?️
سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی افریقہ کے صدر سیریل رامافوسا کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک پرکشیدہ ملاقات ہوئی جس میں ٹرمپ نے سفید فاموں کی نسل کشی اور زمینوں کی ضبطی جیسے بے بنیاد الزامات عائد کیے۔
روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی افریقہ کے صدر سیریل رامافوسا کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات ایک بار پھر کشیدگی اور تنازع کا باعث بنی،اس ملاقات میں ٹرمپ نے رامافوسا پر سفید فاموں کی نسل کشی اور زمینوں کی ضبطی کے حوالے سے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات اُس متنازعہ اور کشیدہ مباحثے کی یاد دلاتی ہے جو اس سے قبل فروری میں ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہوا تھا۔
رامافوسا اس امید کے ساتھ وائٹ ہاؤس آئے تھے کہ امریکہ کے ساتھ جنوبی افریقہ کے تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے، تاہم ٹرمپ نے اس سے قبل جنوبی افریقہ کی امداد روک دی تھی، متعدد سفید فام جنوبی افریقیوں کو امریکہ میں پناہ دی تھی اور جنوبی افریقہ کے سفیر کو ملک بدر بھی کیا تھا، اس کے علاوہ، ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کی اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے پر بھی سخت تنقید کی۔
جنوبی افریقی صدر اس ملاقات کے لیے تیار ہو کر آئے تھے اور انہوں نے اپنی ٹیم میں مشہور سفید فام گولفرز کو بھی شامل کیا تھا۔ رامافوسا کا کہنا تھا کہ وہ اس ملاقات میں تجارتی امور پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
امریکہ جنوبی افریقہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 30 فیصد درآمدی ٹیرف فی الحال معطل ہے۔
اس کے باوجود، ٹرمپ نے ملاقات کے دوران فوری طور پر سفید فام جنوبی افریقیوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر اعتراضات کا سلسلہ شروع کر دیا اور ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں سفید صلیبیں سفید فام مقتولین کی قبروں کی علامت کے طور پر دکھائی گئیں،اس کے ساتھ ہی، مخالف سیاست دانوں کی تقریروں کے کلپس بھی دکھائے گئے اور ٹرمپ نے ایک رہنما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر معروف امریکی-جنوبی افریقی بزنس مین ایلون مسک بھی ٹرمپ کے ساتھ تھے، جو خود بھی ماضی میں انہی سازشی نظریات کی حمایت کر چکے ہیں،ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں، ان کی زمینیں ضبط کی جا رہی ہیں اور انہیں مارا جا رہا ہے، ان کا یہ مؤقف دائیں بازو کے حلقوں میں عرصہ دراز سے گردش کرنے والی سازشی تھیوری پر مبنی ہے،جنوبی افریقہ، جس نے صدیوں تک نوآبادیاتی دور اور اپارتھائیڈ کے ظلم کا سامنا کیا، نے ٹرمپ کے ان الزامات کو قطعی طور پر رد کر دیا۔
جنوبی افریقہ نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکومت زمین کو بغیر معاوضہ ضبط کر سکتی ہے، پولیس کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں 26,232 قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں صرف 44 کیسز دیہی زرعی علاقوں سے متعلق تھے اور ان میں سے آٹھ مقتولین کسان تھے۔
رامافوسا نے ٹرمپ کے سامنے پُراعتماد انداز میں ان الزامات کو مسترد کیا، انہوں نے کمرے میں موجود معروف گولفرز ارنی الس اور ریتیف گوسن، نیز بزنس مین یوہان روپرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنوبی افریقہ میں واقعی سفید فام کسانوں کی نسل کشی ہو رہی ہوتی، تو یہ تینوں آج یہاں موجود نہ ہوتے۔
ٹرمپ نے رامافوسا کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا، اس موقع پر انہوں نے جنوبی افریقہ کے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں نسل کشی کے مقدمے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں اس کیس میں کسی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ہمارا سعودی عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،ریاض فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرئے:حماس
?️ 24 اگست 2021سچ خبریں:حماس کے سیاسی بیورو کے رکن نے کہا کہ اس تحریک
اگست
جنوب لبنان میں علی الطاہر کی بلندیوں پر صیہونیوں کے شدید حملے
?️ 16 اگست 2026سچ خبریں: لبنان کے جنوبی علاقوں میں صیہونی فوج کی جارحیت میں
اگست
ایران کے خلاف جنگ میں صہیونی حکومت کو سنگین اسٹریٹجک نقصان؛ صیہونی میڈیا کا اعتراف
?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے اپنی تجزیاتی رپورٹس میں اعتراف کیا ہے کہ
جولائی
مالدیپ نے اسرائیل کے خلاف بڑا قدم اٹھاکر نام نہاد اسلامی ممالک کو آئینہ دکھا دیا
?️ 29 مئی 2021مالدیپ (سچ خبریں) دہشت گرد ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ میں
مئی
کیا ترکی اور اسرائیل کے درمیان فوجی تصادم ہو سکتا ہے؛ ترکی کا کیا کہنا ہے؟
?️ 10 جولائی 2026سچ خبریں:ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ان
جولائی
تل ابیب پر حزب اللہ کے میزائل حملے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں: صیہونی میڈیا
?️ 23 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبری ذرائع ابلاغ نے حزب اللہ کی جانب سے تل
اکتوبر
جہنم میں خوش آمدید
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: صہیونی تنظیم بیتسلیم نے جہنم میں خوش آمدید کے عنوان
اگست
ایران بحرین تعلقات کے بارے میں امریکی سفارتکار کا اظہار خیال
?️ 14 جون 2023سچ خبریں:امریکی معاون وزیر خارجہ برائے مغربی ایشیائی امور نے کہا ہے
جون