?️
سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے نئی قومی سلامتی حکمت عملی جاری کی، جس میں امریکہ کی عالمی موجودگی میں کمی، یورپی تہذیب کے خطرات، یوکرین کی جنگ، تائیوان کی دفاعی حکمت عملی، اور مشرق وسطیٰ میں استحکام پر زور دیا گیا ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی میں یورپ کی تہذیب کے مٹنے کے خطرے کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر امریکی موجودگی میں کمی اور خطرات پر توجہ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ٹیم میں تبدیلیاں؛ والٹز کا زوال اور حاشیے سے روبیو کا عروج
رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے وائٹ ہاؤس کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی کا مقصد امریکہ کی عالمی موجودگی میں ایڈجسٹمنٹ اور خطرات پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی بڑے پیمانے پر مہاجرت کے خاتمے کی بھی پابند ہے اور اس کا ہدف لاطینی امریکہ میں امریکی برتری کی بحالی ہے۔
حکمت عملی کے ایک اور حصے میں یورپی تہذیب کے مٹنے کے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا کے بوجھ کو اکیلے اٹھانے کا دور ختم ہو چکا ہے؛ اتحادی ممالک کو اپنی ذمہ داریاں خود ادا کرنی ہوں گی۔ یہ تصور کہ نیٹو کو لامحدود توسیع دی جا سکتی ہے، ختم ہونا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کی نئی حکمت عملی میں یوکرین کی جنگ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی اولین ترجیح یوکرین میں جنگ کا خاتمہ ہے، واشنگٹن، روس کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام کی بحالی کو یورپ میں اپنی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح سمجھتا ہے۔
ٹرمپ کی نئی حکمت عملی میں جاپان اور جنوبی کوریا سے کہا گیا ہے کہ وہ تائیوان کے دفاع میں زیادہ کردار ادا کریں، اس میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ تائیوان کے حوالے سے تصادم کی روک تھام کے لیے عسکری بازدارندگی اولین ترجیح ہے۔ امریکہ مغربی بحر الکاہل میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کرے گا اور دفاعی استحکام کے حصول کے لیے آسٹریلیا اور تائیوان کے ساتھ تعاون کرے گا۔ ہ
ند و بحر الکاہل کا خطہ اس صدی کی اہم جغرافیائی اور اقتصادی لڑائیوں کا مرکز ہوگا، اور امریکہ کو چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو صرف غیر اسٹریٹجک اشیاء تک محدود کرنا چاہیے۔
میڈیا نے وائٹ ہاؤس کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی کے مشرق وسطیٰ سے متعلق حصوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ کو اپنی خارجہ پالیسی کا غالب عامل نہیں سمجھتا۔
ہم کسی بھی دشمن طاقت کو مشرق وسطیٰ پر قبضے، وسائل یا گزرگاہوں کے کنٹرول، اور اس خطے میں ابدی جنگوں کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔
امریکہ کی حمایت، عرب ممالک، اسرائیل اور ترکی کے تعاون سے، شام خطے میں ایک مثبت اور لازمی کردار ادا کرنے والا ملک بن سکتا ہے اور اپنی قدرتی حیثیت بحال کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؛ یورپ کو امریکی ہتھیار خریدنے پر افسوس
اس حکمت عملی میں امریکہ کی علاقے میں جنگیں شروع کرنے اور غزہ میں فلسطینی نسل کشی میں اسرائیل کی حمایت کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ کہا گیا ہے: ٹرمپ کی قیادت میں حاصل ہونے والے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی بدولت مشرق وسطیٰ میں زیادہ پائیدار امن کی طرف پیش رفت ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے شراکت دار انتہا پسندی کے خلاف اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور یہ سلسلہ امریکی پالیسی کے تحت جاری رہنا چاہیے۔


مشہور خبریں۔
منسک: برکس میں مکمل رکنیت بیلاروس کی ترجیحات میں شامل
?️ 16 مئی 2026سچ خبریں: بیلاروس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ برکس
مئی
مینڈیٹ چور اقتدار میں بٹھائے جائیں تو انہیں بوٹ چاٹ کر چٹخارے لینے اور بے مغز بیانات داغنے کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا
?️ 9 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ) تحریک انصاف نے وزیر اعظم پر الزام
اکتوبر
بریکس کی توسیع عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کی علامت؛ چالیس ممالک کی شمولیت میں دلچسپی
?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:بریکس کے بانی نے بھارت میں کہا ہے کہ تقریباً چالیس
جولائی
حماس کو غیر مسلح کرنے کی ٹرمپ کی چال؛ امریکی ویب سائٹ کی زبانی
?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں:امریکی خبری ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت
نومبر
ترکی میں زلزلہ؛ حکومت نے 130 افراد کے گرفتاری وارنٹ جاری کئے
?️ 12 فروری 2023سچ خبریں:گزشتہ پیر کو آنے والے مہلک زلزلے کے چھ روز بعد
فروری
امریکی کمپنیوں کا خفیہ طور پر روس کے ساتھ کاروبار
?️ 30 اگست 2022سچ خبریں:ترکی کے ینی شفق اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے
اگست
شام کے سرحد ی اڈ ے پر امریکی فوجی ساز و سامان جاتا ہوا
?️ 27 جولائی 2022سچ خبریں: ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ کچھ امریکی فوجی
جولائی
اردن فسادات میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کردار
?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں:اردن میں حالیہ ہنگاموں اور مظاہروں میں اندرونی مسائل اور بیرونی
دسمبر