?️
سچ خبریں:غزہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے جنگ بندی معاہدے کے صرف 30 فیصد وعدوں پر عمل کیا، جبکہ امدادی سامان، ایندھن اور خوراک کی ترسیل محدود کر کے غزہ کا محاصرہ مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔
غزہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے صرف تیس فیصد حصے پر عمل کیا ہے، جبکہ یہ حکومت مسلسل غزہ کے محاصرے کو مزید سخت بنا رہی ہے۔
فلسطین مرکز اطلاعات کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں فلسطینی حکومت کے میڈیا دفتر نے کہا ہے کہ صہیونی قابض حکومت انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کی تعداد کم کر کے اور ایندھن کی ترسیل محدود کر کے براہِ راست غزہ پر دباؤ اور محاصرے میں اضافہ کر رہی ہے۔
دفتر نے پندرہ سے اکیس مئی کے دوران غزہ کی گذرگاہوں اور تجارتی راستوں کی صورتحال پر اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا کہ غزہ آنے والے ٹرکوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ رفح گذرگاہ کے ذریعے مسافروں کی آمد و رفت بھی شدید پابندیوں کا شکار رہی۔
رپورٹ کے مطابق رفح گذرگاہ پر مجموعی طور پر صرف ۴۰۳ افراد کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جن میں ۲۴۹ افراد غزہ سے باہر گئے جبکہ ۱۵۴ افراد غزہ میں داخل ہوئے۔ حالانکہ طے شدہ معاہدے کے مطابق تقریباً ۱۴۰۰ افراد کی آمد و رفت ہونا چاہیے تھی، لیکن اس وعدے پر عمل درآمد صرف ۲۸ فیصد رہا۔
رپورٹ میں زور دے کر کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار غزہ میں شہریوں کی نقل و حرکت پر مسلسل سخت پابندیوں اور سفر کی آزادی میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سامان اور انسانی امداد کی ترسیل سے متعلق حصے میں بتایا گیا کہ غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی مجموعی تعداد ۱۲۸۷ رہی، جبکہ منصوبے کے مطابق ۴۲۰۰ ٹرک پہنچنے چاہیے تھے۔ اس طرح امدادی ٹرکوں کی ترسیل کا تناسب صرف تقریباً ۳۰ فیصد رہا۔
ان ٹرکوں میں ۵۵۹ تجارتی سامان، ۶۹۳ انسانی امداد اور ۳۵ ایندھن بردار ٹرک شامل تھے۔ درآمد کیے گئے ایندھن میں سے ۷ ٹرک گیس اور ۲۸ ٹرک ڈیزل امدادی اور خدماتی اداروں کے لیے مختص کیے گئے، جو غزہ میں شدید توانائی بحران کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابہ کے بیان کا حوالہ دیا گیا، جنہوں نے کہا کہ اکتوبر ۲۰۲۵ میں جنگ بندی کے آغاز سے اب تک غزہ کی ضرورت کے ۱۳۱ ہزار ۴۰۰ ٹرکوں میں سے صرف ۴۸ ہزار ۶۳۶ ٹرک ہی داخل ہو سکے ہیں۔
ان کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد کی شرح صرف ۳۷ فیصد رہی، جبکہ غزہ کے عوام کی ۶۳ فیصد سے زائد بنیادی ضروریات کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسی سلسلے میں غزہ میں سماجی تنظیموں کے اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ غذائی اور امدادی سامان کی ترسیل میں مسلسل کمی اور ٹرکوں کی محدود تعداد دراصل قطرہ قطرہ امداد کی پالیسی ہے، جو ان کے بقول غزہ میں انسانی بحران اور بھوک کو منظم انداز میں بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امدادی اداروں خصوصاً عالمی غذائی پروگرام کے لیے ضروری خام مال کی ترسیل روکنے کے باعث غزہ میں خوراک کی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روزانہ فراہم کیے جانے والے کھانوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ سے کم ہو کر صرف دو لاکھ کے قریب رہ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امدادی مراکز اور اجتماعی باورچی خانوں کے لیے خام اشیا کی شدید قلت ہے۔


مشہور خبریں۔
عالمی برادری نے ہمارے ساتھ منافقانہ اور نسل پرستانہ سلوک کیا ہے: فلسطینی کارکنان
?️ 7 مارچ 2022سچ خبریں: غاصب صیہونی حکومت کے مقبوضہ علاقوں پر کھلے حملے کے
مارچ
صیہونی فوج کی شام کی سرحدوں کے قریب نقل و حرکت کے بارے میں متضاد دعوے
?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: عرب میڈیا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج
اکتوبر
چیف جسٹس کی سندھ حکومت پر شدید تنقید
?️ 14 جون 2021کراچی ( سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان نے کراچی کے مسائل سے
جون
امریکی فوجیوں کی بغداد سے کردستان علاقے کی طرف اچانک نقل و حرکت
?️ 7 جون 2025سچ خبریں: عراق کے ایک سیاسی اتحاد کے رکن نے امریکی فوجیوں
جون
لندن بھاگے ہوئے سیاستدانوں کو واپس لاوں گا
?️ 20 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پشاور میں کم لاگت فیملی فلیٹس تقسیم کرنے
مئی
وزیراعظم کی چینی ہم منصب سے ملاقات، سی پیک فیز ٹو اور 5 نئے کوریڈورز قائم کرنے کا فیصلہ
?️ 4 ستمبر 2025بیجنگ: (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف نے بیجنگ میں چینی ہم منصب لی
ستمبر
مغربی کنارے میں صیہونیوں کے ہاتھوں گیارہ فلسطینی شہری گرفتار
?️ 25 فروری 2021سچ خبریں:اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی معاندانہ کاروائیاں جاری رکھتے
فروری
صیہونیوں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں مسجد کی توہین
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں: فلسطین کے وزیر اوقاف اور مذہبی امور نے مغربی کنارے
دسمبر