات کا تجربہ انہیں بالآخر صیہونی تنظیم بریکنگ دی سائیلنس تک لے جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ صیہونی معاشرے کے لیے تیار کیے جانے والے پیغامات کا بنیادی مقصد فوج پر عوامی اعتماد برقرار رکھنا تھا، جبکہ عوام کے جاننے کے حق کو ثانوی حیثیت دی جاتی تھی۔
دوسری جانب بین الاقوامی سامعین کے لیے فوجی کارروائیوں کا جواز اور عالمی سطح پر ان کی قبولیت حاصل کرنا بنیادی ہدف ہوتا تھا۔
کرویزر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی فوجی ملازمت کے دوران میڈیا کو فراہم کی جانے والی تفصیلات میں ردوبدل کیا اور دیکھا کہ کس طرح بے گناہ فلسطینیوں کے لیے بھی تخریب کار کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زیادہ جانی نقصان والے حملوں کی خبریں تیار کرنے کے بعد خودکار انداز میں یہ جملہ شامل کیا جاتا تھا کہ غیر متعلقہ افراد کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس ہے۔ ان کے مطابق یہ عبارت فوجی بیانات کا مستقل حصہ بن چکی تھی۔
کرویزر کا کہنا تھا کہ فوج میں ان کا تجربہ ذاتی عقائد اور عملی ذمہ داریوں کے درمیان تضاد کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی ظلم کے سامنے خاموش رہنے کی عادی نہیں تھیں، لیکن فوج میں انہیں ایسے اقدامات کے لیے تعلقاتِ عامہ کا کام کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ بریکنگ دی سائیلنس ایک صیہونی تنظیم ہے جس کی بنیاد 2004 میں الخلیل میں سابق فوجیوں کے ایک گروپ نے رکھی تھی۔ یہ تنظیم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی فوج کے طرزِ عمل سے متعلق سابق فوجیوں کی گواہیاں جمع اور شائع کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق وہ شائع کرنے سے پہلے موصول ہونے والی گواہیوں کا جائزہ لیتی اور انہیں دیگر معلومات سے ملاتی ہے۔


مشہور خبریں۔
لیاری واقعے کے ذمے داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ مراد علی شاہ
?️ 6 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ
جولائی
مائنس ون ہوا تو کوئی باقی رہے گا نہ حالات آپ کے کنٹرول میں آئیں گے: بیرسٹر گوہر
?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا
دسمبر
مقبوضہ فلسطین سے ہجرت کی لہر میں تیزی، 3 برس میں 270000 افراد کا انخلا؛صیہونی اخبار کا اعتراف
?️ 4 ستمبر 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار ہارٹیز نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ 3 برس
ستمبر
دوسروں کو بے وقوف بنا کر اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے ناکام امریکی کوشش
?️ 6 مارچ 2024سچ خبریں: 150 سے زائد دنوں سے امریکہ نے اسرائیلی حکومت کی
مارچ
جنین آپریشن میں اسرائیلی فوج کی بے بسی
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج کے خلاف جنین کے علاقے میں فلسطینی
جون
ایاز صادق کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، پارلیمانی تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جنیوا
جولائی
صیہونیوں کے دلوں میں بڑھتا دن بدن حزب اللہ کا خوف
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں:لبنانی حزب اللہ کی میزائل صلاحیت کے بارے میں اپنی گہری
جنوری
شام کے خلاف صیہونی دراندازی کا سلسلہ جاری
?️ 28 جون 2026سچ خبریں:شامی ذرائع نے خبر دی ہے کہ صہیونی حکومت نے ایک
جون