طالبان افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں، امریکی خفیہ اداروں نے اہم انتباہ جاری کردیا

طالبان افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں، امریکی خفیہ اداروں نے اہم انتباہ جاری کردیا

?️

واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی خفیہ اداروں نے طالبان کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کبھی بھی افغانستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کے حالات مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے جوبائیڈن حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی دستوں کو متحارب فریقین کے مابین اقتدار تقسیم کرنے کے معاہدے کے بغیر واپس بلایا گیا تو 2 سے 3 سال کے عرصے میں طالبان افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس قسم کے ٹیک اوور سے افغانستان میں القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد ملے گی۔

امریکی صدر جو بائیڈن اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ کیا ساڑھے 3 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا جائے جو ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے میں طے کی تھی۔

امریکا اخبار نے لکھا کہ کچھ امریکی عہدیداران جو کہ افغانستان میں امریکی فوجی رکھنے کے حامی ہے وہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کو استعمال کر کے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوجیوں کو ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود ہونا چاہیے۔

دوسری جانب جو بائیڈن نے بھی وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوجیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے جس کے لیے اتحادی افواج کے بھی 7 ہزار فوجیوں کا انخلا درکار ہے۔

ساتھ ہی جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اگلے برس امریکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کا تصور نہیں کرسکتے۔

قبل ازیں طالبان نے کہا تھا کہ اگر غیر ملکی افواج ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں تو وہ ان کے خلاف حملے دوبارہ شروع کردیں گے جو امریکا طالبان معاہدے کے بعد روک دیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان رہنماؤں کے مابین مذاکرات کے طویل دور کے بعد فروری 2020 میں امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکا نے اپنی افواج کے انخلا جبکہ طالبان نے افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

اس معاہدے کے تحت طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ اقتدار کے سلسلے میں بھی مذاکرات کرنے تھے جو شروع ہونے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔

دوسری جانب رواں برس جنوری میں برسر اقتدار آنے والی امریکا کی نئی انتطامیہ نے معاہدے کا دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا.

ادھر طالبان نے واشنگٹن کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی آخری تاریخ سے متعلق معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

مشہور خبریں۔

خطیب عرفہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی علامت تھے: انصار اللہ

?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں:    یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالمالک

کور کمانڈرز کانفرنس میں نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد کا اظہار

?️ 18 اکتوبر 2022راولپنڈی: (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت

پاکستان چاہتا ہے افغان مسئلے کا سیاسی حل نکلے

?️ 29 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کےمطابق مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف

جمہوریت کی بحالی صرف آئین کی بالادستی سے ہو گی اور کوئی راستہ نہیں، شاہد خاقان عباسی

?️ 23 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان عوام پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی

نیٹو کی توسیع اور تیسری جنگ عظیم شروع ہونے کا امکان

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کی حالیہ صورتحال اور روس

آگ اور خون کے مناظر؛ بحری جہاز "میڈلین” غزہ کے پانیوں کے قریب پہنچ گیا

?️ 8 جون 2025سچ خبریں: جب بین الاقوامی کارکنوں کو لے جانے والا بحری جہاز

میں نے ایک تاریخی فتح حاصل کی:ٹرمپ

?️ 6 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی صدر نے انتخابات میں اپنی فتح کے باضابطہ اعلان سے

ظالمین کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟؛وینزوئلا کے واقعات سے سبق

?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں:وینزوئلا پر امریکی کارروائی اس بات کی واضح مثال ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے