?️
سچ خبریں:عراق میں نومبر 2025 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل، امریکہ نوجوان نسل Z کو ’’سول ڈپلومیسی‘‘ اور این جی اوز کے ذریعے ہدف بنا رہا ہے۔
تجزیوں کے مطابق واشنگٹن نوجوانوں کو تعلیم، تربیت اور ملازمت کے وعدوں کے ذریعے اپنی سیاسی و فکری سمت میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عراق کا مستقبل امریکی مفادات کے تابع ہو۔
عراق میں 11 نومبر 2025 کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات، ملک کے سیاسی مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، مگر موجودہ حالات میں سیاسی فضا انتہائی پیچیدہ اور چیلنجز سے بھری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بغداد میں امریکی سفارت خانہ ہے یا فساد و فحشا کا اڈا؟
2003 سے اب تک کے تمام عراقی حکومتوں کی ناکارکردگی، بدعنوانی اور عوامی خدمات کی کمی نے خاص طور پر نوجوان طبقے میں شدید مایوسی اور بے اعتمادی پیدا کی ہے، اس پس منظر میں، امریکہ نے سول ڈپلومیسی کے ہتھیار کے ذریعے انہی نوجوانوں کو اپنی نرم طاقت (Soft Power) کے تحت سیاسی طور پر متاثر کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔
عراق کے نوجوان؛ انتخابی معادلے کا نیا میدان
18 سے 39 سال کے نوجوان عراق کی 35 فیصد آبادی اور تقریباً 72 فیصد ووٹرز پر مشتمل ہیں۔ لیکن معاشی دباؤ، بے روزگاری اور حکومتی وعدوں کی عدم تکمیل نے ان میں سے ایک بڑی تعداد کو انتخابی عمل سے بدظن کر دیا ہے۔
یہی مایوسی کا خلا اب امریکی اثر و نفوذ کے لیے زرخیز میدان بن چکا ہے۔
تعلیمی مراکز اور این جی اوز کے ذریعے امریکی نرم طاقت
امریکہ نے عراق میں درجنوں تعلیمی، تربیتی اور غیرسرکاری ادارے (NGOs) قائم کیے ہیں — جیسے امریکی یونیورسٹی آف سلیمانیہ، بزنس اسکولز اور اسٹارٹ اپ ایکسلریٹرز — تاکہ نوجوانوں کو ’’مہارت یافتہ‘‘ بناتے ہوئے امریکی فکری سانچے میں ڈھالا جا سکے۔
یہ ادارے تجرباتی و عملی تربیت کے ذریعے طلبہ کو روزگار کے مواقع دیتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق:
- بغداد کے بزنس یونیورسٹی کے 80٪ فارغ التحصیل
- اور امریکی یونیورسٹی سلیمانیہ کے 87٪ فارغ التحصیل
براہِ راست ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ اعدادوشمار جہاں نوجوانوں کے لیے امید کا ذریعہ ہیں، وہیں تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی مفادات کے لیے افرادی قوت تیار کرنے کا ایک طریقہ بھی ہیں۔
امریکی حکمتِ عملی: اقتصادی نفوذ سے سیاسی کنٹرول تک
امریکی حکومت کی 2023 کی پالیسی دستاویز
Integrated Country Strategy (ICS) – Iraq
میں واضح کیا گیا ہے کہ عراق میں یہ سرگرمیاں دو سطحوں پر مقاصد رکھتی ہیں:
- اقتصادی سطح پر:
امریکی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ بنانا اور عراق کو امریکی مصنوعات کا نیا صارف بازار بنانا۔ - سیاسی سطح پر:
ایک نئی نسل تیار کرنا جو امریکی طرزِ سیاست، معیشت اور اقدار سے ہم آہنگ ہو۔
ایسے نوجوان لیڈر جو مستقبل میں نہ صرف واشنگٹن کے لیے سازگار فیصلے کریں بلکہ صہیونی مفادات کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوں۔
نتیجہ: امریکی اثر و رسوخ سے خطرہ، مقامی قیادت کا زوال
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حکمتِ عملی عراق کے موجودہ نظام کے لیے وجودی خطرہ ہے۔
اگر امریکی منصوبہ کامیاب ہوا تو آنے والے برسوں میں:
- مزاحمتی سوچ رکھنے والے رہنما عوامی حمایت کھو دیں گے،
- اور ان کی جگہ وہ نوجوان لیں گے جن کی سیاسی تربیت امریکی اداروں نے کی ہوگی۔
مزید پڑھیں: کیا عراق میں ہر امریکی سفیر کا یہی کام ہے؟
یوں عراق کا سیاسی مستقبل ایک نئے موڑ پر آ سکتا ہے —
جہاں نسل Z صرف ووٹر نہیں بلکہ امریکی اثر کی نئی بنیاد بن جائے گی۔


مشہور خبریں۔
پرتگال میں ہزاروں اساتذہ کا مظاہرہ
?️ 13 فروری 2023سچ خبریں:پرتگال کے دارالحکومت میں دسیوں ہزار اساتذہ کم تنخواہوں کے خلاف
فروری
دمشق کے جنوب میں صیہونی فضائیہ حملے میں 3 شامی اہلکار شہید
?️ 21 مئی 2022سچ خبریں: عرب میڈیا نے ہفتے کی صبح خبر دی ہے کہ
مئی
سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے ایلچی کی رپورٹ
?️ 14 فروری 2026 سچ خبریں:یمنی حکومت کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابو راس نے
فروری
کیا تیسری عالمی جنگ ہونے والی ہے؟فرانسیسی میگزین کا اظہار خیال
?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: ایک فرانسیسی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ فرانس کی
ستمبر
عراقی انتخابی نتائج کا تجزیہ اور مستقبل کی پارلیمنٹ میں مزاحمت کا کردار
?️ 15 نومبر 2025سچ خبریں: حالیہ پارلیمانی انتخابات میں عراقی عوام کی بھرپور شرکت اور
نومبر
کم اثر اور کمزور؛ ٹرمپ کے ساتھ نیتن یاہو کی ملاقات پر وال سٹریٹ کا بیان
?️ 29 جولائی 2026سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ
جولائی
عمران خان کو توہین عدالت کیس میں 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا
?️ 23 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو
اگست
اگر ضرورت پڑی تو افغانستان میں داعش کو نشانہ بنائیں گے: امریکہ
?️ 15 فروری 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے روسی حکام کے
فروری